Mehmood Khan Achakzai and Allama Raja Nasir Abbas are extremely respectable to me. They are pro-democracy and principled individuals. I am surprised that their notification has not yet been issued. I direct Pakistan Tehreek-e-Insaf’s parliamentary group to protest this matter before the Speaker and Chairman Senate so that their notification as Leader of the Opposition may be issued. Moreover, for any movement against the existing system, PTI must fully comply with any call issued by Tehreek Tahaffuz-e-Ayeen Pakistan.
I hereby dissolve the PTI Political Committee. The party’s Secretary-General, Salman Akram Raja, has full authority to constitute a new, concise committee that will devise political strategy and ensure its implementation.
I nominate Shahid Khattak as Pakistan Tehreek-e-Insaf’s Parliamentary Leader in the National Assembly.
In the Pakistan Bar elections, PTI must unite to fully support those candidates nominated by Salman Akram Raja and Hamid Khan. In Khyber Pakhtunkhwa, the matters of the lawyers, the bars and the ILF shall be reviewed personally by Sohail Afridi, who will take whatever decisions are necessary for improvement.
Agriculture is the backbone of our economy, and its current state is alarming. The way the rights of farmers are being plundered is extremely regrettable.”
Conversation with his sister by the unjustly imprisoned former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, after one month of solitary confinement in Adiala Jail (December 2, 2025) 2/2
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے قوم کے نام اہم پیغام
“آٹھ فروری کو آپ کا مینڈیٹ چرایا گیا لہذا اس روز کو بطور یوم سیاہ منانے کے لیے آپ سب کو نکلنا ہو گا۔
کسانوں، مزدوروں، وکلاء اور ملک کے ہر مکتبہ فکر سے منسلک افراد کو 8 فروری کو نکل کر اپنے حق پر ڈالے گئے ننگے ڈاکے کے خلاف احتجاج کرنا ہو گا کیونکہ غلام قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا اور غلامی سے نجات کے لیے جدوجہد ضروری ہوتی ہے ۔
آٹھ فروری کو اس قوم کا مینڈیٹ چرا کر ملک کو اندھیروں میں دھکیلا گیا۔ پاکستانی قوم نے تمام تر مشکلات کے باوجود جوق در جوق نکل کر تحریک انصاف کے حق میں ووٹ ڈالا مگر آپ کے ووٹ کو پیروں تلے روند کر جمہوریت پر شب خون مارا گیا۔ ملک میں جمہوریت کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔
اوورسیز پاکستانی جمہوریت کی بحالی تک ترسیلات زر میں کمی لا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں-
جمہوریت بچانے کے لیے انصاف ناگزیر ہے، 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کا ہمارا مطالبہ اسی لیے ہے تاکہ ان واقعات کے متاثرہ افراد اور خاندانوں کو انصاف مل سکے۔ انصاف دینے کے لیے اخلاقی جرأَت کا ہونا اہم ہے۔ جہاں اخلاقی قوت موجود ہو گی وہاں انصاف بھی ہو گا۔ ایک حقیقی لیڈر میں اخلاقی قوت موجود ہوتی ہے۔ جمہوریت کی بنیاد ہی اخلاقیات پر ہے۔ موجودہ حکومت اخلاقیات سے بالکل عاری ہے کیونکہ انھوں نے اپنے ہینڈلرز کے ساتھ مل کر تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ مار کر عوام کو ان کے نمائندگان چننے کے حق سے محروم کیا۔ اس ڈاکے کی پردہ پوشی کے لیے مسلسل جعلی اور نا مکمل پارلیمان کے ذریعے قانون سازی کی جا رہی ہے تاکہ حق اور سچ سامنے نہ آئے اور ان کے جھوٹے اقتدار کو طول ملتا رہے۔ ملک میں آئین کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں، آزادی اظہار رائے پر پابندی ہے، پیکا جیسے قوانین منظور کیے گئے ہیں تاکہ کوئی ان کی فسطائیت کے خلاف آواز نہ اٹھا سکے، الیکٹرانک میڈیا کے بعد سوشل میڈیا پر پابندی لگا کر ملک کو اربوں کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے، 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے پر کاٹ دئیے گئے ہیں، ججز پر دباؤ ڈالا گیا اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جا رہی ہے۔ پر امن سیاسی کارکنان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔
خفیہ اداروں کا اصل کام سرحدوں کا تحفظ اور دہشتگردی سے بچاؤ ہے، اگر وہ پولیٹیکل انجنئیرنگ اور تحریک انصاف کو توڑنے میں ہی لگے رہیں گے تو سرحدوں کا تحفظ کون کرے گا؟
بلوچستان میں دہشتگردی پنپ رہی ہے اور وہاں کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل نہیں نکال رہا۔ بلوچستان سمیت ملک بھر میں جب تک عوامی اعتماد پر مشتمل حکومت نہیں لائی جائے گی، استحکام ممکن نہیں ہے”
عدالتی احکامات کے مطابق آج اڈیالہ جیل میں عمران خان کی اپنی بہنوں سے ملاقات طے ہے!
