Today, I with my fellow lawyers organized a protest at Sessions Court Quetta, Quetta Kacheri and Anti-Terrorism Court (ATC) Quetta against the faceless trials being held against the members of the Baloch Yakjehti Committee including my sister Dr. Mahrang Baloch.
I am a lawyer and I can't be silent when the fundamental rule of justice is being violated. Faceless trials are unconstitutional, lack transparency and erode public confidence in the judiciary. No justice may be done behind closed doors.
As a sister of Dr. Mahrang Baloch, I have seen the human impact of these actions. But this is not a one man problem. It is the preservation of the rule of law, the defense of civil liberty and the guarantee of due process and fair hearing to every citizen of the State.
Today, lawyers in Quetta spoke out for the detained BYC leaders and also for the integrity of the Justice system. We reject the faceless and non-transparent trials and we demand that open, fair and constitutional trials be restored immediately.
I urge the legal profession, human rights activists, civil society and every voice in Pakistan to unite in condemning this perilous trend. If the right to a fair trial can be threatened now, no citizen will be secure from injustice in the future.
#EndUnfairTrialsOfBYCLeaders
پریس ریلیز
ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی قانونی ٹیم کی جانب سے ہم آج ایک اہم پریس کانفرنس کے ذریعے عوام، میڈیا، وکلاء برادری، انسانی حقوق کے اداروں اور متعلقہ حکام کی توجہ اُن سنگین قانونی اور آئینی خدشات کی جانب مبذول کروا رہے ہے جو زیرِ حراست ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کے مقدمات کی کارروائی کے دوران مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔
ہم شدید تشویش کے ساتھ یہ بات اجاگر کرتے ہیں کہ چودہ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو شفاف، منصفانہ اور کھلی عدالتی کارروائی تک مؤثر رسائی فراہم نہیں کی گئی۔ اس دوران مقدمات کی نوعیت اور عدالتی طریقۂ کار میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں۔ ابتدا میں انتظامی حراست، بعد ازاں مختلف مقدمات کا اندراج، مسلسل جسمانی ریمانڈ، جیل ٹرائل، اور اب ویڈیو لنک کے ذریعے ٹرائل جیسے اقدامات اس سلسلے کا حصہ رہے ہیں۔
قانونی و بنیادی تقاضا یہ ہے کہ عدالتی کارروائی نہ صرف منصفانہ ہو بلکہ منصفانہ نظر بھی آئے۔ کھلی عدالت میں سماعت، عوامی نگرانی اور شفاف عدالتی عمل منصفانہ ٹرائل کے بنیادی اصول ہیں۔ جیل ٹرائل کے بعد اب مقدمات کی کارروائی کو ویڈیو لنک کے ذریعے چلانے سے شفافیت اور عوامی رسائی مزید محدود ہو گئی ہے، جس کے باعث مقدمات کے منصفانہ انعقاد کے حوالے سے سنجیدہ سوالات جنم لے رہے ہیں۔
اس تناظر میں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ برس متعارف کرائے گئے “فیس لیس کورٹس” کے نظام پر بھی سنجیدہ قانونی اور آئینی تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس نظام میں عدالتی کارروائی روایتی کھلی سماعت سے ہٹ کر محدود اور فاصلاتی طریقۂ کار کے تحت انجام دی جاتی ہے، جس کے باعث شفافیت، عوامی نگرانی اور منصفانہ ٹرائل کے اصولوں پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اور اب آنلائن ٹرائل کے زریعے ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کے فیس لیس کورٹ میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ ان خدشات کو مزید تقویت دیتی ہے۔
ہم یہ بھی ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ زیرِ حراست رہنماؤں نے جیل ٹرائل کے دوران عدالتی ماحول اور عدالتی رویے سے متعلق متعدد بار تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہی تحفظات کی بنیاد پر متعلقہ جج کی تبدیلی کے لیے باقاعدہ قانونی درخواست عدالت میں دائر کی جا چکی ہے، جس پر فوری اور منصفانہ سماعت ناگزیر ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ یہ درخواست چار ماہ قبل دائر کیے جانے کے باوجود تاحال زیرِ التواء ہے، حالانکہ ایسے معاملات میں فوری سماعت انصاف کے تقاضوں کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔
