دوسرا معاملہ پولیس ایکٹ کا تھا۔ ہم نے یہ نہیں کہا کہ پولیس ایکٹ پر بات نہیں ہوسکتی۔ اسے ضرور revisit کیا جاسکتا ہے، لیکن پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے متعلقہ قوانین کو بھی سامنے رکھا جائے۔ اگر دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو امن و امان سے متعلق انتظامی اختیارات حاصل ہیں تو خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے اختیارات کے معاملے پر بھی یکساں اصولوں کے تحت بات ہونی چاہیے۔ صوبے کا چیف ایگزیکٹو اگر امن و امان کا جواب دہ ہے تو اہم پولیس تقرریوں اور انتظامی فیصلوں میں اس سے مشاورت کا مؤثر طریقہ بھی ہونا چاہیے۔
تیسرا نکتہ یہ تھا کہ صوبائی حکومت امن و امان کے معاملے میں سنجیدہ نہیں۔ اس کے جواب میں میں نے کمیٹی کے سامنے پولیس کے بجٹ، تنخواہوں، جدید سازوسامان، ترقیاتی منصوبوں اور capacity enhancement سے متعلق اعداد و شمار رکھے۔ ہمارا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت نے پولیس کی استعداد بڑھانے، اہلکاروں کی مراعات بہتر بنانے اور حساس اضلاع میں پولیس کو مضبوط کرنے کے لیے خاطر خواہ وسائل مختص کیے ہیں۔
پانچ حساس اضلاع میں پولیس کی استعداد بڑھانے کے منصوبے کے حوالے سے بھی ہمارا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت نے اپنے حصے کے فنڈز بجٹ میں مختص کیے، جبکہ وفاقی حصے کے حوالے سے سوالات موجود ہیں۔ ان تمام اعداد و شمار اور مختص رقوم کی تفصیلات بھی کمیٹی کے سامنے رکھی گئی ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ امن و امان کسی ایک جماعت، حکومت یا ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ اختلافات اپنی جگہ، لیکن دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق، صوبے، تمام سیاسی جماعتوں، سکیورٹی اداروں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان سنجیدہ اور مسلسل مشاورت ضروری ہے۔ پاکستان سب سے پہلے ہے اور ہمیں آئین، قانون اور باہمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا.2/2
Leaving all other issues and much noise aside, the primary reason for the failure of the talks around 3am this morning between the government team and the PTI-TTAP team was the following: the PTI-TTAP team stood firm on its principled position that anti-terorrism actions in KPK would be based on agreement between the federal government and the KPK government and would be framed on the basis of consultation with, and the buy-in of, the different political parties represented in the KPK assembly. This was not acceptable to the government team that insisted that all actions unilaterally initiated by it would have to be owned by the provincial government. The PTI-TTAP team was clear that we have zero tolerance for terrorism and are committed to rooting it out. We also have a clear position against so-called collateral damage in the form of innocent lives and internal displacement of the local population. Policies and actions aimed at fighting terror must have the support of the local population and be based on ground intelligence. The wisdom provided by the jirga held in the KPK assembly of all the political and tribal notables of the province, including the merged districts, must be heeded. This was not acceptable to the federal government.
