منجی کا ترٹ گیا ہے پاوا خبر
امریکہ شریف میں براجمان مرشد پاک جناب خرم عباسی صاحب نے بذریعہ کال البترولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اک واری فیر اضافہ پر لفاظی کرنے سے روک دیا ہے اور اکھیا ہے کہ آج مٹھ رکھیں پاء اورنگزیب عالمگیر آئندہ اگوں نہیں کریں گے
میاں صاحب ہم یدطولی گئے ہیں
محبان ایران اور محبان حوثیوں کو آگاہ کر دوں سعودیہ سے پاکستان کی تیل کی سپلائی رُکی تو باقی قوم کے ساتھ تمھاری رچرڈ گرنیل بھی برابر کی پھٹے گی اب ایران اور حوثی تم لوگوں کے لیے بائے ائیر تیل تو بھیجنے سے رہے لہذا سب سے پہلے اُس ملک کا مفاد مدنظر رکھو جس ملک کا کھا کر تم جوان ھوئے ھو اور جس ملک میں آزادی ساتھ رہ رہے ہو
🚨حکومت نے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم دے مارا ہے
بجلی گیس پیٹرول کے مہنگے ترین بل کے بعد حکومت نے موبائل کمپنیوں کو تیس فیصد تک تمام پیکج مہنگے کرنے کی اجازت دے دی ہے اب ڈیٹا پیکج 500روپے اور پندرہ دن کا پیکج 300تک مہنگا ہو جائے گا
کیسے لگے تجربہ کار ؟
نواز شریف کے منصوبوں کا چرچا بھارت میں ہو رہا ہے
مودی کذاب قراقرم ہاۓ وے دیکھا کر بھارتیوں کو چوتیا بنا رہا
زرداری کا لونڈا جس کے پاس مما اور نانے کی فوٹوز کے علاوہ دیکھانے کو ککھ بھی نہیں وہ نواز شریف سے کارکردگی پوچھتا ہے
زات دی چھپکلی تے جپھیاں شطیر نوں
🖐️🖐️🖐️
پاکستان کے اس عظیم بیٹے فخر درانی @FrehmanD کو سلام!
دی نیوز کی آج کی تحقیقاتی رپورٹ میں بھارتی ایجنسی را کے پاکستانی صحافیوں سے رابطوں کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
بھارتی انٹیلیجنس ایجنسیاں اس طریقے سے رابطہ کر رہی تھیں
فیس بک پر جھوٹی پی آر کمپنی کے نام سے رابطہ کیا گیا۔ پاکستانی اخبارات میں خود سے لکھے مضامین چھاپنے کا ٹاسک دیا گیا۔
تمام مضامین میں پاک فوج، معیشت اور ایس آئی ایف سی پر تنقید تھی۔ ایک مضمون میں باقاعدہ آرمی چیف اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے نام شامل کروائے گئے۔
تمام مضامین بے بنیاد تھے، ان میں صرف بیرونِ ملک مقیم ناقدین (تحریک کذاب کے یوتھیوبرز) کی ٹویٹس کا حوالہ تھا۔ فخر درانی کو کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے 1 لاکھ 3 ہزار روپے بھیجے گئے۔
اسی جعلی خاتون کے اکاونٹ بعد ازاں فی مضمون 1 لاکھ 70 ہزار روپے اور اشاعتی اخراجات دینے کا وعدہ کیا گیا۔ نیٹ ورک نے پاک افغان بارڈر اور سرکاری محکموں کی خفیہ معلومات بھی مانگنا شروع کر دیں۔
غیر ملکی ایجنسی کا شک ظاہر کرنے پر بین الاقوامی میڈیا میں نوکری کا لالچ دیا گیا۔ خطرے کی صورت میں فخر درانی کے خاندان کو فوری یورپ منتقل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
کال کے ذریعے بھی رابطہ کیا گیا جس میں ایک شخص نے کال پر ہندی لفظ 'دشا' استعمال کیا جس سے بھارتی سازش کا اشارہ ملا۔ اس شخص نے بین الاقوامی جاسوسی سافٹ ویئر 'پگاسس' میں بھی اپنے کردار کا دعویٰ کیا۔
فخر درانی نے مطالبات ماننے کے بجائے 8 ماہ تک ثبوت جمع کر کے نیٹ ورک بے نقاب کیا۔ قومی سلامتی کا انتہائی حساس معاملہ ہونے پر دی نیوز متعلقہ سرکاری اداروں کو بھی تمام ثبوت دے دیے ہیں۔
