راجہ صاحب، ان حالات میں ملک کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے، اسے دیکھ کر شاید ہی کوئی باشعور شخص ان کی حمایت کرے۔ انہوں نے عوام کو مہنگائی، مشکلات اور پریشانیوں میں ڈال کر ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔
یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ پٹوارخانہ کے جید پُرانے اور اوکھے ویلے میں ساتھ کھڑے ہونے والے اور فتنہ عمرانیہ گولڈ سمتھیہ کے ساتھ کھلی جُتی چلانے والے اکاونٹس بھی موجودہ حالات میں حکمرانی ڈیفینڈ لائن پر کھڑے ہونے سے قاصر ہوچکے ہیں اور یہ خطرے کی گھنٹی ہے کہ آخر ہارڈ لائن اور نواز شریف کے نام پر کئی سال سے نوازلیگ کا دفاع کرنے والے بھی ناقدین کی فہرست میں کیوں پہنچ چکے ہیں
میاں صاحب تھوڑا نہیں بلکہ پورا سوچئیے کیونکہ فیر نہ کہنا ہم لیٹ ہو گئے ہیں
آج کل تکلیف جہاز اور مریم نواز کے بیان کی نہیں ہے تکلیف مریم نواز کی کارکردگی اور بڑھتی ہوئی مقبولیت سے ہے۔ واضح طور پہ بتا دیا گیا ہے کہ لندن دورے کا خرچہ مریم نواز نے خود ادا کرنا ہے.
وزیراعلی پنجاب کے بیان کو صوبوں میں نفرت اور قوم میں تقسیم پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے والوں کو خود عوام سےمعافی مانگنی چاہئے۔
خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان کی گھٹیا گفتگو
پی ٹی آئی اور ان کی قیادت کے کردار اور خواتین کے خلاف بدبودار زبان درازی کی قابل نفرت روایت کے عین مطابق ہے۔ بدقسمتی سے خیبر پختون خوا پر وہ عناصر مسلط ہیں جو ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت کرنے والے غیور پختونوں کی روایات سے بھی آگاہ نہیں۔ دہشت گرد بندوق اور خود کش جیکٹ سے انسانوں کے چیتھڑے اڑاتے ہیں اور ان کے سہولت کار زبان کو انسانوں بالخصوص خواتین کی توہین کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں
میرا مشورہ پلے سے باندھ لیجیے، جب (انشاء اللہ) آپ کی حکومت ختم ہوگی تو آپ لوگوں نے پاکستان میں نہیں رہنا ورنہ ایون فیلڈ کے باہر والی احتجاجی ذلالت آپ لوگ بھول جائیں گے کیونکہ محترمہ عوام آپ کی حکومتوں بالخصوص آپ خواتین سے نک و نک ہے
آپ ظالم ہیں آپ بے رحم ہیں اور غریب کی موت ہیں
یہ بات بھی غور کرنے کی کہ بیٹی کی گریجوایشن کی تقریب پر دو دن جانے کے لئے جو حکمران ڈھائی کروڑ کا لگثری جہاز لے جا سکتے اتنے super rich سیاستدانوں کو ایک غریب کا کیا احساس ہو گا وہ بجلی کا چند ہزار بل کیسے ڈا کرتا ہے وہ کیسے خرچہ پورا نا ہونے پر خودکشی کا سوچتا ہے خود کو آگ لگا دیتا ہے
جن کے لئے چند کروڑ کرایہ معمولی بات اسے غریب کا کیا احساس ہو گا ؟
یٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ صرف عالمی حالات کا نتیجہ نہیں، بلکہ حکومتی نااہلی بھی اس کی بڑی وجہ ہے۔ جب ٹیکس کلیکشن کے اہداف پورے نہیں ہوتے تو سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا جاتا ہے اور پیٹرول پر بھاری ٹیکس لگا کر رقم نکال لی جاتی ہے۔مہنگائی نے عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل کر دیا ہے۔
براہِ کرم عوام کے لیے آسانیاں پیدا کریں مشکل میں تو وہ پہلے سے ہی ہیں ۔
پہلے مہینہ بعد پیٹرول بڑھتا تھا پھر پندرہ دن ہوا اس کے بعد آٹھ دن بعد اور اب فرعون کی اولادوں نے روزانہ پیٹرول مہنگا کرنے کا اعلان کیا ہے
انکا خیال روز تھوڑا تھوڑا جھٹکا لگے گا تو تکلیف کم ہو گی عوام بولے گی نہی
درخواست
بخدمت جناب چیف جسٹس صاحب،
سپریم کورٹ آف پاکستان، اسلام آباد۔
عنوان : جب مرجائیگی مخلوق توکیا انصاف کروگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب عالی،
گذارش ھے کہ ملک بھر میں تمام الیکٹرک سپلأيز کمپنیز سے درج ذیل 15 نکاتی ٹیکسز کی وضاحت طلب کی جاۓ۔ شکریہ۔
(1). بجلی کی قیمت ادا کر دی، تو اس پر کون سا ٹیکس؟
(2). کون سے فیول پر کونسی ایڈجسٹمنٹ کا ٹیکس؟
(3). کس پرائس پہ الیکٹریسٹی پہ کون سی ڈیوٹی؟
(4) . کون سیے فیوئل کی کس پرائس پر ایڈجسٹمنٹ؟
(5). بجلی کے یونٹس کی قیمت "جو ھم ادا کر چکے" پر کونسی ڈیوٹی اور کیوں؟
(6). ٹی وی کی کونسی فیس، جبکہ ھم الگ سے پیسے دے کر کیبل استعمال کرتے ہیں؟
(7). جب بل ماہانہ ادا کیا جاتا ھے، تو یہ بل کی کواٹرلی ایڈجسٹمنٹ کیا ھے؟
(8). کون سی فنانس کی کاسٹ چارجنگ؟
(9). جب استعمال شدہ یونٹس کا بل ادا کر رھے ہیں، تو کس چیز کے ایکسٹرا چارجز؟
(10). کس چیز کے اور کون سے further "اگلے" چارجز؟
(11). ود ھولڈنگ چارجز کس شے کی؟
(12). میٹر تو ہم نے خود خریدا تھا، اسکا کرایہ کیوں؟
(13). بجلی کا کون سا انکم ٹیکس؟
(14) جب ہر ماہ بلنگ ہو رہی ہے تو فکس چارجز کس بات کے
(15) اگر گزشتہ چھ ماہ میں ایک دفعہ بھی آپ کی یونٹ 200 کو ٹچ کر جاۓ تو اگلے چھ ماہ آپ کے یونٹ کا ریٹ پہلے 200 یونٹ والا ہی ھو گا جبکہ ہر مہینے ادائیگی کرنے پر بار بار ادائیگیاں!
یہ کون سا ظلم کا فارمولا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
منجانب؛
*عام شہری*
صارفینِ بجلی، آل پاکستان۔.