ڈئیر مسلمانوں میں مانتی ہوں کہ اسلام میں ۔بےغم۔کی خدمت کرنا فرض ہے اپنی بیگمات کے چول شوہروں۔اپنی بیویوں کو چھوڑ کر دوسری پر نظر رکھی پھرتے ہو۔۔۔تے ہن برداشت سے باہر ہے ۔۔۔فر چھترول ہی ہونی 🤣😜
#قافلہ_ادب
کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھ
مجھ اعتدال سے عاری کو اعتدال میں رکھ
نچا رہا ہے مجھے انگلیوں پہ عشق ترا
تمام عمر اسی رقص بے مثال میں رکھ
دکھی ہو دل تو اترتی ہے شاعری مجھ پر
تجھے غزل کی قسم ہے مجھے ملال میں رکھ
#نوائےخوگر
اگر آپ کبھی تنہا محسوس کرتے ہیں تو صرف چاند کو دیکھیں اور اعتراف کریں کہ بالکل اسی وقت پر کہیں دور کوئی آپ کے ساتھ بھی اس کی خوبصورتی کی تعریف کر رہا ہے .... 😊
🌜🌘شب بخیر
انڈیا میں 95٪ لوگ دودھ نہیں پیتے
Uk میں اب تک جڑواں بچے پیدا نہیں ہوئے
بندر چائنیز زبان سمجھ سکتا ہے
زیبرا کا دل نہیں ہوتا سانپ کو ہوا میں اچھالو تو وہ مسلسل دس منٹ تک اڑ سکتا ہے
_
_
یہ ساری باتیں غلط ہیں
بجلی نہیں تھی تو ٹائم پاس کر رہی تھی
غور سے پڑھنے کا شکریہ🙄
اک ساتھ وصل و ہجر نبھانے کی خیر ہو
آنے کی خیر ہو' ترے جانے کی خیر ہو
جس میں تمھارا عکس دمکتا ہے صبح و شام
اُس آئنے کی آئنہ خانے کی خیر ہو
دیکھ ' اے زمیں ! ہماری طرف چشمِ رزق سے
ہم بھوکوں مر رہے ہیں ، خزانے کی خیر ہو
#قافلہ_ادب
جب کوئی شخص سچی محبت کرتا ہے تو وہ آپ کی خوشی پر خوش ہوتا ہے، آپ کی اداسی پر پریشان ہوتا ہے، اور آپ کی ایک چھوٹی سی تبدیلی بھی محسوس کر لیتا ہے۔ اسی لیے محبت کرنے والا انسان کبھی کبھی دوسروں کو غیر معمولی یا آدھا نفسیاتی بھی لگتا ہے، کیونکہ اس کی توجہ فکر اور وابستگی عام تعلقات سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اگر کسی کے لیے آپ کی موجودگی اور غیر موجودگی میں کوئی فرق نہیں، آپ کے دکھ سکھ سے اسے کوئی خاص سروکار نہیں تو پھر شاید وہ تعلق محبت کی اس گہرائی تک نہیں پہنچا جہاں محبوب دل کی دھڑکنوں میں بس جاتا ہے۔ سچی محبت میں ایک میٹھی سی دیوانگی ایک بے ساختہ فکر اور ایک خاص قسم کی بے چینی ضرور شامل ہوتی ہے، اور یہی چیز محب اور محبوب کے رشتے کو دوسروں سے منفرد بناتی ہے....
#قومی_زبان
#اردوقومی_زبان
#اردو_زبان
#قافلہ_ادب
#کنول
@UmmeMohammad9T@NawaiKhugar وہ آنکھیں جن سے ملاقات اک بہانہ ہوا
انہیں خبر ہی نہیں کون کب نشانہ ہوا
ستارۂ سحری کا بھروسہ مت کیجو
نئے سفر میں یہ رخت سفر پرانا ہوا
کچھ اس طرح سے وہ شامل ہوا کہانی میں
کہ اس کے بعد جو کردار تھا فسانہ ہوا
#نوائےخوگر
یہ تحریر تمثیلی افسانے (allegory) کی صورت میں لکھی گئی ہے۔ چار جذبات (خوشی، دُکھ، محبت، نفرت) کو باقاعدہ کردار بنا کر خیمہ گاہ کے اندر بسایا گیا ہے جو اسے ایک اچھوتی اور تخلیقی ساخت بخشتا ہے۔
سب سے دلچسپ امر خیمے کو ایک مخصوص مزاج دینا ہے، خوشی کا مختصر قیام، دُکھ کی خاموشی، محبت کی بےشرط قبولیت اور نفرت کی کھوکھلی مضبوطی! یہ کردار نگاری تجریدی جذبات کو تقریباً جیتے جاگتے انسانوں جیسا بنا دیتی ہے۔
تحریر کا فکری نقطۂ عروج دُکھ اور محبت کے مکالمے میں ہے "جس محبت نے کبھی دُکھ نہ دیکھا ہو، وہ صرف خواہش ہوتی ہے، وفا نہیں۔" یہ جملہ محبت اور تکلیف کے باہمی تعلق کو نہایت خوبصورت اور فلسفیانہ انداز میں بیان کرتا ہے اور نفرت کے کردار کو پہلی بار خود شناسی عطا کرتا ہے۔ "اسے احساس ہوا کہ وہ کسی ایک دل کو سکون نہ دے سکی" جو تمثیل کو محض تعلیمی سبق سے بڑھا کر ایک زندہ ڈرامے میں بدل دیتا ہے۔
"خوشی مسکراہٹ لکھتی ہے، دُکھ حکمت رقم کرتا ہے، نفرت قبرستان بناتی ہے، مگر محبت... قبروں میں بھی امید کے پھول کھلاتی ہے" تحریر کا سب سے پر اثر اور متوازن فقرہ ہے جو چاروں جذبات کو ایک ہی سانس میں تولتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ تحریر علامتی کردار نگاری کے ذریعے ایک سادہ مگر گہری حقیقت بیان کرتی ہے کہ خیمہ گاہ (زندگی) سے جاتے وقت جذبات نہیں بلکہ صرف کردار اور اعمال ساتھ جاتے ہیں۔ اسلوب متوازن، شاعرانہ اور فکر انگیز ہے۔
بہت داد کہ @_Aamrooj_ آپ بغیر کسی مذہبی یا تاریخی حوالے کے بھی گہرا اثر چھوڑنے میں کامیاب رہیں۔ بہت جیئیں ۔
#اردو_زبان