دس سالہ فائز دل کی پیچیدہ بیماری میں مبتلا ھے، اس کے ماں باپ اور دوست مگر ہار ماننے کو تیار نہیں، چند برس پہلے پاکستان کے کچھ اہل ثروت لوگوں کی جانب سے خطیر ڈونیشن کے سبب بوسٹن امریکا سے فائز کی ایک طویل سرجری ہوئی، زندگی بچ گئی۔۔ لیکن اسے ایک بار پھر بوسٹن سے ایک اور سرجری کی ضرورت ھے۔ پاکستان بھر میں علاج ممکن نہیں۔
آپ سب سے گزارش ھے کہ فائز کی مدد کریں۔
مزید معلومات کیلئے آپ فائز کے والدین سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
0092-3214988290
آواز دروں —•—
پی ٹی آئ کے قائد عمران خان کی الشفا ھسپتال منتقلی اور انکی
ھمشیرہ و ڈاکٹر کی ان سے ملاقات کا عدالتی فیصلہ خوش آئند ھے
اس فیصلے سے عدلیہ کا کھویا ھوا وقار بحال ھو گا ،
سچ یہ ھے کہ اس فیصلے سے میرے دل کا بوجھ کچھ کم ھوا ھے ۔۔ برسات کی حبس زدہ رُت میں یہ فیصلہ ٹھنڈی ھوا کا جھونکا ھے ۔۔
اس فیصلہ پر معزز جج صاحبان مبارکباد کے مستحق ھیں ، اگر اسمیں ریاستی منشا شامل ھے تو اسے بھی سراھا جانا چاھئیے ۔۔۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت اور زندگی انتہائ اھم ھیں ، اسپر کوئ سمجھوتہ نہیں ھونا چاھئیے ، انکی جماعت اور اھل خانہ کو بھی اس حوالہ سے آئیندہ محتاط اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاھئیے ۔۔ انکا ذمہ دارانہ رویہ اگلے راستے کھُلنے کی صورت متعین کرسکتا ھے ۔۔
ھم پہلے بھی ان صفحات پر عمران خان صاحب کے اھل ِ خانہ کی ملاقاتوں پر پابندی کے خاتمے اور انکی مرضی کے ڈاکٹرز تک انکی رسائ کے حق میں آواز بلند کرتے رھے ھیں
ھماری اطلاعات کے مطابق حکومت نے انکے علاج کیلئے ماھر ڈاکٹرز مامور کیے رکھے ھیں اور علاج معالجہ میں اپنے تئیں کوئ کمی نہیں کی لیکن جیلیں بھگتنے والے جانتے ھیں کہ کوئ بھی شخص اتنا طویل عرصہ قید تنہائ میں رکھا جائیگا تو اسکی صحت متاثر ھوۓ بغیر نہیں رہ سکتی
جیل اپنے قیدی کو کسی نہ کسی بیماری کا تحفہ ضرور دیتی ھے ، یہ آپ بیتی بھی اور جگ بیتی بھی ۔۔۔
اگر قیدی آپکا سیاسی مخالف ھو تو اسکی حفاظت اور حقوق کی ادائیگی اشد ضروری ھو جاتی ھے
بہتر ھوتا کہ حکومت یہ فیصلہ خود کرتی بہر حال دیر آید درست آید کے مصداق اب فریقین ذمہ داری کا مظاھرہ کریں اور عمران خان صاحب کیلئے آسانی کا معاملہ پیدا ھونے دیا جاۓ
ڈاکٹر یاسمین راشد ، اعجاز چوھدری ، عمر چیمہ ، میاں محمود الرشید سمیت PTI کے باقی اسیران بھی ایسی توجہ کے حقدار ھیں
اس موقع پر طعنہ زنی ، گالی گلوچ اور انکے دور ِ اقتدار کی سختیاں یاد کرنیکے یا دھرانے کی قطعاً کوئ ضرورت نہیں ھے !!!
Shame on you and your ilk. Just stand by what you did. You didn’t just get out you attacked the party which got you some stardom out of scratch that you were. You were a nobody. Many others also chose to side ways because of pressure. Some showed grace in doing that. You and your ilk did not. So stop behaving like a victim. And don’t pretend to be saviours of IK as his party doesn’t accept you and sees you as stooges which you are. So Pl don’t demean yourself and insult the intelligence of not just PTI but people at large. You chose a path so stick with it. Hypocrite!!
