جتنی آواز پاکستان میں اور انٹرنیشنلی عمران خان کے لئے اٹھائی گئئ ہے شاید ہی کسی سیاسی لیڈر کے لئے اتنی آواز کسی نے اٹھائی ہو لیکن اسکے باوجود عمران خان کے ساتھ بدترین دہشتگردوں والا سلوک صرف اس لئے کیا جارہا ہے کیونکہ دنیا کی اسٹیبلشمنٹیں اسکے خلاف ہیں ۔۔
وہ بنی گالہ میں تھا تو بنی گالہ خبروں میں تھا،وہ زمان پارک میں تھا تو زمان پارک ٹرینڈ کرتا رہا،وہ اڈیالہ جیل میں تھا تو چاروں طرف اڈیالہ جیل کےچرچےتھےاور آج دیکھ لیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کو،پوری دنیا میں شفاء ہسپتال کی گونج۔۔
خیراتی حکومت والے کل بھی کسی گنتی میں نہ تھے اور خیراتی حکومت والے آج بھی کسی گنتی میں نہیں۔۔
معاشی صورتحال ۔۔ عمران خان کی حکومت جانے کے بعد ملکی قرض میں 75 فیصد اضافہ ہوا، شہباز شریف دور میں ملکی قرض 83 ہزار 600 ارب تک پہنچ گیا، صرف ایک سال میں 5800 ارب روپے قرض بڑھا۔ (IMF اور کچھ دوسرے ممالک سے لیا گیا قرض اس میں شامل نہیں)۔
شراب پینے کو سماجی سطح پر بہت بری نظر سے دیکھا جاتا ہے، بدکاری کو بھی۔ لیکن جو لوگ بددیانتی سے دولت بناتے ہیں سماجی سطح پر لوگ اسے برا نہیں سمجھتے بلکہ رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اسکی کیا وجہ ہے؟
یہ بھی ورلڈ ریکارڈ ہے کہ عمران خان کے دورمیں ہر دو دن بعد بیماری کا بہانہ بنا کر لندن یاترا کی درخواستیں دینے والے گزشتہ 4 سال میں ایک مرتبہ بھی بیمار نہیں پڑے - عالمی ادارہ ءِصحت کو اس پر کوئی تعریفی سند تو ضرور جاری کرنا چاہیئے
آئی ایم ایف کے قرض کی پاکستان کے 80 فیصد عوام کو ضرورت نہیں۔ یہ قرض امیر طبقہ اور اپر مڈل کلاس کی عیش و عشرت کو پورا کرنے کیلیے حاصل کیا جاتا ہے اور اس کی سخت شرائط کا خمیازہ 80 فیصد عوام بھگتتے ہیں۔ اس قرض کی وجہ سے عوام معاشی طور پر تباہ و برباد ہوچکے ہیں۔
کہتے ہیں، منہ کو خون لگ جائے تو پھر شکار کی عادت نہیں جاتی۔
اپنے ہی عوام کو 'ہارڈ اسٹیٹ' کے نام پر گولیاں مارنا، انہیں انتشاری اور دہشت گرد ثابت کرنا، کمزور بیانیے گھڑ کر اپنا دفاع کرنا، اشرافیہ کو ساتھ ملا کر ہر ظلم کو معمول بنانا، انتخابات کے نام پر دھونس جمانا، جبر کے ذریعے عوام پر حکومتیں مسلط کرنا، اور پھر اس سب پر اپنے مہروں سے جشن منوانا...
صاحب، منہ کو خون کی عادت لگ چکی ہے۔ بہتر ہے شیشہ تبدیل کرنے کے بجائے چہرے پر غور کریں۔ غلطی پر صرف شیطان اڑتا ہے؛ خود کو چند ساعتوں کے لیے ہی سہی، انسان سمجھ کر دیکھیں
بلاول اگر ڈرامہ نہیں کررہا تو ابھی ن لیگ کی وفاقی حکومت چھوڑ دے ، لیکن بلاول کو شہباز شریف کے اقتدار کے بستر پر لٹانے والے فیصلہ کریں گے کہ بلاول نے کب شہبازشریف کے بستر سے اترنا اور اٹھنا ہے ، جب آپ کی اوقات ایک فیصلہ لینے کی نہیں ہے تو جذباتی اور انقلابی تقاریر کرنے کے ڈرامے مت کریں
کنٹرول لائن کے دونوں جانب حالات یکساں ہوگئے، نہ ادھر والوں کا ادھر والوں کی آزادی پر رشک باقی رہا اور نہ ہی ادھر والوں کو ادھر والوں کے دکھ بہت بڑے دکھائی دینے لگے ۔
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل
میاں صاحب بڑے وضع دار ہیں، زرداری صاحب بڑے زیرک سیاست دان ہیں، ن لیگ کا تیس سال کا تجربہ ہے ۔۔۔ یہ صفات آپنے سنی ہونگی ۔۔۔
اب اس تجربے، زیرک پنے اور وضع داری کا اچار ڈال لیں!