میں آج ایک وضاحتی بیان دینا چاہتا ہوں۔ آج محسن نقوی صاحب نے پریس کانفرنس میں ہماری گفتگو اور دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کے حوالے سے بات کی۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان سب سے پہلے ہے اور پاکستان کے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
میں نے کمیٹی کے سامنے اپنا مؤقف تفصیل سے رکھا، اور وہی مکمل مؤقف عوام کے سامنے رکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔ میں جس صوبے، خیبرپختونخوا، سے تعلق رکھتا ہوں وہ تقریباً چار دہائیوں سے بدامنی اور دہشت گردی کے اثرات برداشت کر رہا ہے۔ اس صورتحال نے امن و امان کے ساتھ کاروبار، صنعت، سرمایہ کاری اور عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
میں نے سب سے پہلے خیبرپختونخوا اسمبلی کی متفقہ قرارداد سامنے رکھی، جس کے حوالے سے ہمارا مؤقف تھا کہ امن و امان اور دہشت گردی سے متعلق آئندہ پالیسی بناتے وقت اس قرارداد کو مدنظر رکھا جائے۔ نیشنل ایکشن پلان اور دیگر پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہوئے صوبے کی تمام پارلیمانی جماعتوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت میں شامل کیا جائے۔ ہمارا مؤقف یہ بھی تھا کہ اگر وفاقی حکومت PTI کے ساتھ براہِ راست مشاورت نہیں کرنا چاہتی تو جماعت اسلامی، اے این پی، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرکے ایک متفقہ لائحۂ عمل بنایا جائے؛ صوبائی حکومت ایسے اتفاقِ رائے کا احترام کرے گی 1/2
مذاکرات کے بے نتیجہ اختتام اور وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس پر پاکستان تحریک انصاف کا ردِعمل
چیئرمین عمران خان تک رسائی سے انکار مذاکرات میں بنیادی رکاوٹ رہا؛ انسدادِ دہشت گردی کے لیے اتفاقِ رائے پر مبنی حکمتِ عملی اور عمران خان کے طبی معائنے و علاج پر فوری توجہ کا مطالبہ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان (TTAP) کی مشترکہ مذاکراتی ٹیم اور حکومتی نمائندوں کے درمیان مذاکرات سیاسی استحکام، جمہوریت کی بحالی، آئین و قانون کی بالادستی، پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان تک رسائی، ان کی صحت و علاج اور خیبر پختونخوا سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال جیسے اہم معاملات پر سنجیدہ کوششوں کے باوجود کسی ٹھوس پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے۔
مذاکرات میں بنیادی تعطل کی وجہ چیئرمین عمران خان تک فوری رسائی کا مطالبہ تھا، تاکہ پارٹی قیادت قومی اور سیاسی اہمیت کے معاملات پر ان سے مشاورت کرسکے۔ مذاکرات میں پیش رفت کے لیے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر حکومت اس ایک مطالبے کو تسلیم کرلے تو دیگر مطالبات کو فی الحال ایک طرف رکھا جاسکتا ہے۔ تاہم، پی ٹی آئی کے مطابق حکومت نے عمران خان تک رسائی کو مجوزہ معاہدے کا حصہ بنانے سے انکار کردیا۔
سیاسی قیادت سے مشاورت جمہوری عمل کا ایک بنیادی تقاضا ہے۔ جس طرح دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنی جماعتوں کی پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، اسی طرح پی ٹی آئی کو بھی اپنے چیئرمین سے اہم سیاسی اور قومی امور پر مشاورت کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ ملک کو درپیش نازک حالات میں ایسی مشاورت کو محدود کرنا بامعنی سیاسی روابط اور مفاہمت کے امکانات کو لازماً متاثر کرتا ہے۔
خیبر پختونخوا کی صورتِ حال بھی مذاکرات کا ایک اہم موضوع تھی۔ حکومتی فریق نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات اور کارروائیوں کے لیے صوبائی حکومت کی غیر مشروط حمایت طلب کی، جبکہ ضم شدہ اضلاع اور ملحقہ علاقوں میں 72 گھنٹوں کے اندر ہنگامی اقدامات کی حمایت کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
پی ٹی آئی نے دہشت گردی کی غیر مبہم اور دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کا خاتمہ، شہریوں کا تحفظ اور پائیدار امن کا قیام قومی ترجیحات میں سرفہرست رہنا چاہیے۔ پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پاکستان کی مسلح افواج، پولیس، سکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران و اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور دہشت گردی سے متاثرہ شہریوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
خیبر پختونخوا کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی اور بدامنی کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ جانی نقصان، املاک اور کاروبار کی تباہی، مسلسل عدم تحفظ اور اپنے گھروں سے بے دخلی جیسے سنگین مسائل نے ان کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ لہٰذا مستقبل کی کسی بھی انسدادِ دہشت گردی پالیسی میں ان عوام کے تحفظات، تجربات اور زمینی حقائق کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہیے۔
