Pakistan is bhikaari saar 🗣️
Oh really?
Let’s look at some actual numbers:
World Press Freedom Index 2026
🇵🇰 Pakistan — 153
🇮🇳 India — 157
Women in national parliament 2025
🇵🇰 Pakistan — 17%
🇮🇳 India — 14%.
World Happiness Report 2025
🇵🇰 Pakistan — 109
🇮🇳 India — 118
General government debt-to-GDP
🇵🇰 Pakistan — ~72–73%
🇮🇳 India — ~81–82%
CO₂ emissions per capita 2024
🇵🇰 Pakistan — 0.8 tonnes
🇮🇳 India — 2.2 tonnes
Remittances as % of GDP (2025)
🇵🇰 Pakistan — 9.9%
🇮🇳 India — 3.8%
World Bank external debt currently: 🇵🇰 Pakistan — $129.7B
🇮🇳 India — $716.5B
So before calling Pakistan bhikaari, check the numbers first.
Not everything is perfect in Pakistan, obviously.
But pretending India is automatically ahead in every single indicator is just… comedy. 🤡
ایران سے حملے کروا کر ڈرا کر ابراہیم اکارڈ منوایا جا رہا ہے اس سے پہلے ابراہیم اکارڈ پر سائن کے بدلے سعودیہ کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی آفر کی گئی جسے سعودیہ نے مسترد کیا اور اب ایران کی پراکسی سعودیہ پر حملہ آور ہے ساری گیم کھل چکی ہے جو ایران اسرائیل مل کر کھیل رہے
#PakistaniStandsWithSaudi
ذہنی مریض کی بےمثال سفارت کاری۔۔
سعودی عرب
محمد بن سلمان نے اپنا جہاز دے کر امریکہ بھیجا جہاں امریکیوں کو خوش کرنے سعودی عرب کی برائیاں کیں۔ واپسی پر محمد بن سلمان نے بےعزت کر کے جہاز سے اتار دیا کہ اکانومی میں آؤ۔ بدلہ لینے کو بشری بی بی کے مشورے پر او آئی سی توڑنے کا فیصلہ کیا اور عربوں کے مقابل اسلامی بلاک بنانے کا نعرہ لگا کر ترکی اور ملائشیا کو دعوت دی۔ وہ تیار ہوگئے تو محمد بن سلمان نے سعودی عرب بلوایا اور دھمکی دی کہ ایسا کیا تو تیل بھی بند کرونگا اور پاکستانی بھی واپس بھیجونگا۔ بےعزت ہوکر واپس آیا تو اپنی کیبنٹ میٹنگ میں محمد بن سلمان کو ننگی گالیاں دیں جو اس تک پہنچ گئیں اور اس نے پاکستان کے قومی خزانے رکھے 3 ارب ڈالر واپس مانگ لیے۔ بمشکل 1 ارب ڈالر چین سے لے کر فوج کے منتوں ترلوں پر اسکو راضی کیا گیا۔ فوج نے راضی کیا تو شاہ محمود قریشی نے یہ اعلان کر دیا کہ "اب ہمیں سعودی عرب کے بغیر آگے بڑھنا ہوگا۔"
ترکی
عمران اسلامی کانفرنس میں نہیں آیا حتی کہ وفد بھی نہیں بھیجا جو اسی کی فرمائش پر بلائی گئی تھی۔ اس کی اس بد عہدی پر ترکی زہنی مریض سے اتنا ناراض ہوا کہ عمران خان اردگان کو منانے ترکی پہنچا تو اس کے استقبال کے لیے ائرپورٹ پر کوئی ایک شخص موجود نہیں تھا۔ جس کی ویڈیو موجود ہے۔ پھر اردگان نے تقریر کی کہ عمران خان سعودی دباؤ پر وعدے سے مکر گیا۔
ملائشیا
ملائشیا نے ہی عمران کی فرمائش پر اسلامی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کا فیصلہ کیا تھا۔ اسکی تیاری بھی کر لی تھی۔ مہاتیر نے اپنی قوم سے خطابات بھی کیے۔ لیکن پھر عمران نہیں پہنچا جس کی فرمائش پر یہ سارا کچھ کیا گیا۔ مہاتیر محمد کو ایسی شرمندگی کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بعد مہاتیر محمد نے کبھی عمران خان کا دوبارہ نام نہیں لیا۔
