رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا ! جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو یہ دعا کرو اگر تم رات میں مرگئے تو فطر ت پر یعنی دین اسلام مر و گے اور صبح کو زندہ اٹھے تو ثواب ملے گا ۔
*اللَّهُمَّ أَسلَمتُ نَفسِي إِلَيكَ، وَفَوَّضتُ أَمرِي إِلَيكَ*
*وَوَجَّهتُ وَجهِي إِلَيكَ، وَأَلجَأتُ ظَهرِي إِلَيكَ*
*رَغبَةً وَرَهبَةً إِلَيكَ، لاَ مَلجَأَ وَلاَ مَنجَا مِنكَ إِلاَّ إِلَيكَ*
*آمَنتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنزَلتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرسَلتَ*
اے اللہ ! میں نے اپنی جان تیرے سپر د کر دی اور اپنا رخ تیری طرف موڑدیا اور اپنا معاملہ تیرے سپر د کر دیا اور تیری پناہ لی ، تیری طرف رغبت کی وجہ سے اور تجھ سے ڈر کر ۔ تیرے سوا کوئی پنا ہ اور نجات کی جگہ نہیں میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے نبی پر ایمان لایا جو تو نے بھیجے
صحیح بخاری جلد ٨ ، ٧٤٨٨
'Abdur-Rahman bin Abi-Bakrah (RA) narrated from his father that a man said: "O Messenger of Allah (ﷺ)! Which of the people is the best?" He said: "He whose life is long and his deeds are good." He said: "Then which of the people is the worst?" He said: "He whose life is long and his deeds are bad."
(Jami` at-Tirmidhi 2330, Vol. 4, Book 10, Hadith 2330)
ہسپتال میں داخل ہونے والے اکثر مریضوں کو پیشاب والی نالی (فولیز کیتھیٹر) ڈالی جاتی ہے۔
اکثر سرکاری و پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی یہ نالی کوئی تربیت یافتہ شخص نہیں بلکہ او ٹی اے یا کہیں کہیں وارڈ سویپر بھی ڈال رہے ہوتے ہیں۔ جو جونیئر ڈاکٹر ڈالتے ہیں ان میں بھی نوّے فیصد کو اس کے ڈالنے کا ٹھیک طریقہ معلوم نہیں۔
اگر سو فیصد ٹھیک طریقے سے بھی یہ نالی ڈالیں تو ہر دن کے ساتھ پیشاب کی انفیکشن (یو ٹی آئی) کے امکان میں دس فیصد اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
ہسپتال میں ہونے والی 75% فیصد یو ٹی آئی براہ راست اس کیتھیٹر کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
اس کا ڈالنے کاصحیح طریقہ یہ ہے کہ نالی یوں جانی چاہیے کہ پیکٹ سے نکلنے سے لے کر پیشاب والی جگہ میں جانے تک کسی گندی (non-sterile) چیز کے ساتھ یہ چھونی نہیں چاہیے۔ مزید یہ کہ ضرورت ختم ہوتے ہی اسے جلد نکلوانے کا بندوبست کرنا چاہیے تاکہ اندر کم سے کم وقت رہے۔
ہمارے ہسپتالوں میں ہسپتال کی صفائی کرنے والے، دیگر چھوٹے ملازم اپنے گندے مندے ہاتھ جو اکثر دھونے تک کی زحمت نہیں ہوتی، ان سے یہ نالی ڈالتے ہیں۔ بلکہ ڈالنے سے قبل اچھی طرح اپنے ہاتھوں سے پوری نالی کو جیل لگا کر لُبریکیشن اور انفیکشن دونوں کا مناسب بندوبست بھی کرتے ہیں۔ بدنیت جونیئر ڈاکٹر ٹھیک طریقے سے ڈالنا سیکھنے اور اپلائی کرنے سے گریزاں ہیں اور نکمے نا اہل سینیئر سکھانے اور سُپر ویژن کی ذمہ داری سے چالُو ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ یو ٹی آئی کی شرح ہسپتالوں میں ہوشربا حد تک ملتی ہے۔
پورے پروٹوکول کو فالو نہیں کر سکتے تو کم از کم جو ہو سکے وہ لازمی کریں۔ عوام الناس سے التماس ہے کہ اپنے مریضوں کو کبھی خواہ مخواہ نالی ڈلوانے یا ٹیکے لگوانے کی ضد نہ کریں، جہاں شدید ضرورت پڑے وہاں لازمی نالی کو جراثیم سے پاک طریقے پر ڈالنے پر اصرار کریں تاکہ سسٹم ٹھیک ہو سکے
ڈاکٹر خرم، یورالوجسٹ
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نےحضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے انکی وفات کےمرض کے دوران فرمایا:
"اے ابوعبد اللہ! ہمیں کوئی ایسی نصیحت فرمائیےجسے ہم آپکےبعد مشعلِ راہ بنا سکیں؟"
تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اے سعد!