دہشت گردی کا خاتمہ محض طاقت کے استعمال یا یک طرفہ اقدامات کے ذریعے ممکن نہیں، خصوصاً ایسے اقدامات کے ذریعے جن سے بے گناہ شہریوں کی جان و مال کو مزید نقصان پہنچنے یا انہیں اپنے گھروں سے بے دخل ہونے کا خطرہ ہو۔ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے ایسی مؤثر حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے جس میں دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے ساتھ ساتھ شہری آبادی کا تحفظ اور مقامی حالات و زمینی حقائق کا مکمل ادراک بھی شامل ہو۔
وفاقی اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں کے مجاز نمائندے 72 گھنٹوں کے اندر اجلاس منعقد کرکے امن کے قیام اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے ایک واضح، جامع اور باہمی اتفاقِ رائے پر مبنی حکمتِ عملی مرتب کریں۔ پارٹی نے مزید تجویز دی کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں، منتخب عوامی نمائندوں، قبائلی عمائدین اور دیگر متعلقہ فریقین سے بھی مشاورت کی جائے، تاکہ پالیسی کو عوامی اعتماد حاصل ہو اور اس پر مؤثر انداز میں عمل درآمد ممکن بنایا جاسکے۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کے مؤقف کو سیاسی ہٹ دھرمی قرار دینے کی کوششوں کو بھی مسترد کرتے ہیں۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان تک رسائی فراہم کردی جاتی تو وزیرِ اعلیٰ سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر براہِ راست پارٹی چیئرمین سے مشاورت کرسکتے تھے، جس سے اختلافات کم کرنے اور وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔
ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ سب سے پہلے آپ ہمیں عمران خان تک ایکسیس دیں۔ اور ہم نے کہا کہ ہم تمام مطالبات واپس کرتے ہیں، ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہماری پولیٹیکل لیڈرشپ کو عمران خان تک رسائی دی جائے۔ تو انہوں نے کہا کہ ابھی تک وہ ایگریمنٹ میں شامل نہیں ہوگا اور اس وقت وہ قابلِ غور نہیں ہے۔
تو ہم نے پھر سوچا کہ اگر عمران خان تک ہمیں ایکسیس نہیں دی جاتی تو دیکھیں، اگر مسلم لیگ (ن) ہر معاملہ نواز شریف یا شہباز شریف سے پوچھ کر کرتی ہے، یا پیپلز پارٹی ہر معاملہ بلاول بھٹو اور آصف زرداری سے پوچھ کر کرتی ہے، تو ہمارا لیڈر عمران خان، جو سب سے مقبول لیڈر ہے اور جیل میں ہے، تو جو بھی پالیسی بنے گی کیا ہم اس سے مشاورت نہیں کریں گے؟ کیا ہم اس کی ڈائریکشن نہیں لیں گے؟ تو اس لیے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔
جو اس کو دہشت گردی کی شکل دے رہا ہے ۔ بالکل ایسا نہیں ہے۔ میں آپ کے سامنے وہ چیز رکھتا ہوں جو ہم اس میں شامل کرنا چاہتے تھے کہ: “کے پی میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کی جان و مال کے تحفظ اور مستقل، پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔ وفاق اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے، باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع، قابلِ عمل اور متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں گے، اور اس میں تمام سیاسی پارٹیوں کے ذمہ دار لیڈرز اور اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے گا تاکہ جو پالیسی بنے اسے پوری عوام کا اعتماد حاصل ہو"-
حکومت اور پی ٹی آئی/تحریک تحفظ آئین پاکستان مزاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ حکومتی اصرار تھا کہ خیبر پختونخواہ حکومت وفاق اور اسکے اداروں کے ان تمام اقدام اور آپریشنز کی تائید کرے جو صوبے میں دہشت گردی کے حوالے سے کئے جائیں گے۔ ضم اضلاع اور ان سے متصل علاقوں میں 72 گھنٹوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تائید مانگی گئی۔ پی ٹی آئی ٹیم کا موقف تھا کہ خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی حکومت دہشت گردی کیلئے ہر گز کوئی برداشت نہیں رکھتی: دہشت گردی کے خاتمے کیلئے وفاق اور صوبائی حکومت کو خیبر پختونخواہ اسمبلی میں موجود تمام جماعتوں اور اسمبلی میں چند ماہ قبل صوبے کے معززین کے جرگے کی مشاورت اور سفارشات کی بنیاد پر ایک متفقہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔ ایسا لا ئحہ عمل ہی دہشت گردی کے خلاف کامیابی کی ضمانت ہو گا۔حکومت مشاورت اور اتفاق کا راستہ اپنانے کو تیار نہ تھی۔ پی ٹی آئی نے ہمیشہ اندھے آپریشنز کی مخالفت کی ہے جنکی وجہ سے معصوم خون بہے یا لوگوں کو بڑی تعداد میں اپنے ہی صوبے میں بے گھر ہونا پڑے۔
عاصم منیر، بات سیدھی ہے، سرنڈر کرنا پڑے گا، ہر حال میں۔
سرنڈر کیسا؟ جیسے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں کیا تھا۔
تم کہتے ہو 9 مئی سے زیادہ خطرناک انجام ہوگا۔ عاصم منیر، تمہارے پلے کیا ہے؟ جو فیصلہ ایک گھنٹے میں ہو سکتا ہے، تمہاری کور کمانڈرز کی میٹنگ پندرہ گھنٹے سے چل رہی ہے۔
یہ عمران خان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں گے۔
مذاکرات رات بھی ڈیڈلاک پر پہنچ گئے، یہ اپنی جان نہیں بچا سکے۔
میرا ستر سال کا تجربہ ہے؛ جو کچھ کہہ رہا ہوں، ایسے ہی ہوگا اور عنقریب ہوگا!