چین
چین کے ساتھ رازداری کے معاہدے کے باوجود عمران نے سی پیک کی تفصیلات امریکہ کو فراہم کیں۔ جس پر چین سخت ناراض ہوا۔ پھر سی پیک کو فریز کردیا کہ ہم نے معاہدے میں تبدیلیاں کرنی ہیں۔ جس پر چین مزید ناراض ہوا۔ چین نے اپنا سرمایہ کاری وفد بھیجا تو مراد سعید نے انکو کمرے سے نکال دیا کہ تم لوگوں نے پرفیوم اچھا نہیں لگایا۔ جس پر چین نے مراد سعید کو بلیک لسٹ کر دیا۔ یوں وہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا وزیر ثابت ہوا جو چین میں بلیک لسٹ ہوا۔ ان سب کے بعد جب عمران چین پہنچا تو چین نے اسکو بےعزت کرنے استقبال کیلیے میونسپل کمیٹی کی سربراہ کو بھیجا اور صدر شی نے ملاقات کے لیے اسکو تین دن انتظار کروایا۔ تیسرے دن بھی محض چند منٹ کی ملاقات کی۔ اس بدترین ہزیمت پر پردہ ڈالنے PTI سوشل میڈیا نے شور مچایا کہ چین کے دورے کے دوران پیوٹن نے عمران کو روس آنے کی دعوت دے دی ہے اور یہ عمران کی بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ یوں چین میں جو کچھ ہوا وہ بات دب گئی۔
روس
عمران روس کا دورہ کرنے عین اس وقت پہنچا جب روس یوکرین پر حملہ کرنے والا تھا۔ یہ دورے کا بدترین وقت تھا۔ پیوٹن جیسے کائیاں شخص نے زہنی مریض کو اپنے سامنے بیٹھا کر یوکرین پر حملہ کر دیا اور دنیا خاص طور پر امریکہ کو پیغام دیا کہ یوکرین پر حملے کے وقت تمہارا ایک قریبی دوست میرے ساتھ بیٹھا تھا۔ عمران کی اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ پیوٹن سے ناراضگی ظاہر کر دیتا یا اسکو اتنا ہی کہہ دیتا کہ میرے جانے کے بعد جنگ شروع کرنا۔ یوں روس میں اس خطے کی سب سے بڑی جنگ کا افتتاح کر کے عمران واپس آگیا۔ آکر قوم کو خوشخبری سنائی کہ میں نے روس سے سستا تیل اور گندم لینے کی بات کر لی ہے اور خبردار جو کسی نے جنگ کی مذمت کی۔ جنرل باجوہ نے جنگ کی مذمت کی تو پوری سوشل میڈیا کو اس کے پیچھے لگا دیا کہ جنگ کی مذمت کیوں کی؟ تیل پر اسکو کسی نے بتایا کہ حضور وہ تیل ہم نہیں خرید سکتے کیونکہ امریکی پابندیاں ہیں جیسے ہم ایرانی گیس نہیں خرید سکتے۔ البتہ حکومت جانے کے بعد جب روس اور وسطی ایشیائی ممالک سے سستی گندم منگوائی گئی تو سب سے زیادہ شور ذہنی مریض نے مچایا کہ روس سے سستی گندم منگوا کر اپنے کسانوں کو مار دیا۔ یوں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار گندم سستی ہونے پر احتجاج ہوا۔
یورپی یونین
چونکہ یوکرین پر حملہ EU کے اتحادی پر حملہ تھا تو جیسے دنیا کا ہر ملک اور اسکے سفیر کوشش کرتے ہیں کہ جنگ میں زیادہ سے زیادہ ممالک کی حمایت حاصل کریں تو انہوں نے عمران کو خط لکھا کہ روس نے آپکو ساتھ بیٹھا کر ہم پر حملہ کیا ہے کم از کم آپ اس کی مذمت کر دیں۔ اس سفارتی درخواست کا سفارتی جواب دینے کیبجائے ع نے فوراً جلسہ بلوا کر تقریر کی اور مشہور جملہ کہا "ہم کوئی غلام ہیں کہ تم جو کہو ہم مان لینگے؟" اسکو وائرل کروا دیا اور کسی نے یہ جاننے کی زحمت تک نہیں کی کہ اصل معاملہ کیا ہے؟ اس احمقانہ حرکت پر EU نے برآمدات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا جو جنرل باوجوہ کی جنگ کی مذمت کیوجہ سے روک دیا گیا