جب تم کسی کام کا ارادہ کرو، تو اللہ کو یاد رکھو،
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں
"بندہ اپنے ایمان اور اللہ تعالیٰ سے اپنی محبت کو نماز جیسے کامل ترازو کے بغیر کسی اور چیز سے نہیں تول سکتا؛ کیونکہ نماز ہی وہ عادلانہ ترازو ہے جس کا ناپ تول کبھی غلط یا غیر منصفانہ نہیں ہوتا۔"
(طريق الهجرتين لابن القيم: 1/308)
*حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب خندق کھودی گئی تو میں نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بھوکا پایا۔
میں اپنی بیوی کے پاس آیا،
اور پوچھا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟
اس نے ایک تھیلا نکالا ،
جس میں ایک صاع جو تھے،
اور ہمارے پاس ایک بکری کا بچہ پلا ہوا تھا،
میں نے اسے ذبح کیا،
اور میری بیوی نے آٹا پیسا،
میں نے اس کا گوشت کاٹ کر ہانڈی میں ڈالا اس کے بعد میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس لوٹا
بیوی نے کہا کہ
آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کے سامنے مجھے رسوا نہ کرنا-"
( یعنی زیادہ آدمیوں کی دعوت نہ کردینا)
جب میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو چپکے سے عرض کیا: "
یا رسول اللّٰہ ہم نے ایک بکری کابچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جو کا آٹا ہمارے پاس تھا، وہ تیار کیا ہے۔
تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم چند لوگوں کے ساتھ تشریف لے چلئے
یہ سن کر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نےپکارا اور فرمایا: "اے خندق والوں جابر نے تمہاری دعوت کی ہے۔
لہذا چلو ، اور
آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا! میرے آنے تک ہانڈی نہ اتارنا ،
اور نہ گوندھے ہوئے آٹے کی روٹی پکانا
چنانچہ میں وہاں سے آیا، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے
اور آپ صلی اللّٰہ سب لوگوں کے ساتھ آگے تھے،
میں اپنی بیوی کے پاس آیا وہ بولی !"تمہاری ہی فضیحت و رسوائی ہوگی۔ میں نے کہا ، میں نے وہ ہی کیا جو تونے کہا تھا
بلآخر اس نے گوندھا ہواآٹا نکالا
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس میں لعابِ دهن ملا دیا، اور برکت کی دعا کی ، پھر ہانڈی میں لعابِ دهن ملايا۔ اس کے بعد فرمایا، ایک روٹی پکانے والے کو اور بلا لو جو میرے ساتھ روٹی پکائے۔ اور ہانڈی سے سالن نکالو، مگر اس کواوپر سے نہ اتارنا
حضرت جابرؓ رضی اللّٰہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس وقت حاضرین ایک ہزار تھے اور میں خدا کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ سب نے کھایا،
یہاں تک کہ چھوڑ دیا اور لوٹ گئے، اور ہماری ہانڈی کا وہی حالتھا کہ ابل رہی تھی
اور آٹا بھی اسی طرح تھا،
اس کی روٹیاں پک رہی تھیں
صحیح المسلم۔ کتاب الاشربہ۔ حدیث نمبر۔ 612.
منقول
The more a believer sends peace and blessings upon the prophet [Pbuh] sincerely, the greater their hope of being among those nearest to him on the Day of Judgment.
It reminds us that saying “Allahumma ṣalli ‘ala Muhammad” is not just a phrase on the tongue, it is an act of love, remembrance, and connection to the Messenger of Allah ﷺ.
A Qattat is someone who carries people’s words from one person to another with the intention of causing trouble, damaging relationships, or creating hostility.
This is a serious warning against gossip and tale-bearing. A believer should guard their tongue, protect people’s secrets, and seek to reconcile hearts rather than divide them.
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
کسی مسلمان کے اندر الله کی راہ میں اڑنے والا غبار اور جہنم کا دھواں (دونوں) جمع نہیں ہو سکتے.
ماجہ 2774
(نسائی 3114، 3112، 3116؛ ترمذی 1633؛ بیہقی 18508؛ ابی شیبہ 19846؛ مشکوٰۃ 3828)
عبدالله بن مبارک ؒ نے اچھے اخلاق کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
هُوَ بَسْطُ الْوَجْهِ، وَبَذْلُ الْمَعْرُوفِ، وَكَفُّ الْأَذَى
اچھا اخلاق،
(1) چہرے کی کشادگی (مسکراہٹ)،
(2) بھلائی کا دینا، اور
(3) کسی کو تکلیف (اذیت) دینے سے باز رہنا ہے.
ترمذی 2005
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
جس شخص کے قدم الله کی راہ میں غبار آلود ہوگئے، الله تعالیٰ اُسے دوزخ پر حرام کر دے گا.