قوم خود اگر نہیں دیکھ سکتی، میں قوم کی آنکھوں سے سب دیکھ سکتا ہوں۔
عاصم منیر، نوکری چھوڑنی پڑے گی؛ سرنڈر کرنا پڑے گا۔
دوبارہ الیکشن ہوگا، جس میں فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔
پاکستان کے ہر مسئلے کی وجہ تم ہو، اور اب!
تمہارا وقت قریب ہے، اس سے پہلے سنبھل جاؤ۔
اس سے پہلے کہ تمہارے پیروں کے نیچے زمین گرم تانبہ ہو جائے، توبہ کر لو۔
ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے، قوم کے سامنے سرنڈر کر دو۔
۱۹۴۸ سے لے کر آج دن تک پاکستان کے دفاع کے لیے بنا وردی بنا کسی تمغے کی تمنا کے سربکف رہے ہیں ہم۔
کشمیر آزاد کرانا تھا تو اپنی منشاء سے آپ سے آگے چلے ہم۔
افغانستان کو غاصب روسیوں سے نجات دلانی تھی تو آپ کا تھمایا اسلام کا علم سینے سے لگایا ہم نے۔
امریکہ کی خوشنودی آپ کو مطلوب تھی، سلامیاں ہماری ماؤں کو ملیں۔ ہم نے قبول کیں۔ ایک بھرم تھا جانے کم فہمی تھی یا خوش فہمی۔ جو اس حقیقت سے آنکھیں موڑے بیٹھے رہے ہم کہ تم مرو تو شہید۔ ہم مریں تو کولیٹرل ڈیمج۔
ہمارے لیے بے گھری۔ تمہاری لیے پلاٹ۔
تم ملک بیچ کھاؤ تو بھی سینے پہ تمغے سجاؤ۔
ہم سر بھی واریں اور اپنے گلے میں لٹکیں بغاوت کی دفعیں بھی گنیں۔
ہم بے موت مرنے سے انکار کریں تو دہشت گرد ہیں۔
امن کا سوال کریں تو غدار ہیں۔
تو پھر وفادار کون ہے؟ تم؟
یا تمہارے قدم بوس یہ زباں دراز؟
“میں ساری زندگی جیل کی چکی میں گزار لوں گا لیکن فرعونیت اور یزیدیت کے سامنے نہیں جھکوں گا!!
