ارشد ندیم نے پیرس 2024 میں 92.97 میٹر کے اولمپک ریکارڈ کے ساتھ پاکستان کی تاریخ کا پہلا انفرادی اولمپک گولڈ جیتا اور ملک کا 32 سالہ اولمپک میڈل انتظار ختم کیا تھا۔
ارشد ندیم اب کسی ایک مقابلے، ایک تھرو یا ایک پوزیشن کا نام نہیں — وہ پاکستان کی تاریخ کا نام ہے۔ 🇵🇰🥇
پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل جیت کر اور اولمپک ریکارڈ قائم کرکے ارشد ندیم وہ کارنامہ سرانجام دے چکے ہیں جس نے انہیں ہمیشہ کے ل��ے پاکستان کے عظیم ترین ایتھلیٹس کی صف میں کھڑا کردیا ہے۔
اب کسی مقابلے میں وہ پانچویں نمبر پر آئیں، چھٹے، آٹھویں یا میڈل نہ بھی جیت سکیں، اس سے ان کا تاریخی مقام کم نہیں ہوتا۔ وہ اپنا سب سے بڑا امتحان جیت چکے ہیں، تاریخ رقم کر چکے ہیں اور پاکستان کو دنیا کے سب سے بڑے اسپورٹس اسٹیج پر گولڈ دلا چکے ہیں۔
ہمیں ایسے ہیروز کی قدر کرنا سیکھنا چاہیے۔ ہر مقابلے کے نتیجے پر انہیں جج کرنے کے بجائے یاد رکھیں کہ ارشد ندیم جیسا ہیرا شاید پاکستان کو دوبارہ ملے… اور شاید نہ ملے۔
ارشد ندیم تاریخ میں امر ہو چکے ہیں۔ ان کی قدر کیجیے۔ 🇵🇰❤️
#ArshadNadeem #Pakistan #OlympicChampion #OlympicGold #Paris2024 #PakistanSports #JavelinThrow #ProudPakistan #AbdulGhaffarSports
Following intensive talks, we are pleased to announce that the Peace Deal between the United States of America and Islamic Republic of Iran has been REACHED. Both sides have declared the immediate and permanent termination of military operations on all fronts, including in Lebanon.
The official signing ceremony will be on Friday, 19 June in Switzerland.
We would like to thank the United States of America and the Islamic Republic of Iran for their commitment to finding a diplomatic solution to the conflict. We would also like to extend our sincere appreciation to our brothers in this mediation effort, the great leadership of State of Qatar, for their support in reaching this agreement. I would also especially thank the visionary leadership of Kingdom of Saudi Arabia and Republic of Türkiye for their immense contributions in this regard.
With the agreement now in place, mediators will facilitate a series of meetings this week. These pre-implementation discussions will lay the foundation for the technical talks and the official signing ceremony.
@realDonaldTrump@JDVance@SecRubio@SteveWitkoff@SEPeaceMissions@drpezeshkian@mb_ghalibaf@araghchi
More than a fan, a symbol of unwavering support for Pakistan cricket 🇵🇰💚
Thank you, Chacha Cricket, for a lifetime of passion, memories and loyalty 👏
#ThankYouChachaCricket
میرے عزیز تحریکِ انصاف کے کارکنو!