قانونی ٹیم کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ مقدمات کی سماعت کے دوران عدالتی غیرجانبداری کے اصول متاثر ہو رہے ہیں۔ مزید برآں، گزشتہ سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل سرکاری وکیل کے ساتھ موجود تھے جنہوں نے جج پر انتہائی سخت لہجہ اپنایا اور انہیں جلد از جلد سزا سنانے کے لیے پریشان کیا، جس کے باعث منصفانہ ٹرائل سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
مزید یہ کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دفعہ 144 سے متعلق درج پندرہ سے زائد مقدمات بھی موجود ہیں۔ ان مقدمات کو بھی انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) میں منتقل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ زیرِ حراست رہنماؤں کی قید اور قانونی کارروائی کو غیر ضروری طور پر طول دیا جا سکتا ہے۔
اس وقت ڈاکٹر ماہرنگ اور ان کے ساتھی جیل کے اندر ویڈیو ٹرائل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان کے مقدمات کی سماعت آئین اور قانون کے مطابق کھلی عدالت میں ہونی چاہیے۔ بطور وکلاء ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے مؤکلین کے قانونی، آئینی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی فورم پر آواز بلند کریں۔
ہم اس پریس کانفرنس کے توسط سے اپنے مطالبات کا اعلان کرتے ہے کہ :
•آن لائن اور جیل ٹرائل کا فوری خاتمہ کیا جائے اور مقدمات کی سماعت کھلی عدالت میں منتقل کی جائے تاکہ عدالتی کارروائی شفاف، قابلِ نگرانی اور عوامی رسائی کے اصولوں کے مطابق ہو۔
•جج کی تبدیلی سے متعلق دائر درخواست پر فوری سماعت کی جائے اور عدالتی غیرجانبداری کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمے کی سماعت کسی غیرجانبدار جج کے سپرد کی جائے۔
•جج کی تبدیلی سے متعلق درخواست کے فیصلے تک مقدمات کی مزید کارروائی روکی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے متاثر نہ ہوں اور فریقین کا اعتماد برقرار رہے۔
•ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور ان ساتھیوں کے قانونی حقوق، وکلاء تک رسائی اور اہلِ خانہ سے رابطے کو یقینی بنایا جائے، جبکہ مقدمات کو غیر ضروری طوالت دینے والے
It’s been far too long since our friends went missing. Still, we hold onto hope and pray that both of you return home safely.
کچھ یاد اُنہیں بھی کرلو
جو لوٹ کے گھر نہ آئے
#ReleaseZubairBaloch#ReleaseDawoodBaloch
11 days and Baloch Film-making student Mehrab Khalid is still missing. This 08 June, we demand the release of Mehrab Khalid along with thousands of Baloch youth and intellectuals snatched away from us!
#ReleaseMehrabKhalid#8thJune
Bsc Wafaq and Punjab will hold an X (formerly twitter) space concluding our Campaign on 8 June Missing persons day
Tittle: The Missing, The Waiting, The Resistance
Time:9:00 PM
Date : 08/06/2026
An artist is regraded to be an epitome of portraying a society with their capabilities. Yet, we are witnessing the illegal imprisonment of Baloch artist Mehrab khalid.
Suppression of artists is the suppression of societal development.
Speak up for Mehrab.
#ReleaseMehrabKhalid
Ghulam Qadir Baloch, known as Pappu, a simple laborer from Ibrahim Village, Kathore (Malir, Karachi), was reportedly taken from his home late at night.
He has no known criminal record, no political involvement, and struggles to speak clearly due to a speech impairment...1/3
Mehrab! What you did not realize was that, simply just being a Baloch is enough to become a target of state enforced abductions.
#ReleaseMehrabKhalid#SaveBalochStudents
Just days after winning 1st place in the Short Film category at Agri Media Fest XI, Mehrab Khalid was abducted on May 29 while working on a project with classmates. Others were later released after interrogation. Mehrab remains missing.