🚨 راولپنڈی کے عوام، راولپنڈی پولیس اور متعلقہ حکام سے فوری اپیل 🚨
یہ ویڈیوز میں نے خود ریکارڈ کی ہیں۔
گزشتہ چند دنوں سے اپنے ایک دوست کے فلیٹ پر آنا جانا ہوا، جہاں کھڑکی سے سامنے والے ایک گھر میں تقریباً 8 سے 10 سال کے ایک معصوم بچے کے ساتھ مسلسل تشدد ہوتے دیکھا۔
کچھ دن پہلے میں نے اس گھر کے سربراہ کو اس بچے کو مارتے ہوئے دیکھا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد آج اسی گھر کے ایک نوجوان بیٹے کو بھی اس بچے پر تشدد کرتے دیکھا۔ میری نظر میں یہ ایک بار کا واقعہ نہیں بلکہ بار بار ہونے والا رویہ معلوم ہوتا ہے۔
اس بچے سے مسلسل گھریلو کام کروایا جاتا ہے، اسے ڈانٹا جاتا ہے، ذلیل کیا جاتا ہے، اور متعدد مرتبہ میں نے اسے لوہے کی راڈ سے مارتے ہوئے بھی دیکھا۔ یہ سب رات کے وقت چھت پر میری آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ یہ سوچ کر دل مزید دکھتا ہے کہ اگر کھلی جگہ پر اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے تو گھر کے اندر اس کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔
میں نے اس پوسٹ کے ساتھ ویڈیوز، گھر کی بیرونی تصویر اور لوکیشن بھی شامل کر دی ہے تاکہ متعلقہ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر اس بچے کی حفاظت یقینی بنائیں اور اگر تحقیقات میں یہ حقائق درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔
ایک معصوم بچے کے ساتھ ظلم کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ راولپنڈی پولیس اور متعلقہ اداروں تک جلد از جلد پہنچ سکے اور اس بچے کو مزید تشدد سے بچایا جا سکے۔
Sattelite block c Near punjab food authority office Opposite Hafiz abad motton shop Rawalpindi
https://t.co/UQRaEJJC7f
🚨 راولپنڈی کے عوام، راولپنڈی پولیس اور متعلقہ حکام سے فوری اپیل 🚨
یہ ویڈیوز میں نے خود ریکارڈ کی ہیں۔
گزشتہ چند دنوں سے اپنے ایک دوست کے فلیٹ پر آنا جانا ہوا، جہاں کھڑکی سے سامنے والے ایک گھر میں تقریباً 8 سے 10 سال کے ایک معصوم بچے کے ساتھ مسلسل تشدد ہوتے دیکھا۔
کچھ دن پہلے میں نے اس گھر کے سربراہ کو اس بچے کو مارتے ہوئے دیکھا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد آج اسی گھر کے ایک نوجوان بیٹے کو بھی اس بچے پر تشدد کرتے دیکھا۔ میری نظر میں یہ ایک بار کا واقعہ نہیں بلکہ بار بار ہونے والا رویہ معلوم ہوتا ہے۔
اس بچے سے مسلسل گھریلو کام کروایا جاتا ہے، اسے ڈانٹا جاتا ہے، ذلیل کیا جاتا ہے، اور متعدد مرتبہ میں نے اسے لوہے کی راڈ سے مارتے ہوئے بھی دیکھا۔ یہ سب رات کے وقت چھت پر میری آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ یہ سوچ کر دل مزید دکھتا ہے کہ اگر کھلی جگہ پر اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے تو گھر کے اندر اس کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔
میں نے اس پوسٹ کے ساتھ ویڈیوز، گھر کی بیرونی تصویر اور لوکیشن بھی شامل کر دی ہے تاکہ متعلقہ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر اس بچے کی حفاظت یقینی بنائیں اور اگر تحقیقات میں یہ حقائق درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔
ایک معصوم بچے کے ساتھ ظلم کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ راولپنڈی پولیس اور متعلقہ اداروں تک جلد از جلد پہنچ سکے اور اس بچے کو مزید تشدد سے بچایا جا سکے۔
Sattelite block c Near punjab food authority office Opposite Hafiz abad motton shop Rawalpindi
https://t.co/UQRaEJJC7f
جمہور اور کلٹ کا بنیادی فرق
گزشتہ شام جب پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کی خبر نے عوام کی دال والی آندر کو چیرتے ہوئے نوٹیفیکیشن سامنے آیا تو پٹوارخانہ کے جماندرو پٹواریوں نے بھی وفاق پر شدید گولہ باری کرتے ہوئے اس اقدام کو ظالمانہ قرار دیا اور اب سالم رکشہ کرواکر دیگر جماعتوں کی جانب نظر دوڑائیں تو عمرانی فتنہ کے “شوشل “میڈیا ہر وقت عمران کو دورِ حاضر کا امام اور انبیاء علیہ السلام سے آگے دکھا رہا ہوتا ہے اور اگر مولانا جماعت کی جانب پہنچیں تو شہدا کے متعلق انتہائی غیر مناسب اور گھٹیا بیان کے دفاع پر ڈانگ سوٹا لئے دکھائی دیتے ہیں
جمہور کی بنیاد اس تنقید پر ہے جو اپنی جماعت کی غلط پالیسیوں اور اپنے لیڈران کے غلط بیانات پر چھت پر چڑھ کر تنقید کریں ورنہ آپ کلٹ کے بس سٹاپ پر ڈھٹائی سے کھڑے ہیں
رکشہ والے کو کرایہ مولانا نے دینا ہے
پیرا فورس کی سرکاری گاڑیوں کا غلط استمال
گاڑی افسران کے بچوں کے لئے استمال ہونے لگی بشری شکیل نے لاہور میں رنگے ہاتھوں پیرا فورس کی گاڑی پکڑ لی جو کے سرکاری افسر کے بچوں میں استمال ہو رہی تھی
پی ٹی آئی رکن اسمبلی شاہ تراب نے خیبر پختونخوا حکومت کا پوسٹ مارٹم کردیا
ایک اعلی سطحی اجلاس تھا وزیر اعلی ہائوس میں جنوبی اضلاع سے متعلق
اس اجلاس میں افسران بالا نے کہا کہ صحت میں ہم نے 80 فیصد بہتری کرلی ہے
میں نے کہا کہ مجھے 10منٹ بات کرنے کا موقع دیں
میں نے افسران سے پوچھا کہ ڈیٹا کہاں سے ملا ہے؟ میں نے جو حالات دیکھے ہیں نہ ڈاکٹرز ہیں نہ ادویات ہیں ریفر ٹو پشاور 1947سے سنتے آرہے ہیں
پورے صوبے کی بات کروں گا ادویات کی جعلی بل بنتے ہیں دو لاکھ کی دوائی کے بدلے 10 لاکھ کا بل بنتا ہے
میرے ہسپتال سے 80لاکھ نکلے ہیں کوئی نہیں بتا رہا کہ یہ کہاں لگے ہیں
پورا مافیا ہے ایک چین بیٹھا ہے وزیر سیکرٹری تک سب ایک چین ہے ایک مافیا ہے
نوکری آتی ہے جس محکمہ میں بھی ہو ، میرٹ تو ہے ہی نہیں
یہ فضول بکواس ہے کہ میرٹ ہے
لوگ پوچھتے ہیں کہ ثبوت لائو
کہاں سے لائوں ثبوت
نواز شریف زرداری کے ثبوت کون لایا؟
میں پاگال ہوں کہ اپنے نام پر اثاثے بنائوں؟
ایسے لوگ ڈھونڈے جاتے ہیں جو پہلے سے اربوں کے مالک ہیں
تعلیم میں صفر کارکردگی ہے
ہنگو میں ایک ڈگری کالج ہے اس کی چاردیواری گر چکی ہے
محکمہ تعلیم ، سکولوں میں دراڑیں پڑچکی ہیں
جائو تو کہتے ہیں فنڈز نہیں ہے
کیوں بیٹھے ہوں پھر؟
گورنس صفر ہے
وزیر کی حیثیت نہیں ہے سیکرٹری ان کی بات نہیں مانتے
ممبران اسمبلی جاتے ہیں صرف ہاں ہاں کرتے ہیں
کیونکہ آج آپ کی اہمیت نہیں ہے
اوپر سے سب گندا آرہا ہے اس لئے یہ حال ہے