آج میں آپ سے کسی عہدے، منصب یا ذاتی مفاد کے لیے مخاطب نہیں ہوں۔ میں آپ سے اس جماعت کے مستقبل کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جس کے لیے لاکھوں کارکنوں نے قربانیاں دیں، جیلیں کاٹیں، مقدمات بھگتے، روزگار گنوائے، تشدد برداشت کیا اور اپنے قائد کے ساتھ وفاداری نبھائی۔
میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔
کیا آپ نے کبھی سنجیدگی سے غور کیا ہے کہ آخر تحریکِ انصاف کو اس حال تک کس نے پہنچایا؟
وہ جماعت جس نے 8 فروری 2024 کے انتخابات میں تمام تر دباؤ، گرفتاریوں، میڈیا بلیک آؤٹ اور رکاوٹوں کے باوجود ملک بھر میں عوامی مینڈیٹ حاصل کیا، وہ چند ہی مہینوں میں اس مقام تک کیسے پہنچ گئی کہ آج بڑھتے ہوئے جبر کے خلاف مؤثر احتجاج تک کرنے کی صلاحیت کھوتی جا رہی ہے؟
میری رائے میں اس زوال کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جماعت کے معاملات آہستہ آہستہ منتخب قیادت اور کارکنوں کے ہاتھوں سے نکل کر ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں چلے گئے جو نہ عوام کے سامنے جوابدہ تھے اور نہ سیاسی جدوجہد کے میدان میں موجود تھے۔ اختلافِ رائے کو غداری قرار دیا گیا، سوال پوچھنے والوں کو سازشی کہا گیا اور ہر اُس شخص کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی جس نے پالیسیوں پر اختلاف کیا۔
28 فروری 2024 تک نہ یہ صورتحال تھی اور نہ یہ لوگ میدان میں تھے۔ اس وقت کارکن متحرک تھے، قیادت متحرک تھی اور جماعت مسلسل آگے بڑھ رہی تھی۔ مگر اس کے بعد پارٹی کے معاملات پر خان صاحب کی بہنوں، خصوصاً علیمہ خان، اور بیرون ملک بیٹھے چند یوٹیوبرز کا اثر و رسوخ بڑھتا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فیصلہ ��ازی محدود ہوتی گئی اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرایا جانے لگا۔
اگر یہ راستہ درست تھا تو پھر کامیابی کہاں ہے؟
اگر فیصلے درست تھے تو جماعت مضبوط کیوں نہ ہوئی؟
اگر حکمتِ عملی درست تھی تو آج احتجاجی سیاست مفلوج کیوں ہے؟
انتخابات کے صرف سترہ دن بعد مجھے فوکل پرسن اور ترجمان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
اس کے بعد صرف ایک ماہ میں مجھے پارٹی سے نکال دیا گیا۔
میرے چھوٹے بھائی کو خیبرپختونخوا کابینہ سے صرف ایک ماہ اور بارہ دن بعد فارغ کر دیا گیا۔ میڈیا میں اس کے خلاف کرپشن کے الزامات کی مہم چلائی گئی لیکن آج تک قوم کو کوئی قابلِ اعتبار ثبوت نہیں دکھایا جا سکا۔
انتخابا�� کے تیس دن بعد مجھے سینئر نائب صدر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
صرف اکتالیس دن بعد وہ نامزدگی واپس لے لی گئی جو خود عمران خان صاحب نے مجھے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے لیے دی تھی۔
پھر مجھے دوسری مرتبہ پارٹی سے نکالا گیا۔
بعد ازاں جب میری ملاقات عمران خان صاحب سے ہوئی تو نہ صرف یہ فیصلہ واپس لیا گیا بلکہ انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
میں نے سمجھا کہ شاید اب معاملات درست سمت میں چل پڑیں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
صرف بارہ دن بعد مجھے سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی سے بھی نکال دیا گیا اور اسی دوران بعض یوٹیوبرز نے میرے خلاف منظم کردار کشی کی مہم شروع کر دی۔
میں اسلام آباد میں جلوسوں اور احتجاجی سرگرمیوں کی قیادت کر رہا تھا۔ لیکن مجھے دور دراز علاقوں میں بھیج دیا گیا جبکہ اسلام آباد میں قیادت دوسروں کے سپرد کی گئی۔ میڈیا مسلسل میرے خلاف مہم چلاتا رہا اور میں مسلسل عمران خان صاحب کے حق میں آواز بلند کرتا رہا، یہاں تک کہ مجھے تیسری مرتبہ بھی پارٹی سے نکال دیا گیا۔