بخاری 907
(بخاری 2811؛ ترمذی 1632؛ نسائی 3118؛ مسند احمد 15010، 16031؛ دارمی 2442؛ ابی شیبہ 19733؛ بیہقی 5876؛ مشکوٰۃ 3794)
ہمارے جغادری مولویوں نے ساری زندگی یہی بتایا کہ جیسی عوام ویسے حکمران جبکہ مولانا اسحاق مرحوم اللہ غریق رحمت کرے بتا رہے ہیں کہ یہ سب جھوٹ ہے
مدلل گفتگو اس موضوع پر ہر کسی کو سنوائیں اپنے گردونواح میں
🇺🇸🇮🇱 76-year-old Hollywood Jewish Israeli producer Herschel Weingrod was caught having lunch with a random 15-year-old child.
Just a few weeks later, he fled the country to israel.
ایک وہ وقت بھی تھا،
"جب دوکاندار کے پاس کھوٹا سکا چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ سمجھا جاتا تھا۔
یہ ان دنوں کا ذکر ہے،
"جب ماسٹر اگر بچے کو مارتا تھا تو بچہ گھر آکر اپنے باپ کو نہیں بتاتا تھا، اور اگر بتاتا تو باپ اْسے ایک اور تھپڑ رسید کردیتا تھا۔"
یہ وہ دور تھا،
"جب اکیڈمی کا کوئی تصّور نہ تھا اور ٹیوشن پڑھنے والے بچے نکمے شمار ہوتے تھے۔"
" جب بڑے بھائیوں کے کپڑے چھوٹے بھائیوں کے استعمال میں آتے تھے اور یہ کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی تھی۔"
جب لڑائی کے موقع پر کوئی ہتھیار نہیں نکالتا تھا، صرف اتنا کہنا کافی ہوتا ’’میں تمہارے ابا جی سے شکایت کروں گا۔‘‘ یہ سنتے ہی اکثر مخالف فریق کا خون خشک ہوجاتا تھا۔
"اْس وقت کے اباجی بھی کمال کے تھے، صبح سویرے فجر کے وقت کڑکدار آواز میں سب کو نماز کے لیے اٹھا دیا کرتے تھے۔بے طلب عبادتیں کرنا ہر گھرکا معمول تھا۔"
"کسی گھر میں مہمان آجاتا تو اِردگرد کے ہمسائے حسرت بھری نظروں سے اْس گھر کودیکھنے لگتے اور فرمائشیں کی جاتیں کہ ، مہمانوں کو ہمارے گھر بھی لے کر آئیں۔جس گھر میں مہمان آتا تھا، وہاں رضائیوں والی پیٹی میں رکھے، فینائل کی خوشبو میں بسے بستر نکالے جاتے ، خوش آمدید اور شعروں کی کڑھائی والے تکئے رکھے جاتے ۔ مہمان کے لیے دھلا ہوا تولیہ لٹکایا جاتااورغسل خانے میں نئے صابن کی ٹکیا رکھی جاتی تھی۔"
"جس دن مہمان نے رخصت ہونا ہوتا تھا، سارے گھر والوں کی آنکھوں میں اداسی کے آنسو ہوتے تھے۔ مہمان جاتے ہوئے کسی چھوٹے بچے کو دس روپے کا نوٹ پکڑانے کی کوشش کرتا تو پورا گھر اس پر احتجاج کرتے ہوئے نوٹ واپس کرنے میں لگ جاتا ، تاہم مہمان بہرصورت یہ نوٹ دے کر ہی جاتا۔"
"شادی بیاہوں میں سارا محلہ شریک ہوتا تھا۔ شادی غمی میں آنے جانے کے لیے ایک جوڑا کپڑوں کا علیحدہ سے رکھا جاتا تھا جو اِسی موقع پر استعمال میں لایا جاتا تھا۔ جس گھر میں شادی ہوتی تھی اْن کے مہمان اکثر محلے کے دیگر گھروں میں ٹھہرائے جاتے تھے۔ محلے کی جس لڑکی کی شادی ہوتی تھی بعد میں پورا محلہ باری باری میاں بیوی کی دعوت کرتا تھا۔"
"کبھی کسی نے اپنا عقیدہ کسی پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی، کبھی کافر کافر کے نعرے نہیں لگے، سب کا رونا ہنسنا سانجھا تھا، سب کے دْکھ ایک جیسے تھے ۔"
"نہ کوئی غریب تھا نہ کوئی امیر ، سب خوشحال تھے۔ کسی کسی گھر میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ہوتا تھا اور سارے محلے کے بچے وہیں جاکر ڈرامے دیکھتے تھے۔"
"دوکاندار کے پاس کھوٹا سکا چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ سمجھا جاتا۔
…کاش پھر وہ دن لوٹ آئیں"