سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کی بشری بی بی قید تنہائی کیس میں پورٹ " ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ اور لیڈی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بھی معمول میں ان کی قید کی جگہ کا دورہ کرتی ہیں باقاعدگی سے ملاقات اور گفتگو کرتی رہتی ہیں بشری بی بی کے لیے دو خواتین وارڈر ہر وقت تعینات ہیں، جو مقررہ مینو کے مطابق روزانہ تین وقت کا کھانا تیار کرتی ہیں یہی خواتین وارڈر بشری بی بی کی روزمرہ ضروریات کا بھی خیال رکھتی ہیں اور تقریباً پورا دن ان کے ساتھ موجود رہتی ہیں بشری بی بی کو قدرتی روشنی اور تازہ ہوا کی سہولت بھی حاصل ہے جیل مینوئل کے مطابق بشری بی بی کی رازداری کا بھی مکمل خیال رکھا جاتا ہے بشری بی بی کو صبح لاک اپ کھلنے سے لے کر شام لاک اپ بند ہونے تک آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہے بشری بی بی دن بھر اپنی مرضی کے مطابق کچھ بھی کر سکتی ہیں بشری بی بی کی حراست کی جگہ محفوظ اور پُرامن ہے، جہاں جیل کا عملہ مناسب انتظامات کے ساتھ تعینات ہے میں اور خواتین ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ حفاظتی انتظامات کا باقاعدگی سے جائزہ لیتی رہتی ہیں بشری بی بی کو جیل مینوئل کے مطابق ہر منگل اپنے شوہر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت بھی حاصل ہے بشری بی بی کی حراستی اور رہائشی سہولیات مناسب اور اطمینان بخش ہیں بشری بی بی کو قید تنہائی میں رکھنے کا کوئی عنصر موجود نہیں، لہٰذا یہ تاثر بے بنیاد ہے اڈیالہ جیل یا پاکستان کے کسی بھی جیل نظام میں ایسی تنہائی کی قید کا کوئی وجود نہیں بشری بی بی کو قید تنہائی میں رکھنے کے حوالے سے اعتراضات محض مفروضوں پر مبنی ہیں حقیقت سے کوئی تعلق نہیں بشری بی بی کی بیٹی کی درخواست بے بنیاد قرار دے کر مسترد کی جائے "
ستائیس ستمبر کو ان شاء اللہ تعالی اسلام آباد کا رُخ کریں گے۔ہمارے کچھ مطالبات ہیں کہ عمران خان صاحب کو انصاف ملے۔اگر عدالتیں مفلوج نہ ہوتیں عمران خان انصاف کرتے تو عمران خان صاحب آدھے گھنٹے میں جیل سے باہر ہوتے۔ہمیں انصاف چاہئے بھیک نہیں چاہئے ہمیں ہمارا لیڈر چاہئے اور وہ بھی انصاف کے ساتھ۔
پہلا مطالبہ عمران خان صاحب اور بشری بی بی صاحبہ کے تمام مطالبات انصاف کے ساتھ سنے جائیں۔
دوسرا مطالبہ عمران خان کی ملاقاتوں اور ڈاکٹرز تک رسائی، علاج پر لگے تمام پابندیاں ختم کی جائیں۔
وزیراعلی سہیل آفریدی
#KhanIllegallyJailed3Years
جنگ جب ہوتی ہے تو لوگ گانے بناتے ہیں میمز بناتے ہیں جنگ کے دوران گانے بنانے کی کوئی تک بنتی ہے ؟
لیکن ہر معاشرے کا کوئی بھی شہری ہو وہ اپنے اپنے طریقے سے احتجاج ریکارڈ کرواتا ہے ۔
"آج آپ سے ایک وعدہ لینا ہے،ہم جہاں بھی گئے یہی مطالبہ تھا کہ ہمیں ڈی چوک دوبارہ جانا ہے لیکن آپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ آج چیف منسٹر صاحب جو بھی اعلان کرے گا،جس دن کا وہ اعلان کرے گا،آپ نے اس کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔
آپ نے اپنے ایم پی اے ایم این ایز کے لیے نہیں نکلنا عمران خان کے لیے نکلنا ہے۔ اور نظر رکھنی ہے کون ہے جو عمران خان کے نام پر فائدے اٹھا رہا لیکن احتجاج پر نہیں نکلا ۔ @JunaidAkbarMNA
بلوچستان میں ریاست، آئی ایس آئی اور 'ڈیتھ اسکواد' کے گٹھ جوڑ کا پردہ فاش: سنسنی خیز آڈیو لیک منظرِ عام پر
کوئٹہ: بلوچستان میں پاکستان آرمی اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی سرپرستی میں چلنے والے بدنامِ زمانہ 'ڈیتھ اسکواد' کے بھیانک کردار سے متعلق ایک اور سنسنی خیز آڈیو لیک منظر عام پر آ گئی ہے، جس نے ریاستی پالیسیوں کا ننگا سچ دنیا کے سامنے لا کر رکھ دیا ہے۔
لیک ہونے والی آڈیو کے سنسنی خیز انکشافات:
مجرموں کی پشت پناہی: پاک فوج کے افسران پولیس جیسے اداروں کو محض کٹھ پتلی کے طور پر استعمال کر کے اپنے ان پالے ہوئے مجرموں کو حراست سے چھڑواتے ہیں۔