قانون کی حکمرانی میری تحریک کا مرکزی مقصد ہے، جس سے ہم جنگل کا قانون ختم کریں گے-
جب سیاسی جماعت پر تمام دروازے بند کر دئیے جائیں ان پر ظلم کیا جائے، عدلیہ آزاد نہ ہو تب ان کے پاس سوائے پر امن احتجاج کے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔
میں اپنی پارٹی، کارکنان اور سپورٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ ایک بھرپور ملک گیر تحریک کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس بار صرف اسلام آباد نہیں پورے پاکستان کی کال دوں گا-
پارٹی کے تمام لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں آپ میں سے کوئی بھی “الیکٹیبل” نہیں ہے۔ آپ سب نظریے کے زور پر جیت کر آئے ہیں۔ مجھے سب کے بارے میں معلوم ہے کہ کون وکٹ کے دونوں اطراف کھیل رہا ہے، جو پارٹی احکامات پر عمل پیرا نہیں ہو گا اس کی جماعت میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ مجھے جب بھی موقع ملا پارٹی انتخابات کرواؤں گا۔ پارٹی میں الیکشن کروانا ناگزیر ہے تاکہ ورکرز اوپر آ سکیں۔
نو مئی صرف آدھے گھنٹے کا کیس ہے۔ اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج چرانے والے ہی اصل ذمہ دار ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے نو مئی کیا تھا تو CCTV فوٹیجز سامنے لے آئیں۔
پولی گرافک ٹیسٹ تو شہباز شریف کا ہونا چاہیئے اور اس سے پوچھنا چاہئیے کہ وہ فارم 47 سے آیا ہے یا 45 سے۔
میں پاکستان کا سابق وزیراعظم ہوں، جس کے لیے جیل میں علیحدہ کیٹیگری ہوتی ہے لیکن مجھے جیل میں عام قیدیوں والی سہولیات بھی نہیں دی گئیں- مجھے جیل کے جس سیل میں 22 ماہ سے قید کیا ہوا ہے وہ ایک “چکی” ہے۔ اسی ملک میں چوروں کو وی وی آئی پی سیل میں رکھا گیا جو کسی “سویٹ”سے کم نہیں تھے۔
یہاں جنگل کا قانون نافذ ہے اور ایک کرنل کے کہنے پر تمام عدالتی احکامات ہوا میں اڑا دئیے جاتے ہیں- میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری بہنوں کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جاتا۔ میری کتابوں سے پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ ڈھائی ماہ سے مجھ تک کوئی کتاب نہیں پہنچنے دی گئی، صرف وہی کتابیں دی جاتی ہیں جو پہلے ہی پڑھ چکا ہوں- میں ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں لیکن میری جماعت کے لوگوں کو مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی حالانکہ ان کے پاس عدالتی احکامات موجود ہوتے ہیں-
صرف مجھے اذیت دینے کے لیے میری اہلیہ کو سزائیں سنائی گئیں اس سے زیادہ گھٹیا پن کیا ہو سکتا ہے۔ ایک ہفتے میں میری اہل خانہ یا وکلاء سے صرف 30 منٹ کی ملاقات کروائی جاتی ہے۔ میری اہلیہ پر صرف سہولت کاری کا جھوٹا الزام تھا جو ثابت بھی نہیں ہو سکا۔
کل ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاج میں تمام اپوزیشن اراکین لازمی شرکت کریں۔چھبیسیوں ترمیم کے بعد عدلیہ بلکل مفلوج اور بےاثر ہو چکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بارہا وعدے کرنے کے باوجود بھی ہمارے کیسز نہیں لگا رہا-
سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کے حق میں فیصلہ دے کر اپنے ہی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کر دیا ہے-
بھارت کے جواب میں ہماری فورسز خصوصاً پاک فضائیہ نے زبردست جواب دیا ہے اور پوری قوم نے بھی ساتھ دیا۔ میں جیل میں مقید ہوں مگر یہاں بھی لوگوں نے پاکستان کے جواب پر خوشی منائی۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی دوران ٹرائل کارکنان، وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو اور سوالات کے جوابات
تحریک انصاف کی وفاقی حکومت میں پاکستان اور خیبر پختونخواہ terrorism نہیں tourism کے لیے جانے جاتے تھے۔ رجیم چینج کے بعد دہشتگردی کو دوبارہ جان بوجھ کر خیبر پختونخواہ پر مسلط کیا گیا۔ جب ۲۰۲۲ کی گرمیوں میں ہم نے آواز اٹھائ تو آپ نے ہمیں جھوٹا کہا لیکن آج اسی دہشتگردی کو بہانہ بنا کر معصوم پختونوں کا خون بہایا جارہا ہے-
9 مئی کروانے والوں نے فیصلہ کیا ہے کہ 9 مئی کروانے والوں کو کچلا جائے گا۔
ایک اعلامیہ CCTV فوٹیجز دکھانے کا بھی جاری کرتے!