#ReleaseMehrabKhalid#SaveBalochStudents
Mehrab Khalid, a student of “Filming ” at the National College of Arts (NCA),Lahore, was reportedly taken on the night of 29 May at around 12:30 a.m. Along with him, eight of his classmates were also detained and later released. However, Mehrab’s whereabouts remain unknown.
His disappearance has raised serious concerns among Baloch students studying across the country. The continued lack of information about his fate is deeply troubling and raises questions about due process and fundamental rights.
We demand the immediate disclosure of Mehrab Khalid’s whereabouts and his safe release.
#ReleaseMehrabKhalid
Ghani remains missing for the 363rd day.
These numbers are not mere figures to be counted; they represent Ghani’s illgeal custody, the suffering of his family, a deeply disturbed community, & the suppression of Baloch intellectuals for their dissidence.
#ReleaseGhaniBaloch
ایک بلوچ استاد کی شہادت پر اساتذہ کے نام پیغام
علمی طور پر ہماری زبانوں کے محافظینِ علم و دانش کی شہادت جسمانی سے زیادہ غیر مادی شکل میں نمودار ہوتی ہے، کیونکہ یہ فرد کے بجائے اجتماعی سانحہ ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسے حالات میں بلوچ ادیبوں، لکھاریوں اور اساتذہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی بے بسی اور خوف کو ختم کر کے آگے بڑھیں، کیونکہ سرکاری نوکری یا دیگر مفادات کے نام پر غیرجانبداری کا نعرہ اب نسلوں کی سودا کے علاوہ کچھ نہیں، اب بلوچ اساتذہ، درس و تدریس اور علم و ادب سے منسلک تمام حلقے اپنے تاریخی زمہ داریوں سے روگردانی کی بجائے اپنے پیشے کی حرمت کی خاطر اس خاموشی کو ترک کردیں، کیونکہ جابر جب بندوق تھان لیتا ہے تو اسے نہیں یاد نہیں رہتا ہے کہ تم کتنے غیر جانبدار تھے بلکہ اس کے لئے محض تمہارا پیشہ اور شناخت معنی رکھتے ہیں جنہیں وہ جڑ سے اکھاڑنا چاہتا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایسے حالت میں سب سے مؤثر آوازیں حلقہِ علم بنے ہیں لہذا بلوچ حلقہِ علم و ادب اپنا موثر کردار نبھائے۔
پد ننے آن دا شعر اک ویران مرور،
مہروان آتا مہراک ویراں مرور،
نن کہ ارمان کرور دا نوشتاک حیات،
دا غزل نظم و بحراک ویران مرور۔🥀
آہ، پروفیسر۔💔
#StopKillingBalochTeachers
پروفیسر غمخوار حیات بلوچ کو اُن کے آبائی علاقے نوشکی میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانا، گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی مستونگ سے جبری گمشدگی، اور پنجگور کے علاقے پروم سے اساتذہ کو لاپتہ کرنا بلوچ دانشوروں کی منظم اجتماعی نسل کشی ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل وفاق و پنجاب
بلوچستان میں جاری خون کی حولی ایک اندھے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے جاری ہے۔ بلوچستان میں اساتذہ، پروفیسرز، ادیب، ڈاکٹر، شاعر اور طلبہ کوئی بھی محفوظ نہیں۔ پروفیسر غمخوار حیات کا قتل ہمارے سماج کو ناخواندگی اور لاشعوری کی طرف دکھیلنے کی مترادف ہے۔ اس طرح ہمارے ادیبوں کو ایک ایک کرکے شہید کرنا ہمیں اجتماعی طور پر مٹانے کی برابر ہے، جس کی میں پُرزور مذمت کرتا ہوں۔
بلوچ قوم اپنے اساتذہ کے قتل کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوجائیں اور آواز بلند کریں۔
#StopBalochGenocide
واجہ سباء، زاہد آسکانی، پروفیسر رزاق، ماسٹر نزیر مری، غمخوار حیات، ءُ دگہ بازینے اے یک درچ اِنت کہ مئے چارگرد ءِ زانتکاریں مردم یک پہ یک جنَگ بوھگ ءَ اَنت۔
من مہ باں بلّے واب زندگ بنت
زند ءَ جوریں جواب زندگ بنت
مہر ءِ درستیں حساب زندگ بنت