Below is a THREAD with some shorter clips of the most important messages from my boys’ interview regarding their father’s incarceration.
Please share if you can.
1) His conditions in jail
“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے- نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔
ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی لیے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔
فسطائیت اور جبر میں تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-
فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پہلے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔
یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے- اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہے- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔
عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی
کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔
1/2
قیدی جی
اگرچہ آپ قیدی نہیں ہیں ، آپ آزاد ہیں۔ لیکن آپ اپنے اصول اور اپنے نظریے کے قیدی ہیں لہذا آپ کو قیدی جی کہنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ قیدی جی، آپ کو دو سال کا وقت ہوگیا ہے جیل گئے ہوئے۔ قریب ایک سال سے آپ کی معلومات ، ملاقاتیں محدود ہیں۔ یہاں تک کہ آپ کا ہفتے میں ایک دن آنے والا پیغام بھی بمشکل باہر پہنچتا ہے۔ قیدی جی اسی لیے میں بہت سی چیزیں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔
قیدی جی، عوام کو جہاں موقع ملتا ہے چھک پٹ دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا تو آپ کو پتہ ہی ہوگا۔ آپ کے ملاقاتی جو ڈیل کی آفرز لیکر آتے ہیں وہ آپ کے بتاتے ہوں گے کہ آپ کو سوشل میڈیا پر قابو پانا ہوگا۔ آپ کو فلاں فلاں سے اظہار لاتعلقی کرنا ہوگا۔ جس سے آپ کو اندازہ ہوجاتا ہوگا کہ جیسی آگ لگائی جانی چاہیے اس کے بھانبھڑ مچے ہوئے ہیں۔ نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ ایک بارش میں بھیگتا ہوا شخص سپہ سالار پر لخ دی لعنت کہتا ہے اور اگلے چوبیس گھنٹوں میں اسکی یہ ویڈیو ایک ایک پاکستانی کے موبائل فون میں پہنچ جاتی ہے۔ اس کا جملہ بچے بچے کی زبان پر ہوتا ہے۔ چودہ اگست کو لاتعداد چھاپوں دھمکیوں اور گرفتاریوں کے باوجود عوام ویسے ہی نکلے جیسے دس اپریل کو نکلے تھے۔ قیدی جی ، فی الحال آپ کا بیانیہ اللہ کے فضل و کرم سے ڈنکے کی چوٹ پر بج رہا ہے۔ اب تو آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ آٹھ فروری نے ثابت کیا ہے کہ اہمیت بیانیے کی ہے۔ ووٹ تو عوام آنکھیں بند کرکے بھی ڈالیں تو آپکے باکس سے نکلتا ہے۔
قیدی جی، فیلڈ مارشل کو آئے ہوئے پونے تین سال ہوچکے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بلوچستان میں انٹرنیٹ پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے۔ ان سالوں میں 2500 کے قریب سیکیورٹی فورسز کے اہلکار جان سے جاچکے۔ جو سکون اور امن و امان آپ کے دور میں تھا وہ اب خواب ہے۔ 45 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے جاچکی ہے۔ سینکڑوں ارب کے گندم اور چینی سکینڈلز منظر عام پر آچکے۔ دوسرا سال ہے کسان کو اسکی گندم کا ریٹ نہیں ملا۔ فیلڈ مارشل کی بنائی گئی سرمایہ کاری کونسل میں ایک آنے کی سرمایہ کاری نہیں ہوئی۔ بلا شک و شبہ فیلڈ مارشل پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ نفرت سمیٹنے والا آدمی بن چکا ہے۔
قیدی جی چند الفاظ مکمل صورتحال کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ گزشتہ تین سال میں کوئی ایک شعبہ ایسا نہیں جہاں کوئی بہتری آئی ہو جہاں کسی کو کوئی ریلیف ملا ہو۔ البتہ پاک فوج کے افسران کی تنخواہوں اور مراعات میں ضرور بہتری آئی ہے۔ انہیں پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس سے بھی ریلیف ملا ہے اور ڈبل پنشن کے نئے قانون میں بھی۔ اس کے علاوہ سبھی معاشی و سماجی اعشاریے زمین سے لگے ہوئے ہیں۔
قیدی جی ، آپ کا انکار فوج کے لیے اذیت ناک ہوتا جارہا ہے۔ کیونکہ فوج کو نفرت جلا رہی ہے۔ اب وہ اس دلدل سے کسی طرح نکلنا چاہتے ہیں۔ کسی کے سر ملبہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ ہارے ہوئے جواری کی طرح انہیں لگتا ہے کہ ابھی کوئی داؤ چل جائے گا ابھی کچھ معجزہ ہوجائے گا۔ لیکن قیدی جی جیسے جواری جوئے میں بیوی تک لگا دیتے ہیں فوج نے جوئے میں اپنا عزت وقار رعب احساس برتری سب کچھ لگا دیا تھا اور پھر یہ جوا ہار بھی گئے ہیں۔
قیدی جی فیلڈ مارشل کو لگتا ہے کہ اگلے تین سال میں وہ پاکستان کا قرضہ ان معدنیات سے اتار دے گا جہاں ابھی فوج کی بکتر بند گاڑی تک نہیں پہنچ سکتی۔ قیدی جی فیلڈ مارشل تین سال مطلق العنان ہونے کے باوجود اپنی کوئی ایک بھی کامیابی نہیں گنوا سکتا۔ سوائے اسکے کہ بیٹیوں کو ناجائز سفارتی پاسپورٹ دیے۔ سالے کو مختلف عہدے دیے۔ سکول ٹیچر بھائی کو فیڈرل بورڈ کا ڈائریکٹر اور اسسٹنٹ مینجر ماموں زاد کو ادارے کی سربراہ لگوا دیا ہے۔ ایک اور قابل ذکر کامیابی یہ ہے کہ فیلڈ مارشل کے کندھے اور سینے پر بے ضمیری کے ساتھ کچھ چھٹانک پیتل کے تمغوں کا اضافہ ضرور ہوا ہے۔
قیدی جی ، ان سے کچھ سنبھل نہیں رہا اور آپ کا یہ کچھ اکھاڑ نہیں پارہے۔ قیدی جی ، میرے ایک فاضل دوست کے الفاظ میں ہماری کامیابی تین ہی خطوط پر طے ہوجاتی ہے۔ آپ انکی ڈیل کو ٹھوکریں ماررہے ہیں ، یہ مسلسل ناکام چل رہے ہیں اور عوامی نفرت کم نہیں ہورہی۔ یہ وہ تسلسل ہے جو اللہ کے کرم سے جاری رہے گا۔ قیدی جی ، کچھ لوگوں کی زندگیاں ، کچھ کی آزادیاں ، بتھیروں کا معاش اور عزت و آبرو خراب ہورہی ہے جسکی وجہ سے یہ کہنے کو دل نہیں کرتا لیکن جس طرح فوج یہ ملک چلا رہی ہے ، جس طرح یہ ناکام ہورہے ہیں ، جس طرح قوم ان سے نفرت کررہی ہے قیدی جی یہ جتنا زیادہ وقت لیں اتنا اچھا ہے۔کیونکہ انکی مکمل بربادی اب ناگزیر ہے اور یہی ہماری فلاح کا رستہ ہے۔
وسلام