یہ APPNA والے بھی بیگانے ہو گئے۔۔ عمران خان نے روز اول سے ہی ان کو انکی اوقات میں رکھا تھا جب یہ ویلنگ ڈیلنگ کے لئے اڈیالہ پہنچے تھے۔عمران خان نے اپنا کے ایجنڈے کو اپنایا ہوتا تو آج وہ بھی آزاد ہوتا لیکن اسے اپنے نظریے پر بھروسہ ہے
وہ تمام سوشل میڈیا کے لوگ جنہوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے بھگوان بناۓ ہیں جو سیاسی لوگوں کے اور عہدے داروں کے گروپس میں ہیں اور ان کو فیس سیونگ دیتے ہیں وہ خان صاحب کی قید کے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنے اس پارٹی کے نام نہاد عہدے داران اور پارلیمنٹیرینز ❗
منظور پشتین, عمران خان دور میں کس طرح بھڑکے مارتا تھا
اج کہاں غائب ہے, کیوں گیدڑوں کی طرح غائب ہے
قاضی فائز عیسیٰ بھی اسکے ساتھ شامل تھا,
لیکن پھر عاصم منیر کے دور میں منظور پشتین غائب اور قاضی فائز جرنیل کا ٹٹو بن گیا!
مطلب مسلہ, قانون آئین نہیں تھا,
انکا مسلہ عمران خان تھا
عمران خان نے کہا جو عہدے دار تحریک کا وزن نہیں اٹھا سکتے ہیں وہ پارٹی سے الگ ہو جائیں ورنہ میں باہر آ کر خود سب کو پارٹی سے نکال دوں گا۔
اس ویڈیو کو آج ہر طرف پھیلا دیں 🔥
آج 7 جولائی: یکجہتی اور عزم کا دن! 🔥
ان شاء اللہ، آج عمران خان کی ہمشیرہ گان اپنے بھائی سے ملاقات کریں گی۔ اس تاریخی موقع پر اپنے قائد اور ان کے اہلخانہ سے والہانہ محبت کے اظہار کے لیے، ملک بھر سے عمران خان کے جری سپاہیوں کو آج ہی اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ دنیا کو کپتان کے ساتھ کھڑے ہونے کا مضبوط پیغام دیا جا سکے۔
پاکستان کی تاریخ کی مقبول ترین سیاسی، سماجی اور کھیلوں کی سب سے بڑی عالمی شخصیت، عمران خان کو اس وقت اڈیالہ جیل کی ایک تنگ اور تاریک 'چکی نما' کال کوٹھڑی میں شدید ترین نامساعد حالات کا سامنا ہے
۔
جیل حکام کی جانب سے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عروج پر ہیں:
بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی: سخت گرمی میں نہ تو اے سی (AC) کی سہولت میسر ہے اور نہ ہی ٹھنڈے پانی کا کوئی انتظام۔
طبی غفلت: آنکھوں کی بینائی شدید متاثر ہونے کے باوجود مناسب طبی معائنے اور علاج کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
مذہبی آزادی پر قدغن: وضو کے لیے صاف پانی کی عدم دستیابی سمیت جمعہ کی نماز کی ادائیگی پر بھی پابندی عائد ہے۔
جس شخص نے اپنی زندگی ملک کی خدمت، شوکت خانم جیسے اداروں اور عالمی اعزازات کے نام کر دی، وہ اس نوعیت کے انتقامی سلوک کا حقدار ہرگز نہیں تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے کسی سیاسی قیدی کے ساتھ ایسا غیر انسانی سلوک نہیں کیا گیا۔
اِن دو بہنوں نے پنجاب کی فارم سنتالیس کی حکومت کو پوری پی ٹی آئی پنجاب سے زیادہ ٹف ٹائم دیا، پلاننگ کے ساتھ اِن کی آواز بند کروائی گئی
تمام لوگ اِن بہادر بہنوں کے لیے بھرپور آواز اُٹھایا کریں
Imagine if Iran bombed the White House in Washington and killed the U.S. President and Tiffany, his 14-month-old granddaughter, what would you call it? Terrorists
The U.S. bombed Tehran, killed its head of state and Zahra, his 14-month-old granddaughter. Why do you call it peace