اب اگر یہ ملاقات روکی گئی، تو ملاقات روکنے والے اور اس کا حکم دینے والے دونوں غدار ہیں!
بریکنگ نیوز 🚨شہزاد اکبر صاحب کا تہکہ خیر انکشاف 🔥🔥
علی ڈار تک ہی معاملے کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے پیچھے اصل مجرم اور ہے جس کی پردہ پوشی کررہے ہیں۔ گیم بڑی ہے، ن لیگ بری طرح سے پھنس چکی ہے. بڑے بڑے لوگ اس سارے گند میں ملوث ہیں۔
میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔
پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنان کو 5 اگست کے بعد، 14 اگست کو بھی ملک بھر میں نکلنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ حالیہ احتجاجی تحریک کے نتیجے میں ہوئی گرفتاریاں ہوں یا 9 مئی فالس فلیگ پر کینگرو کورٹس کی غیرمنصفانہ سزائیں، یہ فسطائیت ہے مگر اس سب کے باوجود آپ نے کسی صورت حوصلہ نہیں ہارنا۔ ظلم و بربریت کے اس طوفان کے سامنے ڈٹ جانا ہے۔ میں خود اس جیل کی کال کوٹھڑی میں قید رہ کر بھی اپنی قوم کی حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہوں، اور جب تک اپنی قوم کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد نہیں کروا لیتا، اسی طرح ڈٹ کر کھڑا رہوں گا۔
مجھ پر ایک بار پھر مکمل طور پر قید تنہائی نافذ کر دی گئی ہے۔ اہل خانہ اور وکلا سے بھی ملاقات بند کروا دی گئی ہے۔ جبکہ بیرونی دنیا اور حالاتِ حاضرہ سے بے خبر رکھنے کے لئے ہر ذریعہ معلومات، چاہے وہ ٹی وی ہو یا اخبار، مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ یہی غیرانسانی سلوک بشریٰ بی بی کے ساتھ بھی روا رکھا جا رہا ہے-ہماری ملاقات بھی بند کروا دی جاتی ہے- میرے اہل خانہ کی طرف سے بھیجی گئی درجنوں کتابوں میں سے گزشتہ دو ماہ میں صرف چار کتابیں فراہم کی گئیں، باقی سب ضبط کر لی گئیں۔ ذاتی ڈاکٹر تک رسائی بھی طویل عرصے سے بند ہے تاکہ صحت کا میرا بنیادی انسانی حق بھی سلب کر لیا جائے۔
ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ یاد رکھیں! اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا-
ملک بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے- اس مشکل وقت میں تمام قوم کو بڑھ چڑھ کر ریسکیو اینڈ ریلیف مہم کا حصہ بننا چاہیے-“
چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کا اپنی قانونی ٹیم سے ملاقات کے دوران پیغام (19-08-2025)
سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف کو کھلا خط۔۔
“فوج بھی میری ہے اور ملک بھی میرا ہے!!
