Being a sensitive person costs you a lot, you always try to hide your feelings, you always pretend that nothing happened in order not to be labeled as dramatic, nobody knows how details hurt you, nobody knows how much you will overthink a word told by a beloved person
خیبرپختونخوا کے عوام کو سیاسی کشمکش سے زیادہ امن، معیاری تعلیم، بہتر علاج روزگار اور بنیادی سہولیات چاہییں۔ حکومت کو اپنی ترجیحات کا جواب نتائج سے دینا چاہیے
دھمکیاں ٪ 100 اور کارکردگی ٪0 ۔۔۔
یہ ہے انتشاری PTI کا منشور
یہی طرزِ سیاست ہے آلِ یوتھ کا۔ نیازی نے بھی 22 سال عوام کو دھمکیوں، الزامات اور بدتمیزی کی سیاست دکھائی
اور اب سہیل آفریدی بھی اسی روش پر قائم و دائم ہے۔ بڑھکیں مارو ، گالیاں دو، عورتوں کی بے توقیری کرو
لیکن جب بات آئے کہ PTI نے گزشتہ 13 سالوں سے پختونخواہ کی عوام کو کیا دیا ہے تو جواب ہے بابا جی کا ٹھنگا۔۔۔ یعنی ٪0 کارکردگی ہی دکھائی اور سنائی دیتی ہے
@Hanzalamalik97 شور شرابے دھمکیوں اور بلند بانگ نعروں سے انقلاب نہیں آتا عوام حکومت سے نعروں کے بجائے کارکردگی، بہتر سہولیات اور واضح نتائج کا مطالبہ کرتے ہیں
دھمکیاں ٪ 100 اور کارکردگی ٪0 ۔۔۔
یہ ہے انتشاری PTI کا منشور
یہی طرزِ سیاست ہے آلِ یوتھ کا۔ نیازی نے بھی 22 سال عوام کو دھمکیوں، الزامات اور بدتمیزی کی سیاست دکھائی
اور اب سہیل آفریدی بھی اسی روش پر قائم و دائم ہے۔ بڑھکیں مارو ، گالیاں دو، عورتوں کی بے توقیری کرو
لیکن جب بات آئے کہ PTI نے گزشتہ 13 سالوں سے پختونخواہ کی عوام کو کیا دیا ہے تو جواب ہے بابا جی کا ٹھنگا۔۔۔ یعنی ٪0 کارکردگی ہی دکھائی اور سنائی دیتی ہے
صوبوں کا قیام کسی علاقے کو تقسیم کرنے کا نہیں اگر عوام کی رائے اور انتظامی ضرورت اس کی تائید کرے تو حکمرانی کو عوام کے قریب لانے کا معاملہ ہو سکتا ہے تحقیق مشاورت اور آئینی طریقۂ کار کے بعد عوامی رائے ہی فیصلہ کن ہونی چاہیے
صوبوں کا قیام سیاسی نہیں، عوامی مسئلہ ہے ۔۔۔
عوامی ریفرینڈم ہی اب عوام کا فیصلہ ہے
پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بحث اکثر سیاسی مفادات، جماعتی ترجیحات اور علاقائی شناخت کے تناظر میں دیکھی جاتی ہے، حالانکہ اس معاملے کا ایک بنیادی پہلو اس سے کہیں زیادہ اہم ہے: کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ آج کی آبادی، جغرافیہ اور عوامی ضروریات کے مطابق ہے؟
یہ سوال کسی ایک سیاسی جماعت، صوبے یا علاقے کا نہیں؛ یہ ریاستی انتظام، عوامی سہولت اور گورننس کا سوال ہے
پاکستان کی آبادی 1951 میں تقریباً 3 کروڑ 37 لاکھ تھی، جبکہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق یہ بڑھ کر 24 کروڑ 15 لاکھ ہو چکی تھی جو اب 2026 میں تقریباً 26 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے
یعنی سات دہائیوں میں آبادی سات گنا سے زیادہ بڑھ گئی، لیکن ملک کی بنیادی صوبائی ساخت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔
یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے: *کیا 1951 کی آبادی اور انتظامی ضروریات کے لیے تشکیل دیا گیا ڈھانچہ 2026 کے پاکستان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی کافی ہے؟
یہ سوال محض سیاسی نعرہ نہیں، انتظامی تحقیق کا موضوع بن چکا ہے
آبادی بڑھی، فاصلے بڑھے، لیکن انتظامی مرکز وہی رہے 2023 کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادیتقریباً 12 کروڑ 77 لاکھ سندھ کی 5 کروڑ 57 لاکھ خیبرپختونخوا کی 4 کروڑ 9 لاکھ اور بلوچستان کی تقریباً 1 کروڑ 49 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔
خاص طور پر پنجاب کی آبادی پاکستان کی مجموعی آبادی کا تقریباً 52.87 فیصد ہے۔ خیبرپختونخوا بھی تقریباً 4 کروڑ 9 لاکھ آبادی کے ساتھ ایک بڑا انتظامی خطہ بن چکا ہے
اتنی بڑی آبادی، وسیع جغرافیے اور مختلف اضلاع کی متنوع ضروریات کو ایک ہی صوبائی مرکز سے مؤثر انداز میں منظم کرنا کتنا عملی ہے؟
چھوٹے انتظامی یونٹس* میں حکومت شہریوں کے قریب آ سکتی ہے، فیصلہ سازی تیز ہو سکتی ہے اور وسائل و ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی زیادہ مقامی سطح پر ممکن ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث نئی نہیں
مثال کے طور پر قومی اسمبلی نے 2012 میں جنوبی پنجاب کے نئے صوبے کے قیام کے حق میں قرارداد منظور کی تھی اور آئینی طریقۂ کار کے تحت پنجاب اسمبلی سے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ مثال واضح کرتی ہے کہ صوبائی تشکیل کا معاملہ محض سوشل میڈیا کی بحث نہیں بلکہ باقاعدہ آئینی اور پارلیمانی عمل کا حصہ ہے۔
*lنئے صوبوں کی بحث کو پنجاب بمقابلہ سندھ، سرائیکی بمقابلہ پنجابی، پختون بمقابلہ غیر پختون یا کسی دوسری لسانی تقسیم میں محدود کرنا اس کے انتظامی پہلو کو کمزور کر دیتا ہے*l
ہمیں یہ بات سمجنا ہوگی کہ نا صوبہ کسی قوم کی جاگیر ہے، نا انتظامی یونٹ کسی شناخت کا خاتمہ
اگر موجودہ انتظامی ڈھانچہ آبادی کے بڑھتے ہوئے حجم، شہری پھیلاؤ، معاشی سرگرمیوں اور عوامی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ثابت ہو رہا ہے تو اس پر نظرثانی ایک جائز قومی بحث ہے۔
تحقیق ہو، عوامی مشاورت ہو، مالیاتی ماڈل سامنے آئے، انتظامی حدود کا جائزہ لیا جائے، سروس ڈلیوری کے اہداف مقرر ہوں اور پھر آئینی طریقے سے عوامی ریفرینڈم کے ذریعے فیصلہ ہو
@Hanzalamalik97 آج پنجاب کی آبادی 12.77 کروڑ، سندھ 5.57 کروڑ اور خیبرپختونخوا 4.09 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اتنی بڑی آبادیوں کے لیے انتظامی اختیارات کو عوام کے قریب لانے اور سروس ڈلیوری بہتر بنانے کے ماڈلز پر سنجیدہ بحث ضروری ہے
صوبوں کا قیام سیاسی نہیں، عوامی مسئلہ ہے ۔۔۔
عوامی ریفرینڈم ہی اب عوام کا فیصلہ ہے
پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بحث اکثر سیاسی مفادات، جماعتی ترجیحات اور علاقائی شناخت کے تناظر میں دیکھی جاتی ہے، حالانکہ اس معاملے کا ایک بنیادی پہلو اس سے کہیں زیادہ اہم ہے: کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ آج کی آبادی، جغرافیہ اور عوامی ضروریات کے مطابق ہے؟
یہ سوال کسی ایک سیاسی جماعت، صوبے یا علاقے کا نہیں؛ یہ ریاستی انتظام، عوامی سہولت اور گورننس کا سوال ہے
پاکستان کی آبادی 1951 میں تقریباً 3 کروڑ 37 لاکھ تھی، جبکہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق یہ بڑھ کر 24 کروڑ 15 لاکھ ہو چکی تھی جو اب 2026 میں تقریباً 26 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے
یعنی سات دہائیوں میں آبادی سات گنا سے زیادہ بڑھ گئی، لیکن ملک کی بنیادی صوبائی ساخت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔
یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے: *کیا 1951 کی آبادی اور انتظامی ضروریات کے لیے تشکیل دیا گیا ڈھانچہ 2026 کے پاکستان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی کافی ہے؟
یہ سوال محض سیاسی نعرہ نہیں، انتظامی تحقیق کا موضوع بن چکا ہے
