🛑ایران کی کامیابی میں سب سے بڑا ہاتھ اس انسان کا بھی ہے لیکن یہ وفود میں نہیں آیا کیونکہ ایرانی جانتے ہیں کہ فوج کا کام پالیسی بنانا نہیں بلکہ لوگوں کی حفاظت کرنا ہے🔥
جناح کنونشن سینٹر کے مناظر
ایرانی خاتون صحافی اور پاکستانی خاتون صحافی
فرق واضح ہے یہ فرق آپکو پاکستان کے اخلاقی اسلامی معاشرتی زوال کی داستان سنا رہا ہے
قاسم خان کی گفتگو 🚨
میرے والد، عمران خان، تقریباً ایک ہزار دنوں سے قید میں ہیں۔ وہ ایک ایسے نظام کا بنیادی نشانہ ہیں جو اختلافِ رائے کو سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک سنگین جرم سمجھتا ہے
#SaveImranKhansEyesight
پاکستان میں قید ہمارے والد سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے جیل میں ان کے بنیادی انسانی حقوق سلب کیے گئے ہیں ملاقاتوں پر پابندی ہے ان کی رہائی کے لیے مداخلت کی جائے، عمران خان کو ان کے خاندان اور ڈاکٹرز تک رسائی دیجائے۔ قاسم خان سلمان خان
#SaveImranKhansEyesight
ایران کی عظیم قوم کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے بہادر فرزندوں کی جدوجہد اور دشمن کے مقابلے میں ان کی تاریخی موجودگی کی بدولت، دشمن ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے ایران اور مزاحمتی قوتوں سے شدید جنگ بندی کی درخواستیں کر رہا ہے۔
تاہم، ملکی حکام نے ابتدا ہی سے یہ فیصلہ کر رکھا تھا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس کے مقاصد حاصل نہ ہو جائیں، جن میں دشمن کو پچھتاوے اور مایوسی تک پہنچانا اور ملک کے خلاف طویل مدتی خطرات کا خاتمہ شامل ہے۔ اسی بنا پر ان تمام درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا، اور آج جنگ کا چالیسواں دن ہے جو مسلسل جاری ہے۔
ایران نے امریکی صدر کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائنز کو بھی کئی مرتبہ مسترد کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ دشمن کی کسی بھی ڈیڈ لائن کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔
اب ہم ایران کی عظیم قوم کو خوشخبری دیتے ہیں کہ جنگ کے تقریباً تمام مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں اور آپ کے بہادر سپاہیوں نے دشمن کو تاریخی کمزوری اور مستقل شکست سے دوچار کر دیا ہے۔
ایران کا تاریخی فیصلہ، جسے پوری قوم کی متفقہ حمایت حاصل ہے، یہ ہے کہ اس جنگ کو اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک ان عظیم کامیابیوں کو مستحکم نہ کر لیا جائے اور خطے میں نئی سیکیورٹی اور سیاسی حقیقتیں قائم نہ ہو جائیں، جو ایران اور مزاحمت کی طاقت اور خودمختاری کو تسلیم کریں۔
اسی تناظر میں، اور انقلابِ اسلامی کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (اللہ ان کی حفاظت فرمائے) کی رہنمائی اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی منظوری سے، اور میدانِ جنگ میں ایران کی برتری، دشمن کی دھمکیوں کے باوجود اس کی ناکامی، اور ایرانی عوام کے تمام جائز مطالبات کی باضابطہ قبولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کیے جائیں تاکہ تفصیلات کو حتمی شکل دی جا سکے۔ یہ عمل زیادہ سے زیادہ 15 دن کے اندر مکمل کیا جائے گا تاکہ میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی ایران کی فتح کو سیاسی مذاکرات میں بھی مستحکم کیا جا سکے۔
اس سلسلے میں، ایران نے دشمن کی تمام پیش کردہ تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے ایک 10 نکاتی منصوبہ تیار کیا اور اسے پاکستان کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچایا۔ اس منصوبے میں درج ذیل بنیادی نکات شامل ہیں:
•آبنائے ہرمز سے گزرنے کے عمل کو ایرانی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت کنٹرول کیا جائے، جس سے ایران کو منفرد اقتصادی اور جغرافیائی اہمیت حاصل ہوگی
•مزاحمتی محور کے تمام عناصر کے خلاف جنگ کا خاتمہ، جو اسرائیلی حکومت کی تاریخی شکست کے مترادف ہوگا
•خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں اور تعیناتیوں سے افواج کا انخلا
•آبنائے ہرمز میں محفوظ ٹرانزٹ کا ایسا نظام قائم کرنا جو ایران کی بالادستی کو یقینی بنائے
•ایران کو پہنچنے والے تمام نقصانات کی مکمل ادائیگی
•تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں اور گورنرز بورڈ و سلامتی کونسل کی قراردادوں کا خاتمہ
•بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں اور املاک کی مکمل واپسی
•ان تمام امور کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے توثیق
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس قرارداد کی منظوری ان تمام معاہدوں کو بین الاقوامی قانون کا حصہ بنا دے گی اور ایرانی قوم کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔
اب پاکستان کے معزز وزیر اعظم نے ایران کو آگاہ کیا ہے کہ امریکی فریق، اپنی ظاہری دھمکیوں کے باوجود، ان اصولوں کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کر چکا ہے اور ایرانی عوام کے مؤقف کے سامنے جھک گیا ہے۔
چنانچہ اعلیٰ ترین سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایران امریکی فریق کے ساتھ اسلام آباد میں دو ہفتوں تک مذاکرات کرے گا، اور یہ مذاکرات صرف انہی اصولوں کی بنیاد پر ہوں گے۔
یہ واضح کیا جاتا ہے کہ اس کا مطلب جنگ کا خاتمہ نہیں ہے، بلکہ ایران جنگ کے خاتمے کو اسی صورت میں قبول کرے گا جب اس کے 10 نکاتی منصوبے کے اصولوں کے مطابق تمام تفصیلات مذاکرات میں حتمی شکل اختیار کر لیں گی
🔴 ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل:
امریکہ کو ایران کی 10 نکاتی تجویز قبول کرنا پڑی۔ ان نکات میں ہرمز کے آبنائے پر ایران کے کنٹرول کا برقرار رہنا، امریکی افواج کا خطے سے انخلا، اور لبنان میں اسلامی مزاحمت سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ شامل ہے۔
پاکستانی میڈیا کو کہا گیا ہے کہ اب ایران سے کسی بھی صحافی کو نہیں لینا ہے۔ آج کے میرے کافی سارے شوز کینسل ہوئے، مجھے بتایا گیا ڈائریکشنز مل گئی ہیں، اب تک عزت دینے پر پاکستانی میڈیا کا شکر گزار ہوں۔ ایران میں موجود صحافی سید محمد جون حسین کا انکشاف
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
ایرانی افواج کا ٹرمپ کو تاریخی پیغام جاری🚨
"ہم نے آپ کو شروع سے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ کے پاس عظیم ایران کے سامنے سر تسلیم خم کرنے (ہار ماننے) کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔"🔥
اسرائیل کے ہاتھوں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ پوری ایک تہذیب کو مٹا دینے کی دھمکی دیتے ہیں، پھر بھی ایران کو عالمی امن کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اچھائی اور برائی کے درمیان لکیر کبھی اتنی واضح نہیں تھی جتنی اب ہے۔ مصطفی نواز کھوکھر
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
@mustafa_nawazk