اس جاہل نے اپنی بیوی کو ہمبستری سے انکار پر مارنے کے بعد پولیس کے سامنے پیش ہوا اور اب پولیس اہلکاروں کو اپنے گھر لے کر آیا جہاں بیوی کی لاش پڑی ہوئی تھی
10 دن، 10 ہُنر، روزانہ ایک ایسا ہنر لکھا کرونگا جسے آپ یا بچے 1 ماہ میں سیکھ سکتے ہیں، اور اسکی آن لائن سروس دے کر ایک اچھی رقم، روپوں میں ڈالرز یا پاؤنڈ میں کما سکتے ہیں،
کام کیساتھ یا پڑھائی کیساتھ ان skills کو ضرور سکھیں اور اس کا استعمال کریں۔۔
دو ماہ سے کوئی میرے دروازے پر روزانہ کچرا پھینک کر چلا جاتا، بڑی کوشش کے باوجود وہ پکڑ میں نہیں آیا، اہلیہ نے کہا کہ یقیناً یہ محلے کا کوئی ایسا
بندہ ہے جو فجر کی نماز باقاعدگی سے پڑھتا ہوگا اور مسجد جاتے ہوئے یہ کارنامہ سرانجام دیتا جاتا ہوگا، اب مسئلہ تھا میرا اپنا، میں پکا نہیں کچا مسلمان تھا،
روزانہ دس بجے اٹھ کر فجر قضا پڑھا کرتا تھا، بیس دن قبل میں نے اہلیہ سے فجر میں اٹھانے کا کہا تو اہلیہ حیران کہ یہ آج سورج مشرق کے بجائے مغرب سے
کیسے نکل رہا ہے، خیر انہوں نے مجھے اگلے روز فجر کے وقت اٹھادیا، میں نے اٹھتے ہی کھڑکی سے نیچے جھانک کر دیکھا تو دروازے پر کچرا موجود نہیں تھا،
فٹافٹ وضو کیا کھڑکی کے پاس ہی مصلیٰ بچھایا اور دو رکعت سنت کھٹاکھٹ پڑھ کر پھر سے جھانک کر دیکھا تو کچرا دروازے پر پڑا میرا منہ چڑارہا تھا،
خیر پھر دو رکعت فرض پڑھ کر دوبارہ سوگیا، اگلے دن سنت کے بجائے فرض پڑھتے کچرا پھینک دیا گیا، چار دن اسی طرح گزرگئے لیکن کچرا پھینکنے والے کو
پکڑ نہیں پایا، پانچویں دن اہلیہ کہنے لگیں، ماشاءاللہ آپ اب فجر کی نماز پڑھنے لگے ہیں تو مسجد میں باجماعت نماز پڑھ لیا کیجیے، بات دل کو لگی،
اور پانچویں دن سنت گھر میں پڑھ کر جماعت سے پندرہ منٹ پہلے دروازے پر کرسی لگا کر بیٹھ گیا اور محلے کے نمازی حضرات کو آتے دیکھنے لگا کہ
کس نمازی کے ہاتھ میں کچرے کا شاپر ہے، لیکن افسوس سارے خالی ہاتھ آتے دکھائی دیے، نماز پڑھ کر آیا تو دروازے پر کچرا موجود نہیں تھا-
ایک ہفتے مسلسل پابندی سے باجماعت نماز پڑھنے کے بعد میں نے اہلیہ سے کہا، بیگم اب کچرا پھینکنے والا شاید ڈر گیا ہے جب ہی کچرا نہیں پھینک رہا،
اب آپ مجھے فجر کے وقت نہیں اٹھانا، اہلیہ کچھ نہیں بولیں، اگلے دن اہلیہ نے تو مجھے نہیں اٹھایا، البتہ میری خود آنکھ کھل گئی،
کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو کچرا دروازے پر موجود تھا، ٹائم دیکھا تو فجر کا وقت تو باقی تھا لیکن جماعت نکل چکی تھی، اب اگلے دن پھر وہی معمول تھا-
دو ہفتے مسلسل فجر کی نماز باجماعت پڑھتا رہا اور دروازہ صاف ستھرا ملتا رہا، دو ہفتے بعد اب میری جماعت سے فجر کی نماز پڑھنے کی عادت ہوچکی تھی -
دو دن قبل رات کے کھانے میں اس کچرا پھینکنے والے کا ذکر آگیا، میں اسے برابھلا کہنے لگا، علی بولا، ابو آپ اسے برا تو نا کہیں بلکہ وہ تو آپ کا محسن ہے،
جس کی وجہ سے آپ فجر کی نماز باجماعت پابندی سے پڑھنے لگے ہیں؛؛ علی کی بات سن کر میرے دماغ کو جھٹکا سا لگا، اور سب کو غور سے دیکھنے لگا-
مجھے یوں اپنی طرف دیکھتے ہوئے سارے ہنسنے لگے، عمر کہنے لگا، ابو آپ کی وہ محسن اور کوئی نہیں بلکہ امی ہیں
آپ امی کا شکریہ ادا کیجیے-
میں نے اہلیہ کو دیکھا تو کہنے لگیں،
جب گھی سیدھی انگلی سے نا نکلے تو ٹیڑھی انگلی سے نکالنا پڑتا ہے -🤣🤣😂
کامران شاہد کا سوال!