پاکستان کے پاس سینیٹر مشتاق احمد کی صورت میں ایک ایسا ہیرا موجود ہے جو ہر مظلوم کی آواز بن کر کھڑا ہوتا ہے
آزاد کشمیر میں جب انہیں داخل ہونے سے روک دیا گیا تو انہوں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا اور کشمیر میں داخل ہونے کے لیے جدوجہد کی
برا نہ مانیے گا لیکن اگر ان کی جگہ سلمان اکرم راجہ بیرسٹر گوہر محمود خان اچکزئی یا کوئی بھی دوسرا رہنما ہوتا تو شاید یہاں ایک ویڈیو بناتا اور واپس آ جاتا
اگر آپ کو بھارت میں سونم وانگچک کی مزاحمت اتنی ہی پسند ہے تو یاد رکھیے کہ یہ پاکستان کا سونم وانگچک ہے
یہ وہ شخص ہے جس کے پیچھے آج ہمیں کھڑے ہونے اور اس کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے
علی محمد خان کا قد سوا چھ فٹ سے نکلتا ہے۔ رنگ اناروں جیسا سرخ ہے۔ بال اس قدر سلیقے سے تراشے ہوئے کہ کسی فلمی ہیرو کا گمان ہوتا ہے۔ ہر کوئی وزیراعظم بننے سے رہا علی محمد خان نے سیاست کی معراج دیکھ رکھی ہے۔ لگاتار ایم این اے بن جانا ، وفاقی وزیر ہوجانا ، پورے ملک میں شناخت بن جانا ہی سیاست کا عروج ہوا۔ اتنا وقت سیاست میں گزارنے کے بعد علی محمد فن تقریر سے بخوبی آشنا ہے۔ نہ فمبل کرتا ہے نہ اٹکتا ہے ، نہ لہجے میں کوئی علاقائی چھاپ آتی ہے۔ ولایت پلٹ ایل ایل ایم بھی اپنے ساتھ بیرسٹر لکھتے ہیں ، صرف امتحان پاس کرکے باقی منازل طے کیے بغیر بھی خود کو بیرسٹر ہی کہتے ہیں۔ معلوم نہیں علی محمد کس کیٹگری والا بیرسٹر ہے لیکن بہرحال بیرسٹر ضرور ہے۔ یعنی یہاں بھی ایکسپوژر تو کچھ نا کچھ ہوا۔
پھر سیاستدانوں کی ایک کیٹگری وہ ہوتی ہے جو اچانک دولت کے زور سے یا پھر کسی حادثے کی وجہ سے یا اپنے کسی سابقہ عہدے کی وجہ سے سیاست میں آجاتے ہیں۔ وہ تمام جتن کرکے بھی خود کو خاندانی سیاستدان یا خاندانی رئیس قرار نہیں دے پاتے اور ان کا احساس کمتری کہیں نا کہیں جھلکتا رہتا ہے۔ علی محمد خان کے خاندان کے لوگ اگر ملکی سطح نا سہی اپنے علاقے کی حد تک جانے پہچانے لوگ ہیں۔ یعنی علی محمد خان کو قدرت کی جانب سے پریمیم سبسکرپشن والا ایک مکمل پیکج ملا۔
نوازشوں کا یہ سلسلہ رکا نہیں۔ رجیم چینج کی رات علی محمد خان کی ایک تقریر نے ریٹنگ کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ علی محمد خان اور قاسم خان سوری رجیم چینج کے وقت ہیرو بن کر ابھرے۔ چھوٹے شہروں کی ریلیوں میں انہیں سننے سینکڑوں ہزاروں لوگ پہنچتے۔
پھر حالات نے پلٹا کھایا۔ اب آزمائش کا وقت تھا۔ مشکلات اور سختیاں تھیں۔ فریق دو ہی تھے۔ ایک عمران خان اور دوسرا اسکو شکست دینے کے درپے طاقتیں۔ قدرت نے فیصلے کا اختیار علی محمد کی سوجھ بوجھ کو دیا۔ علی محمد خان ہر روز عمران خان کو شکست دینے کی کوششیں کرنے والوں کیساتھ کھڑا نظر آیا۔ معلوم نہیں لالچ ہے یا دباؤ ، سختیوں سے بچنے کی کوشش ہے یا بیچارہ تھا ہی یہی کچھ ، ہر روز کی ذلت ، ہر روز کی رسوائی۔ نشستیں فارم سینتالیس پر بھی مل جاتی ہیں۔ وزارتیں بھی مل جاتی ہیں۔ سیاستدان کی عزت وہ ہے جو عوام کے دل میں ہوتی ہے۔ علی محمد اس سے محروم ہوچکا۔
ہمارا شہر رحیم یار خان کارٹن ایریا تھا لیکن اسے مخدوموں اور چوہدریوں نے برباد کردیا، ملک احمد خان ٹھیک بات کر رہے ہیں مگر اس ظلم میں اس کی اپنی جماعت کے لوگ بھی برابر کے شریک ہیں۔۔
مریم نواز کو علماء کرام کا 25 ہزار کا وظیفہ نہیں لگانا چاہیے تھا میں اس کی سخت مخالفت کرتا ہوں
آپ نے دینداروں کو کلاس فور کا ملازم بنا دیا جب آپ دینداروں کو کلاس فور کا ملازم بنا دیں گے تو وہ حق گوئی چھوڑ دیں گے
عابد رضاء کو ٹلہ صدر مسلم لیگ ن گوجرانوالہ ڈویژن