میں آج تک پوچھتا ہوں کہ تینوں مرتبہ میرے خلاف الزام کیا تھا؟
کون سا شوکاز نوٹس؟
کون سی انکوائری؟
کون سا ثبوت؟
اصل مسئلہ صرف یہ تھا کہ بعض لوگوں نے عمران خان صاحب کو یہ باور کرا دیا تھا کہ احتجاجی تحریکوں کی کامیابی کا کریڈٹ مروت لے رہا ہے اور اس کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔
ایک مرتبہ عمران خان صاحب نے مجھ سے کہا:
"مروت! تمہارا عروج غیر معمولی رفتار سے ہوا ہے۔"
میں نے جواب دیا:
"خان صاحب! ان آزمائشی دنوں میں اگر کوئی بھی شخص آسان راستے کی بجائے مشکل راستہ اختیار کرتا تو وہ بھی یہی مقام حاصل کر سکتا تھا۔"
دوسروں نے سہولت کا راستہ چنا، میں نے مشکل راستہ چنا۔
دوسروں نے خاموشی اختیار کی، میں نے سڑکوں کا راستہ اختیار کیا۔
دوسروں نے محفوظ مقامات تلاش کیے، میں کارکنوں کے درمیان کھڑا رہا۔
آج بھی بعض کارکن یہ کہتے ہیں کہ میری شناخت تحریکِ انصاف نے بنائی۔
میں اس سوچ سے اختلاف کرتا ہوں۔
تحریکِ انصاف نے مجھے پلیٹ فارم ضرور دیا، لیکن شناخت اللہ تعالیٰ کے فضل، میری جدوجہد، میری حکمتِ عملی، میری جرات اور ان مشکل ترین دنوں میں اختیار کیے گئے راستے سے بنی۔
اگر مئی 2023 کے بعد میں میدان میں نہ نکلتا، اگر ملک بھر میں احتجاجی سرگرمیوں، جلسوں، جلوسوں اور ورکرز کنونشنز میں شریک نہ ہوتا، تو شاید آج صورتحال مختلف ہوتی۔
تاہم میں کبھی یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ یہ سب کچھ میں نے اکیلے کیا۔
اگر مئی 2023 کے بعد تحریکِ انصاف زندہ رہی تو اس کا کریڈٹ کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان لاکھوں کارکنوں کو جاتا ہے جنہوں نے ہر مشکل برداشت کی۔
یہ کامیابی ان تمام رہنماؤں اور کارکنوں کی بھی تھی ��نہوں نے مشکل حالات میں پارٹی کا پرچم بلند رکھا۔
بیرسٹر گوہر خان، عمر ایوب خان، علی امین خان گنڈاپور، علی محمد خان، جنید اکبر خان، عاطف خان، شہرام خان ترکئی، اسد قیصر، بابر سلیم سواتی، صاحبزادہ شفقات اللہ، شاندانہ گلزار خان، باجوڑ باغی، سینیٹر خرم ذیشان، شہریار آفریدی، خیبرپختونخوا کے اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی، بلوچستان کی قیادت، سندھ کی قیادت اور ہزاروں کارکن اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ ہم نے انتہائی مشکل حالات میں تحریک کو زندہ رکھنے کی کوشش کی۔
اکتوبر 2024 میں عمران خان صاحب نے فیصلہ کیا کہ احتجاجی تحریک کو منظم کرنے کے لیے ایک پروٹیسٹ کمیٹی قائم کی جائے جس کی سربراہی میں کروں گا۔
میں نے یہ اعلان اڈیالہ جیل کے باہر کیا۔
مگر صرف دو دن بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔
مجھے بتایا گیا کہ بعض لوگوں نے عمران خان صاحب کو یہ باور کرایا کہ اگر احتجاجی تحریک کی قیادت مروت کرے گا تو اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا۔
میں دوبارہ عمران خان صاحب کے پاس گیا اور عرض کیا کہ جماعت کو ایک منظم احتجاجی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔
میں نے دوبارہ کوشش کی۔
پھر ایک اور ملاقات کی درخواست کی۔
مگر بالآخر وہ وقت بھی آیا جب میرے لیے ملاقات کے دروازے بند ہوتے گئے۔
نومبر 2024 میری ان سے آخری ملاقات تھی۔
فروری 2025 میں مجھے دوبارہ پارٹی سے نکال دیا گیا۔
اس کے بعد یوٹیوبرز کی ایک مستقل مہم شروع ہوئی تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ مروت غلط تھا اور باقی سب درست تھے۔
میں آج کارکنوں سے پوچھتا ہوں:
اگر وہ سب درست تھے تو کامیابی کہاں ہے؟
اگر حکمتِ عملی درست تھی تو نتائج کہاں ہیں؟
اگر فیصلہ سازی درست تھی تو جماعت اس حال تک کیوں پہنچی؟
اگر سب کچھ بہترین تھا تو آج احتجاجی سیاست کیوں مفلوج ہے؟