عمران خان جیل میں ہے اور آپ اسکرپٹ لکھ رہے ہیں گھروں میں بیٹھے ہوۓ ہیں؟
آپ لوگوں کو گولیاں مارتے ہو ربڑ کی بھی نہیں اصلی والی گولیاں اور پھر کہتے ہو لوگ کیوں نہیں نکلتے کوئی خدا کا خوف کرو
خلیل الرحمن قمر کا جواب🔥
شہزاد اکبر کے بڑے انکشافات!!
عمران خان کے دور کی وہ کہانیاں جو ہمیں اصل میں نہیں پتہ تھا, عمران خان پاکستان کے لیے ہر وہ پالیسی اپنا رہے تھے, جس میں ملک وقوم کے مفاد میں ہو!!
اسد طور کا انکشاف 🔥🔥🔥
عمران خان۔ صاحب کو ایک بار پھر ڈیل آفر کی گئی ہے کہ تمام سیاسی مقدمات جھوٹے مقدمات القادر اور توشہ خانہ والے جھوٹے مقدمات ختم کروا دیتے ہیں لیکن 9 مئی کے مقدمات ختم نہیں کروا سکتے اس پر آپ معافی مانگیں۔ جس پر خان صاحب نے ایک بار پھر انکار کردیا اور کہا کہ جب میں نے 9 مئی کیا ہی نہیں تو پھر معافی کس بات کی؟ میرا قصور ہے ہی نہیں ، 9 مئی کی آزاد تحقیقات کے لیے کمیشن بنا دیں اور cctv فوٹیج سامنے لے آئیں اگر میں نے کیا یے تو معافی مانگ لوں گا۔
اس فارم 47 کی لاسٹک کی شلوار والی حکومت کی کوئی legitimacy ہے ہی نہیں نہ ہی ڈلیور کر پا رہی ہے اور آگے بہت سنگین خوفناک معاشی بحران آ رہا ہے جس کے لیے خان صاحب کی ضرورت ہے۔
بدقسمتی سے شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لئے فنڈ ریزنگ کرنے والا عمران خان جیل میں قید ہے
انکی غیرموجودگی میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ اس کارخیر میں حصہ ڈالیں
جتنا ممکن ہو اس بڑی عید پر اپنے عطیات شوکت خانم کینسر ہسپتال کو دیں
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُون۔
سرگودھا سے تعلق رکھنے والے طالب علم عمر فاروق باجوہ نے اپنی والدہ کو شدید جگر کی بیماری سے بچانے کے لیے اپنا جگر عطیہ کیا۔ یہ ٹرانسپلانٹ سرجری شیخ زاید ہسپتال میں اس امید کے ساتھ کی گئی تھی کہ ان کی والدہ کو زندگی کا دوسرا موقع مل سکے گا۔
لیکن افسوسناک طور پر آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث عمر فاروق اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ ان کی قربانی نے ہزاروں دلوں کو غمگین کر دیا ہے اور یہ ماں کے لیے اولاد کی بے لوث محبت کی ایک عظیم مثال بن گئی ہے۔ ایک ایسا بیٹا جس نے اپنی جان کا حصہ اس ماں کے لیے قربان کر دیا جس نے اسے زندگی دی تھی۔
اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔
پہلے عمران خان کو تین بکروں کی قربانی آفر گئی ۔ پھر پانچ کی ، پھر ن لیگ اور پیپلز پارٹی بھی شامل کئے گئے ۔ اگلی مرتبہ شاید جماعت، جمعت اور مہاجر بھی پیش کریں۔
خان نے کہا پہلے سب کو اپنے ہاتھوں بَلی چڑھاؤ پھر بات کریں گے۔ جاؤ میری ورزش کا ٹائم ہو رہا ہے 🤭
صحافی: نعرے بازی نہیں یار، یہ پریس کانفرنس ہے۔
عمران خان: یہ زمان پارک بھی ہے۔ 😏
صحافی: خان صاحب، ان کے پاس تو آپ ہمیشہ رہتے ہیں، ہمیں تو کبھی کبھی نصیب ہوتے ہیں۔
ہر کوئی عمران خان کو دیکھنا اور سننا چاہتا ہے۔
Today I, being the Chief Executive of Khyber Pakhtunkhwa Province, along with my cabinet and parliamentarians, going to Adiala Jail situated in the province of Punjab to show solidarity with former Prime Minister of Pakistan Mr. Imran Khan.
The federal government has stopped us in Islamabad 26 number chowk. It’s not only an insult of the chief executive but of the 46 Million people of KP.
The federal government has also stopped the Gas of KP. Punjab government has stopped the wheat movement towards KP. All of these acts are against the spirit of federation and the constitution of Pakistan.
Mr. Imran Khan has lost 85% of his eyesight due to the negligence of Adiala Jail’s administration and their handlers. He is not being allowed to meet his legal counsel, family and even personal physician. The federal government is not obeying the court orders and Punjab government is violating the fundamental rights of a political prisoner. Mr. Imran Khan is being treated inhumanely and has been placed in complete solitary confinement since November 2025.
We strongly demand the immediate access of Imran Khan sahb’s family and personal physician to him without any further delay. The state of his health is a matter of serious national concern and any harm caused to him due to negligence or deliberate denial of medical care is the direct responsibility of the federal government, the Punjab police, the administration of Adiala Jail and their handlers. We warn that the nation is watching and history will not forgive those who remain silent or complicit. Justice must prevail and it will prevail!