آبادی بڑھی، فاصلے بڑھے، لیکن انتظامی مرکز وہی رہے 2023 کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادیتقریباً 12 کروڑ 77 لاکھ سندھ کی 5 کروڑ 57 لاکھ خیبرپختونخوا کی 4 کروڑ 9 لاکھ اور بلوچستان کی تقریباً 1 کروڑ 49 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔
خاص طور پر پنجاب کی آبادی پاکستان کی مجموعی آبادی کا تقریباً 52.87 فیصد ہے۔ خیبرپختونخوا بھی تقریباً 4 کروڑ 9 لاکھ آبادی کے ساتھ ایک بڑا انتظامی خطہ بن چکا ہے
اتنی بڑی آبادی، وسیع جغرافیے اور مختلف اضلاع کی متنوع ضروریات کو ایک ہی صوبائی مرکز سے مؤثر انداز میں منظم کرنا کتنا عملی ہے؟
چھوٹے انتظامی یونٹس* میں حکومت شہریوں کے قریب آ سکتی ہے، فیصلہ سازی تیز ہو سکتی ہے اور وسائل و ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی زیادہ مقامی سطح پر ممکن ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث نئی نہیں
مثال کے طور پر قومی اسمبلی نے 2012 میں جنوبی پنجاب کے نئے صوبے کے قیام کے حق میں قرارداد منظور کی تھی اور آئینی طریقۂ کار کے تحت پنجاب اسمبلی سے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ مثال واضح کرتی ہے کہ صوبائی تشکیل کا معاملہ محض سوشل میڈیا کی بحث نہیں بلکہ باقاعدہ آئینی اور پارلیمانی عمل کا حصہ ہے۔
*lنئے صوبوں کی بحث کو پنجاب بمقابلہ سندھ، سرائیکی بمقابلہ پنجابی، پختون بمقابلہ غیر پختون یا کسی دوسری لسانی تقسیم میں محدود کرنا اس کے انتظامی پہلو کو کمزور کر دیتا ہے*l
ہمیں یہ بات سمجنا ہوگی کہ نا صوبہ کسی قوم کی جاگیر ہے، نا انتظامی یونٹ کسی شناخت کا خاتمہ
اگر موجودہ انتظامی ڈھانچہ آبادی کے بڑھتے ہوئے حجم، شہری پھیلاؤ، معاشی سرگرمیوں اور عوامی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ثابت ہو رہا ہے تو اس پر نظرثانی ایک جائز قومی بحث ہے۔
تحقیق ہو، عوامی مشاورت ہو، مالیاتی ماڈل سامنے آئے، انتظامی حدود کا جائزہ لیا جائے، سروس ڈلیوری کے اہداف مقرر ہوں اور پھر آئینی طریقے سے عوامی ریفرینڈم کے ذریعے فیصلہ ہو
@Senator_Baloch میر سرفراز بگٹی کو اس منصوبے میں حکومتِ بلوچستان کے تعاون اور کردار کا کریڈٹ دیا جانا چاہیے۔ موجودہ حکومت کا فوکس ایسے منصوبوں پر ہے جن سے طلبہ ملازمین خواتین، مزدوروں تاجروں اور عام شہریوں کو براہِ راست سفری سہولت ملے
اسلام آباد آنے کا اعلان ہوا، پھر پروگرام ملتوی اور ارادہ تبدیل ہو گیا۔ سہیل آفریدی کی سیاست میں دعوے بہت، عملی قدم کم دکھائی دیتے ہیں۔
#بھاگتے_کیوں_ہو_یوتھیو
The innocent people of the province continue to suffer loss of lives and property on a daily basis. Police recruitment remains incomplete, while frequent terrorist attacks have become the norm. Instead of addressing these serious challenges, the provincial government appears focused on political spectacles such as long marches and sit-ins. This negligence highlights how poor governance and deteriorating infrastructure have pushed the entire province into darkness.
The innocent people of the province continue to suffer loss of lives and property on a daily basis. Police recruitment remains incomplete, while frequent terrorist attacks have become the norm. Instead of addressing these serious challenges, the provincial government appears focused on political spectacles such as long marches and sit-ins. This negligence highlights how poor governance and deteriorating infrastructure have pushed the entire province into darkness.