مساجد میں کرسیوں پر نماز ادا کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی اگر حوصلہ شکنی نہ کی گئی تو یہ جگہیں گرجہ گھروں کا منظر پیش کرنے لگیں گی اور ہر کوئی کرسی پر ہی نماز پڑھنے کو ترجیح دے گا۔ اس لیے جہاں تک ممکن ہو، زمین پر نماز پڑھنے کی کوشش کریں۔
اپنے کاشتکار سے گندم نہیں خریدی۔ اسے نئے نئے تجربوں کا شکار کیا۔ اب بیرون ملک سے مہنگے داموں دس لاکھ ٹن گندم خریدنے جا رہے ہیں جس پر وہ زرمبادلہ بھی خرچ ہوگا جو آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر لیا ہے۔ ایسے عقلمند لوگ ہیں!
عمران خان جیسا زمانہ پھر کبھی نہیں آنا
ریئل اسٹیٹ کے بزنس مین کہتے ہیں کہ وہ دور آئیڈیل تھا کنسٹرکشن کے حوالے سے کسان کہتے ہیں کہ اتنی برکت تھی کہ جو فصل کاشت کی بمپر کراپ ہوئی اور ریٹ بھی بہترین ملا اور پیسے بھی جلدی ملے اس جیسا دور کبھی آ نہیں سکتا۔ آٹو سیکٹر والے کہتے ہیں جتنی گاڑی خان کے دور میں بک رہی تھی پاکستان کی تاریخ میں اتنا کام کبھی نہ ہوا۔ غریب کہتے ہیں کہ ہمارے جیب میں 10 لاکھ روپے کا چیک تھا جب بھی کسی کو کوئی بیماری ہوئی مفت علاج ہوا دوائیاں تک مفت ملا کرتی تھیں۔۔
واقعی ایک غریب پرور اللہ کا خوف والا حکمران پاکستان میں آیا تھا۔ جب سے گیا یے ملک برباد ایسے ہو رہا ہے جیسے کسی نے تیار فصل میں خنزیر چھوڑ دئیے ہوں
مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست اور JUI سے اگرچہ میرا کوئی تعلق نہیں، مگر جو بات انہوں نے کی ہے،
بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رسوائی کی۔
فوج کے جوانوں کو میں شہید سمجھتا ہوں، لیکن طالبان کیا اسی فوج نے نہیں بنائے؟ تحریکِ لبیک، جن کو یہ آج دہشت گرد کہتے ہیں، کس نے بنائی؟ کیا ایک فوجی فیض آباد میں سرِعام پیسے نہیں بانٹ رہا تھا؟ کیا یہی فوج امریکا کے لیے جنگیں نہیں لڑتی رہی؟
جرنیلوں نے ان سپاہیوں کا استعمال پریشر الیکشنز میں دھاندلی، چلتی حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لیے کیا۔
اس فوج کو فوج رہنے دیں، کرائے کی فوج نہ بنائیں۔
تین اپریل کو پٹرول 137 روپے مہنگا ہوا تھا تب آئل کمپنیز کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں آیا تھا ۔۔ اب قیمتیں بین الاقوامی قیمت کے مطابق کرنے پر ان کو مسئلہ ہو رہا ہے
تعلیم پر صرف 46 ارب، صحت پر 25 ارب۔
جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پر 838 ارب!
ایک طرف تعلیم و صحت کا برا حال، دوسری طرف ووٹ خریدنے والی خیرات پر اربوں کا خرچہ۔
امپورٹڈ رجیم کا فقیر پیدا کرنے والا بجٹ سب کو مبارک۔