یہ پہلی دفعہ نہیں ہے، ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں اس سے بھی بڑی بھڑکیں مارتے رہے ہو۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔
عاصم منیر صاحب، یہ تو ایک آدھ منٹ کی بات تھی، اس بات کا فیصلہ تو آپ نے عہدہ سنبھالتے ہی کر لیا تھا۔ 15، 15 گھنٹے کی کور کمانڈر میٹنگز کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ باقی کیا طے پایا، وہ بھی بتائیں۔ کیا یہی اس فوج ترجیحات رہ گئیں ہیں؟
خیبرپختونخوا کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوششیں مسترد کرتے ہیں، آج میڈیا کے سامنے تصاویر اور الزامات کے ذریعے تحریکِ انصاف، وزیراعلیٰ @SohailAfridiISF اور خیبرپختونخوا حکومت کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ سیاسی اختلاف کو دہشت گردی کے الزامات سے جوڑنا قابلِ قبول نہیں۔
خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ پختونوں کو دہشت گرد کہنا ان لاکھوں خاندانوں کی قربانیوں کی توہین ہے جنہوں نے اس جنگ میں اپنے پیاروں کو کھویا۔ ہم الزام تراشی نہیں، حقائق اور شواہد کی بنیاد پر بات کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔"
#ShafiJan #KhyberPakhtunkhwa #SohailAfridi
ثبوت کے بغیر کسی پاکستانی کو دہشت گرد کہنا ناقابلِ قبول ہے، ذاکر اللہ کا تعلق تیراہ سے ہے،جو آجکل باڑہ بازار میں محنت مزدوری کرکے اپنے گھر کا چولہا جلا رہے ہیں۔ ان کے خلاف آج تک کوئی ایف آئی آر نہیں، وہ تحریکِ انصاف کے سیاسی کارکن ہیں اور پارٹی کے جلسوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتے ہیں۔
محض سیاسی وابستگی یا کسی رہنما کے ساتھ تصویر کی بنیاد پر کسی شہری کو دہشت گرد تنظیم سے جوڑنا انتہائی سنگین الزام ہے۔ اگر کوئی دعویٰ ہے تو اس کے ساتھ قابلِ اعتماد ثبوت بھی سامنے لائے جائیں۔
#ShafiJan #KhyberPakhtunkhwa #PTI
احساس بے زبان صحت گاڑی خیبر پختونخواہ
اگر آپ اپنا موڈ اچھا کرنا چاہتے ہیں اور موجودہ ملک کی معاشی بدحالی سے دھیان ہٹانا چاہتے ہیں تو نیچے لگی تین منٹ کی ویڈیو ضرور دیکھیں۰ یقین کریں آپ کو غصہ کی جگہ پیار آئے گا کیونکہ اس میں نا کوئ تصویر ہے اور نا کوئ جھنڈا اور نا زاتی تشہیر
دراصل احساس بےزبان گاڑی کیا ہے؟
یہ ایک اور عمران خان کا انسانی خدمت کے بعد اللہ کی مخلوق کی خدمت کا پروجیکٹ ہے۰ عمران خان کے صحت کارڈ، بلین ٹری سونامی کے بعد ہے احساس بے زبان۰
خیبر پختنخواہ میں زراعت اتنی وسیع نہیں مگر مال مویشی وہاں کے کسانوں کا بہت بڑا روزگار ہے۰ محکمہ لائیو اسٹاک ایک شاندار منصوبہ لایا جو اب دہلیز پر مال مویشی کو علاج مہیا کرے گا۰ اس کی نگرانی ڈیجیٹل کی جائے گی۰ اس منصوبہ سے بر وقت علاج، کرایہ کی بچت اور بے زبان کو بروقت علاج سے تکلیف سے نجات حاصل ہوگی۰ انشااللہ اس سے عام آدمی کی آمدنی اور معیار زندگی میں بہت بہتری آئے گی
ہم پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے مقبول سیاسی جماعت ہیں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، جس کا آئین ہمیں پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
4 اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے عوام کا سمندر اپنا سفر شروع کرے گا اور پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