جنید اکبر کے ساتھ گلگت میں پیش آنے والے واقعات اور اسد قیصر کے راستے میں کھڑی کی جانے والی رکاوٹیں اس زوال کی تازہ مثالیں ہیں۔
میں آج بھی یہ کہتا ہوں کہ اگر مقصد دولت، وزارت یا اقتدار ہوتا تو میرے لیے مواقع کی کمی نہیں تھی۔
میں آسان راستہ اختیار کر سکتا تھا۔
مگر میں نے ہمیشہ کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہونے کو ترجیح دی۔
آج میں تحریکِ انصاف کے کارکنوں سے اپنی آخری اپیل کر رہا ہوں۔
اگر آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ جماعت کو متحد کرنا ہے، اس کی سمت درست کرنی ہے، اس کی تنظیمِ نو کرنی ہے اور اپنے قید رہنماؤں کی رہائی کے لیے مؤثر تحریک چلانی ہے تو مجھے صرف تین ماہ کے لیے جماعت کی تنظیمی کمان دے دیں۔
صرف تین ماہ۔
میں وعدہ کرتا ہوں کہ جماعت کو متحد�� متحرک اور منظم کر کے دکھاؤں گا۔
اپنے قید قائدین کی رہائی کے لیے ایک حقیقی عوامی تحریک منظم کر کے دکھاؤں گا۔
اس کے بعد میں خود مستقل طور پر جماعت سے علیحدہ ہو جاؤں گا کیونکہ موجودہ ماحول، سازشوں، کردار کشی، جھوٹ، بہتان، یوٹیوبر کلچر اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سیاست سے مجھے شدید نفرت ہے۔
یہ میری کارکنوں سے آخری اپیل ہے۔
آنکھیں کھولیں۔
حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں۔
محض مقبولیت کافی نہیں ہوتی۔ اگر مقبولیت ہی سب کچھ ہوتی تو عمران خان صاحب گزشتہ تین برس سے جیل میں نہ ہوتے۔
سیاسی جماعتیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ تنظیم، اتحاد، مشاورت، برداشت اور درست حکمتِ عملی سے زندہ رہتی ہیں۔
اگر آپ نے وقت کی نبض نہ پہچانی، اگر آپ نے اختلافِ رائے کو غداری سمجھنے کی روش ترک نہ کی اور اگر آپ نے جماعت کو چند غیر منتخب اثرات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تو آنے والے چھ ماہ جماعت کے لیے انتہائی بھاری ثابت ہو سکتے ہیں۔
میں نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
اور اگر میری یہ آخری فریاد بھی سنی نہ گئی تو پھر تحریکِ انصاف کے مستقبل پر صرف اتنا ہی کہا جا سکتا ہے:
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
Hats off to the Pakistani leadership for working day and night to broker a peace deal between the US and Iran for an end to war. Cries by the Israeli government and pro-Israeli US lawmakers are a treat to witness #IranWar#امن_کا_سفیرـپاکستان
Excited to know that Fans across the world will now have direct access to Pakistan’s bilateral, domestic and women’s cricket matches through PCB’s own official platform and the journey begins with *Pakistan vs Australia ODIs*. Streaming FREE exclusively on *PCB LIVE* App. #PCBLIVE_
Pakistan must appoint Babar Azam as test Captain and Younis Khan teat head coach
Bring new pacers like Ali Raza, Hunain
Also Sahibzada Farhan and Fakhar Zaman in test team
We need all these changes
#PakvBan
@GFarooqi@fawadchaudhry بہت ظلم ہو رہا ہے ہمارے گاؤں میں آس پاس کے گاؤں میں سینکڑوں کتوں کو مارا گیا ہے
میں خود ویٹرنری کے شعبے سے وابستہ ہوں اور میں اس تکلیف کو بہت زیادہ سمجھتا ہوں۔
حقیقتاً بہت بڑا ظلم ہے خدارا اس کو روکا جائے
@SmartyAli13@RShahzaddk پیارے بھائی میں نے بات زمیندار والے پوائنٹ پر کی ہے
ہم گاؤں میں رہتے ہیں اور ہمیں پتا ہے کسان کس قدر پریشانی کا شکار ہے بجلی اتنی مہنگی ہے نہری نظام زیرو ہے کسان نے صرف چھوٹے لیول پر اپنی زمینوں میں سولر ٹیوب ویل اس لیے لگائے ہوئے ہیں کہ کسی طرح فصل کا پانی پورا کر سکے