It was a privilege to meet Dr. Nergis Mavalvala, astrophysicist & Professor at MIT, who also serves as Dean of its School of Science, at a function hosted by the ladies of Karachi Zarthosti Banu Mandal in her honour. A proud moment for Pakistan & our Parsi community!
When Abu Bilal built a secret wall in his home to protect his precious books from Syria’s former Assad regime, he didn’t know if he’d see them again.
15 years later, with the help of a hammer, he was able to recover them.
ایکس فیڈ پر چند عدد نئے خوبصورت چہروں اور دو نئے ڈراموں، در نجات اور زنجیریں کا شور ہے۔ خوبصورت چہروں سے ہمیں کیا لگے۔ بھائی میں تو اندھا ہوں۔ لیکن ڈراموں کی مقبوکیت اور پاکستانی عوام کی سائیکی کو تھوڑا بہت سمجھنے کی بنیاد پر بغیر دیکھے میں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ دونوں ڈراموں میں انتہائی امیر کبیر خاندانوں کی کہانی بیان کی گئی ہوگی۔
ان کا بیٹھنا اٹھنا، لباس ، گفتگو وہ ہوگی جو پاکستان کی اسی نوے فیصد آبادی کا چلن ��ہیں ہے۔ پاکستانیوں کی اکثریت اپنے احساس محرومی ، احساس کمتری کے کتھارسس کے لیے ان ڈراموں کو فی قسط دس بارہ ملین ویوز دے رہی ہوگی۔ ایک ڈرامے کی مصنفہ عمیرہ احمد ہیں۔ دیکھیے گا ابھی یہاں کیسے مسلمانی اور روحانیت اور امارت کا ملاپ ہوتا۔
خیر سے انتہائی امیر ، انتہائی ذہین ، انتہائی لوفر سے پھر انتہائی مذہبی ہوجانے والا ہیرو ہماری خواتین کا خواب ہوتا ہے تو پھر ایسی کہانیوں والا ڈرامہ ناکام ہوجائے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مدتوں شعاع ، کرن ، خواتین ، حنا ، آنچل جیسے تمام زنانہ میگزینز کا طویل عرصے تک قاری رہنے کی وجہ سے ( بھائی ہمارے چھوٹے سے شہر میں پڑھنے کو بس یہی سب ملتا تھا ، نا کوئی انٹرنیٹ تھا نا کوئی لائبریری اور نا ہی پیسے ) ان ٹرینڈز کا کچھ نا کچھ علم ہے۔
عمیرہ احمد کا پیر ک��مل اس سلسلے کا پائنیر ہے۔ اسکے بعد میں عبدالقادر ہوں میں بھی مرکزی خیال وہی ، نمرہ احمد نے تو آکر لٹ مچادی۔ ہیرو کو پہلے آسمان سے اور پھر مصلے سے نیچے اترنے ہی نہیں دیا۔ ہر ناول نگار نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ گھروں میں بیٹھی آدھی آبادی ، مزید آبادی جنتی ہوئی پہلے ٹی وی اسکرینز پر چپکی رہی ، پھر اب بچے سکول بھیج کر ، برتن مانجھ کر ، ہانڈی چڑھا کر ، یوٹیوب پکڑ کر شروع ہوجاتی ہیں۔ بہرحال دفع کریں ، بہت زیادہ جنرلائزیشن۔
یہی ٹرینڈ ٹک ٹاک اور انسٹا گرام پر ہے۔ مرد سٹارز کون ہیں ؟ بڑے گھر والے ، بڑے ڈالے والے ، زیادہ وسائل والے۔ خواتین کون ہیں؟ بڑے شہروں والی ، مہن��ے کپڑے جوتوں والی۔ درمیان میں اگر کوئی مڈل کلاس لوئر مڈل کلاس اچانک کسی وجہ سے وائرل اور پھر زرا امیر ہوجائے تو وہ عوام الناس اسے سٹار نہیں گشتی مانتے ہیں۔ یہ خیر ایک الگ المیہ ہے۔ پھر کبھی سہی۔
کونٹینٹ کوالٹی ، کہانی ، ان کے معاشرتی اثرات سے اور وغیرہ وغیرہ سے میں اور آپ اتنا ہی دور ہیں جتنا جمہوریت ، انصاف ، تعلیم اور شعور سے دور ہیں۔ دیکھتے جائیں رش بہت ہے۔
پنجاب کی دھرتی بہت زرخیز ہے یہاں کی آب و ہوا کے حساب سے نیم پیپل برگد شیشم بہت زبردست درخت ہیں جو ماحول دوست بھی ہیں اور گھنی چھاؤں بھی دیتے ہیں سفیدہ جو ہم نے بے تحاشہ لگایا ہے وہ زیر زمین پانی کو بہت نقصان پہنچاتا ہے اور اسکا سایہ نہ ہونے کے برابر ہے
اپنے اپنے گھروں کھیتوں سڑکوں کے ساتھ یہ درخت لگائیں آنے والی نسلوں کے لئے اس سے بہتر کوئی تحفہ نہیں ہے
“I love being at home. My life is very simple. I reada lot of books. I watch a lot of films. I listen to a lot of music. I tend the garden. I cook with my family. Yeah, I'm boring.”
— Cillian Murphy
یہ ایک چھوٹا پرندہ ہے جس کی کال فریکوئنسی 432Hz ہے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ آواز سیروٹونن اور خوشی کے دیگر ہارمونز کے اخراج میں مدد کر سکتی ہے، اور بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرنے میں قدرتی اثر رکھتی ہے.
Doston, adaab, namaste!
Aaj se main apne Youtube channel @ranasafvi par ek nayi Supernatural Series shuru kar rahe hain.
Pehle episode mein milte hain Jinn Mamu se~ Quran, lok riwayaat aur un kahaniyon ke zariye jinhen hum bachpan se sunte aaye hain.
In the episode:
0:00 Beginning highlight
0:28 Introduction
0:55 Jinn Mamu hain kaun?
1:39 Origin of Jinn
2:00 Types of Jinn
2:55 A thousand and one nights
3:03 Genie in the bottle
3:56 Aladdin and the magic lamp
4:40 Dadi ki kahaniyan
5:16 Quran ka kissa
5:54 Kya hume jinn se darna chahiye?
#jinn #djinn #supernatural
link to playlist . you can see the episode there
https://t.co/vv9ECMxEEJ