تحریکِ انصاف کے تمام مطالبات آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔ اس سے پہلے گیدڑوں کو ہر طرح سے غیر قانونی طور پر فیسلیٹیٹ کیا گیا، لیکن ایک لیڈر سے خوف اتنا ہے کہ اسے اور اس کے اہل خانہ اور ورکرز کو جائز قانونی حقوق بھی نہیں دیے جا رہے۔
پاکستان پر جن لوگوں کا زبردستی قبضہ قائم رکھوایا ہوا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ خدانخواستہ ہمارا پاکستان ٹوٹ جائے۔ جن کو ہندوستان سے خطرہ نہیں، لیکن پاکستانی عوام سے خطرہ ہے- جنہوں نے ڈان لیکس کروائے، جنہوں نے میمو گیٹ اسکینڈل کیا، جنہوں نے ۵۳۰۰ ارب کی IMF سے تصدیق شدہ کرپشن کی، جنہوں نے فوج کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ہماری ہڈیاں تک کھا لی ہیں، جنہوں نے پاکستان پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کی، جن کا جعلی وزیرِ اعظم کسی شہید کے جنازے میں نہیں گیا، جن کا بھگوڑا قائد اور اس کی بیٹی انڈیا سے جنگ کے دوران خاموش رہے، جن کی پوری جماعت پاکستان کے پختونوں کو دہشت گرد کہتی ہے، اور جنہوں نے پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے، وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے پاکستان میں آگ لگا رہے ہیں۔
دہشت گردی خیبر پختونخوا اور پاکستان کے عوام کے لیے کسی “بیانیے کی جنگ” نہیں ہے، اس سے ہر شہری متاثر ہے- عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ اپنے ہی لوگوں پر ملٹری آپریشنز کرنا اور انہیں بےگھر کرنا کسی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے۔ ڈرون اٹیکس اور نام نہاد “کولیٹرل ڈیمج” سے دہشت گردی بڑھتی ہے۔ میں اس بات پر چٹان کی طرح قائم ہوں۔ آج خیبر پختونخوا میں یہ صرف PTI کا موقف نہیں رہا، بلکہ ہر سیاسی و مذہبی جماعت اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص کا یہی موقف ہے، جس کے دستخط صوبائی اسمبلی کے جرگے میں بطور ثبوت موجود ہیں۔
تحریک انصاف کی وفاقی حکومت میں پاکستان اور خیبرپختونخوا Terrorism نہیں Tourism کے لیے جانے جاتے تھے- رجیم چینج کے بعد دہشتگردی کو دوبارہ جان بوجھ کر خیبر پختونخوا پر مسلط کیا گیا۔ جب 2022 کی گرمیوں میں ہم نے آواز اُٹھائی تو آپ نے ہی ہمیں جھوٹا کہا، لیکن آج اُسی دہشت گردی کو بہانہ بنا کر معصوم پختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔
جب میں کہتا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں ۱۰۰ دن کے اندر امن آ سکتا ہے اور آپ نے صرف پالیسی میں تبدیلی لانی ہے، کیونکہ آپ کی موجودہ پالیسی کامیاب نہیں ہے، تو اُس بات پر عمل نہیں کیا جاتا۔ تو دہشت گردی کی سہولت کاری کون کر رہا ہے؟ ہمارے وزیروں اور کارکنوں کو اپنے “گُڈ” لاڈلوں کے ساتھ مل کر کون اُٹھا رہا ہے؟ ہمارا خریدا ہوا اسلحہ کون ہماری پولیس تک نہیں پہنچنے دے رہا؟ ہماری پولیس بغاوت کرنے پر کیوں مجبور ہو گئی ہے؟
بلوچستان اور وفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں، پھر وہاں بھی امن کیوں نہیں آ رہا؟ دہشت گردی میں پاکستان پہلی بار پہلے نمبر پر کیوں آ گیا ہے؟ کیونکہ خود کو عقلِ کل سمجھنے والے پہلے بھی غلط تھے، آج بھی غلط ہیں، اور جب تک اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتے، تب تک غلط ہی رہیں گے۔
باقی، ہم ۹ مئی کو دوبارہ نہ ہونے دیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔ جس نے CCTV فوٹیجز چُرائیں، اُسی نے ۹ مئی کروایا۔
4 اکتوبر، گنڈی چوک، دن ایک بجے۔ سب پاکستانی یاد رکھیں !!