دماغی غسل اور ہدایات: آڈیو میں گفتگو سے صاف ظاہر ہے کہ کس طرح ان ڈیتھ اسکواد کے سرغناؤں کی ذہن سازی کی جاتی ہے اور انہیں مخصوص مقاصد کے لیے اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا پابند بنایا جاتا ہے۔
کروڑوں روپے کے خونی فنڈز: گفتگو میں کروڑوں روپے کے لین دین کا ذکر ہے۔ یہ سوال روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایک معمولی میجر کے پاس اتنی خطیر رقم کہاں سے آتی ہے؟ یہ تمام تر فنڈنگ بلوچستان کے حالات خراب کرنے اور بلوچوں کے قتلِ عام کے لیے ان ڈیتھ اسکوادز کو فراہم کی جاتی ہے۔
پردے کے پیچھے سے قتل و غارت: ریاست خود سامنے آئے بغیر اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے، ماورائے عدالت قتل اور جبر کے لیے ان بدنامِ زمانہ مجرمانہ گروہوں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔
منظر عام پر آنے والی اس آڈیو ریکارڈنگ میں واضح طور پر سنا جا سکتا ہے کہ شفیق مینگل سے قبل 'ڈیتھ اسکواد' کی سربراہی کرنے والے بدنامِ زمانہ حافظ کبیر اور پاک فوج کے میجر کامران کے درمیان کس طرح کھلم کھلا سودے بازی اور احکامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ یہ آڈیو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ یہ ڈیتھ اسکوادز راست طور پر آئی ایس آئی اور پاکستان آرمی کے ماتحت اور ان کے اشاروں پر کام کرتے ہیں۔
یہ آڈیو لیک اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بلوچستان میں بدامنی، اغوا کاری اور ناہق قتل کے اصل ذمہ دار کون ہیں۔
یہ ملک ناپرساں ہے، یہاں کوئی تحقیقات نہیں ہوگی اور بلوچوں کی نسل کشی ہو رہی ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں
#Balochistan #StopBalochGenocide #FreeBalochistan
تحریک انصاف کے خلاف لاہور میں کریک ڈاؤن کے دوران پولیس نے آج ٹی وی کے کورٹ رپورٹر ناطق ریحان کو بدترین تشدد کرتے گرفتار کرلیا۔۔۔ مریم صفدر جانتی ہے اسے عوام شدید ناپسند کرتے ہیں اور اسے لاہور یا پنجاب کے کسی شہر سے ووٹ نہیں ملے، تو بدلہ لینا تو بنتا ہے۔
اگر ہمارے حقوق ہیں تو پاکستان کے لیے ہمارے فرائض بھی ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر بتا رہے تھے ریاست کہ جو ریاست کے خلاف کھڑا ہو گا غدار ہوگا، تو میں انہیں بتا دیتی ہوں کہ ریاست کہتے کس کو ہیں۔ ریاست یہ عوام ہے۔ ریاست تنخواہ دار ادارے نہیں ہوتے، ریاست عوام ہوتی ہے۔ علیمہ خان کا کوہاٹ میں کارکنوں سے خطاب
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan #ImranKhan #AleemaKhan
@Aleema_KhanPK
اس حکومت نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے میرا ایک ارب روپے مالیت کا پلازہ گرا دیا،
میرا تمام کاروبار آج کے دن تک سیل کیا ہوا ہے،
لیکن میں نے قرآن پر حلف لیا ہوا ہے کہ عمران خان کا ساتھ آخری سانس تک دوں گا، عادل خان بازئی
سینے پہ گولی کھائیں گے
انقلاب لائیں گے
اپنے نعروں سے نوجوانوں کا لہو گرمانے والا قائداعظم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا طالبعلم اسامہ جمیل فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن گیا 💔
اٹارنی جنرل کے گھر پولیس گھسنے کے واقعے سے افسوس ہوا چادر چار دیواری کا تقدس ایسے کسی کو بھی پامال نہیں ہونا چاہیے ذمہ داروں کو سزا بھی ملنی چاہیے
لیکن یہ واقعہ ایک مائنڈ سیٹ کی بھی عکاس کرتا ہے جس طرح مخالفین کے خلاف شتر بے مہار پولیس کو استعمال کیا گیا اب ان کو بھی سیاہ سفید کی پہچان ختم ہو گئی ہے
ابھی یہ اٹارنی جنرل ہیں تو ایکشن ہو گیا وگرنا عام آدمی ہوتا ہے تو پولیس اب تک آئی گئی کر چکی ہوتی
14 مئی بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جین زی کو کاکروچ کہہ پکارتے ہیں 20 مئی انسٹاگرام پر طنزیہ انداز میں کاکروچ جنتا پارٹی کا پیج بنتا ہے دیکھتے ہی دیکھتے اس کے فالورز کانگریس اور بی جے پی سے بھی زیادہ ہو جاتے ہیں پھر پیپر لیک اسکینڈل پر احتجاج شروع ہوتا ہے بیس روز بعد پولیس دھاوا بولتی ہے احتجاج بڑھ جاتا ہے پھر مودی حکومت گھٹنے ٹیک دیتی ہے وزیر تعلیم کو استعفی دینا پڑ ہی گیا
نتیجہ : جین زی کو ہلکا نا لیں