ہمارے فوجی پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہو لیکن افسوسناک امر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کی وجہ سے فوج اور عوام میں خلیج دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔
اس کی کچھ بنیادی وجوہات ہیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تا کہ عوام اور فوج کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے اور فوج کی بدنامی کو کم کیا جا سکے۔
سب سے بڑی وجہ 2024 کے انتخابات میں تاریخی دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ کی سر عام چوری ہے جس نے عوام کے غصے کو ابھارا ہے۔ جس انداز میں ایجنسیاں پری پول دھاندلی اور نتائج کنٹرول کرنے کے لیے سیاسی انجینئرنگ میں ملوث رہیں اس نے قوم کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔ صرف 17 نشستیں جیتنے والی پارٹی کو اقتدار دے کر “اردلی حکومت” ملک پر مسلط کر دی گئی-
دوسری وجہ چھبیسویں آئینی ترمیم ہے۔ جس طرح چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی غرض سے ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں اس کے خلاف پاکستانی عوام میں شدید نفرت پائی جا رہی ہے۔ میرے مقدمات "پاکٹ ججز" کے پاس لگانے کے لیے ناصر جاوید رانا نے فیصلے کو ملتوی کیا۔ عدالتوں میں جاری "کورٹ پیکنگ" کا مقصد یہی ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمات من پسند ججز کے پاس لگا کر اپنی مرضی کے فیصلے لیے جا سکیں۔ اس سب کا مقصد میرے خلاف مقدمات میں من پسند فیصلے، انسانی حقوق کی پامالی اور انتخابی فراڈ کی پردہ پوشی ہے تا کہ عدلیہ میں کوئی شفاف فیصلے دینے والا نہ ہو۔
تیسری وجہ "پیکا" جیسا کالا قانون ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر پہلے ہی قبضہ کیا جا چکا ہے، اب پیکا کی صورت میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے۔ اس سب کی وجہ سے پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس بھی خطرے میں ہے۔ انٹرنیٹ میں خلل کی وجہ سے ہماری آئی ٹی انڈسٹری کو 1.72 بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے اور نوجوانوں کا کیرئیر تباہ ہو رہا ہے۔
چوتھی اہم وجہ ملک کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت پر ریاستی دہشتگردی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ہمارے لیڈران اور کارکنان کی چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد چھاپے مارے گئے، 20 ہزار سے زائد ورکرز اور سپورٹرز کی گرفتاریاں کی گئیں، انہیں اغوا کیا گیا، لوگوں کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا اور تحریک انصاف کو کچلنے کی غرض سے مسلسل انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے جس نے عوامی جذبات کو مجروح کیا ہے۔
پانچویں بڑی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی بدولت معیشت کا برا حال ہے جس نے عوام کو مجبور کر دیا ہے اور وہ پاکستان چھوڑ کر اپنے سرمائے سمیت تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ معاشی عدم استحکام اپنی انتہا پر ہے۔ گروتھ ریٹ صفر ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ کسی بھی ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدل کے بغیر سرمایہ کاری ممکن نہیں ہوتی۔ جہاں دہشتگردی کا خوف ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ سرمایہ کاری صرف تب آتی ہے جب ملک میں عوامی امنگوں کی ترجمان حکومت قائم ہو اس کے علاوہ سب کلیے بے کار ہیں۔
چھٹی بڑی وجہ تمام اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انتقام کی غرض سے تحریک انصاف کو کچلنے کا کام کرنا ہے۔ میجر، کرنل سطح کے افراد کی جانب سے عدالتی احکامات کی دھجیاں بکھیرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پوری فوج پر نزلہ گر رہا ہے۔ پرسوں اے ٹی سی کے جج نے عدالت میں میری اہلیہ کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا اس کے باوجود کے وہ آنا چاہتی تھیں کسی نادیدہ قوت نے اس کو سبوتاژ کیا۔
بحیثیت سابق وزیراعظم میرا کام اس قوم کی بہتری کے لیے ان مسائل کی نشاندہی ہے جس کی وجہ سے فوج مسلسل بدنامی کا شکار ہو رہی ہے۔ میری پالیسی پہلے دن سے ایک ہی ہے یعنی فوج بھی میری اور ملک بھی میرا۔ ملکی استحکام اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان کی خلیج کم ہو، اور اس بڑھتی خلیج کو کم کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے، اور وہ ہے فوج کا اپنی آئینی حدود میں واپس جانا، سیاست سے خود کو علیحدہ کرنا اور اپنی معین کردہ ذمہ داریاں پوری کرنا، اور یہ کام فوج کو خود کرنا ہو گا ورنہ یہی بڑھتی خلیج قومی سلامتی کی اصلاح میں فالٹ لائنز بن جائیں گی۔”
پاکستان کی عوام نکلتی ہی نہیں پاکستان میں عوام کو 484 روپے پٹرول کر کے دیکھ لیا کوئی نکلتا ہی نہیں اتنا خوف کا عالم ہے وجہ پنجاب میں CCD پیرا فورس، پولیس سب کا بے لگام ہونا ہے ۔
صدیق جان
علیمہ خان کی اہم گفتگو 🚨
ہمیں مخبری ملی کہ ایک بہن اندر جائے گی عمران خان سے ملاقات کے لئے اور جب وہ باہر آ کر عمران خان کا پیغام دے گی تو اسے بہانہ بنا کر عمران خان کو پھر سے چھ مہینوں کے لئے قید تنہائی میں ڈال دینگے