نواز شریف ایسے غائب ہوئے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگھ، نواز شریف اس قابل بھی نہیں کہ کم ا�� کم چھوٹے صوبوں پر اپنا موقف ہی دے دیں، یہ تین بار ملک کے وزیراعظم رہے ہیں، اب تو شک پڑتا ہے کہ یہ بنے نہیں تھے ،بلکہ بنائے گئے تھے ، مطیع اللہ جان
بلوچستا�� میں دہشتگردی کا سارا مدعا فتنہ ہندوستان کے نام سے بھارت پر ہے ۔ تو بھارت کے گرفتار دہشتگردی ماسٹر مائنڈ کلبھوشن یادیو کو 9 سال پہلے سزا سنا کر آج تک عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا
کیا یہ دہشتگردی کی حوصلہ افزائی نہیں ؟
مقبوضہ اور آزادکشمیرکافرق مٹادیاگیاوادی نیلم کوٹلی مظفرآباد اور
راولہ کوٹDچوک کامنظر مقبوضہ سےزیادہ بھیانک لگتا ہے
اسلام آبادDچوک میں مقبوضہ کشمیرکیلیےاہتمام اور آزاد کشمیرمیں100شہیدوں کی لاشیں
پاکستان میں کشمیرکیلیےآواز اٹھانےپرجیلیں بھردی گئیں
"سیاست نہیں، پاکستان اور قانون کی حکمرانی کی جنگ ہے!" 🔥
محترمہ علیمہ خان سے ایک انٹرویو کے دوران سوال کیا گیا کہ: آپ فاطمہ جناح والا کردار ادا کر رہی ہیں، سیاست میں کب انٹری دیں گی؟
اس پر انہوں نے انتہائی واضح اور دوٹوک انداز میں جواب دیا:
"سیاست کی ابھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اپنے بھائی کی رہائی اور حق کے لیے عوامی موبلائزیشن کر رہے ہیں، اور اس وقت ہم میڈیا سمیت ملک کے ہر شہری کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔"
جمائمہ خان سے طلاق کے وقت برطانوی جج نے عمران خان سے کہا اپکو انکی دولت سے 5 ارب پاونڈ آتے لے لیں
عمران خان نے تاریخی جواب دیا مجھے کچھ ��ہیں چاہیے آپ وہ میرے بچوں کے نام کردیں انکی والدہ کے ہی پاس رہیں گے
پاکستان کی اسٹبلشمنٹ حکومت پاکستانی شہری سب نے من تن دھن لگا کر پوری دنیا کو اس طرف لانے کی کوشش کی کہ آئیں کشمیر پر کیا ظلم ہو رہا ہے بھارت کیا ظلم کر رہا ہے
فیلڈ مارشل کو اقتدار میں آۓ 4 سال ہو چکے ہیں اور 4 سالوں کے اقتدار کا نچوڑ یہ ہے کہ کشمیر پر کسی بھی قسم کی خبر کرنے پر عالمی میڈیا پر پابندی لگا دی ہے
شہزاد اکبر
ویڈیو ثبوت 🚨
یہ ویڈیو اس وقت کی ہے جب نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں تھا، اس ویڈیو میں دکھانے جانے والا گھر نواز شریف کا جیل تھا۔
فیملی، پارٹی کے لوگ اور ذاتی ڈاکٹرز روز ملنے آتے تھے، نواز شریف کو ہر قسم کی سہولیات میسر تھے
"ہم بغیر اطلاع میانوالی پہنچے ، اگر اطلاع دیتے تو استقبال کے لیے آنے والوں کو چشمہ بیراج سے ہی اٹھا لیتے، جو کارکن نکلے ان کو بھی پولیس نے اٹھا لیا۔لائحہ عمل یہ ہے کہ لوگ تیار ہیں، لوگ بہت غصے میں ہیں،جہاں سے گزرتے لوگ سڑکوں پر نکل آتے تھے، ہم نے چار جگہوں پہ رکنا ہوتا تھا چودہ جگہوں پر رکنا پڑ جاتا۔ یہ جو تاثر دے رہے تھے لوگ نہیں نکلتے دیکھ لیا ��وگ نکلنے کو تیار ہیں"۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
#ناحق_قید_کے_3سال
فیصلہ عوام کا
پاکستان کپت��ن کا!
زندان میں ڈالنے سے بھلا تحریکیں رکتی ہیں؟
لیکن سر جی نہ زیادہ پڑھے لکھے ہیں نہ کوشش کرتے ہیں۔
امریکہ سے لے کر یورپ، مشرق وسطیٰ سے لے کر ایشیا تک ایک مطالبہ ایک زبان : رہا کرو عمران خان
#ناحق_قید_کے_3سال .
#WorldwideProtestsForImranKhan
"یہ جو جدوجہد شروع ہوئی ہے تب ختم ہوگی جب عمران خان رہا ہونگے۔ان ظالموں کو بتا دیں کہ ان کا ظلم کسی صورت قبول نہیں ہمیں، ہمیں کوئی خوف نہیں ہے ان یزیدوں کو بتادیں ان کی غلامی ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے"۔
علیمہ خان کا بنوں میں کارکنوں سے خطاب
#ناحق_قید_کے_3سال
ہم بغیر اطلاع میانوالی پہنچے ، اگر اطلاع دیتے تو استقبال کے لیے آنے والوں کو چشمہ بیراج سے ہی اٹھا لیتے، جو کارکن نکلے ان کو بھی پولیس نے اٹھا لیا۔لائحہ عمل یہ ہے کہ لوگ تیار ہیں، لوگ بہت غصے میں ہیں،جہاں سے گزرتے لوگ سڑکوں پر نکل آتے تھے، ہم نے چار جگہوں پہ رکنا ہوتا تھا چودہ جگہوں پر رکنا پڑ جاتا۔ یہ جو تاثر دے رہے تھے لوگ نہیں نکلتے دیکھ لیا لوگ نکلنے کو تیار ہیں علیمہ خان
یہ چھوٹے اور خوفزدہ لوگ ہیں ۔: نورین خان
لوگوں نے جیلوں میں کتابیں لکھی ہیں اگر عمران خان لکھتے تو نسلیں پڑھتیں
مگر یہ خوفزدہ لوگ انہیں کاغذ پین دینا تو دور اس سے بھی ڈرتے ہیں کہ عمران خان کی کوئی بات نہ باہر آ جائے
اٹھا لیا گیا تو کئی ہفتوں یا مہینوں تک کوئی خیر خبر نہیں تھی۔ نا تو وکیل سے رابطہ کروایا گیا اور نا ہی اہلخانہ سے ۔ اس دوران سختیوں اور پابندیوں کا تو کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ کافی وقت کے بعد پہلی مرتبہ گھر فون کرنے کی اجازت ملی۔ بتایا گیا کہ دو تین منٹ کی اس فون کال کے دوران کسی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں کرنی۔ مہینوں بعد ہیلو کی آواز نے زار و قطار رلا دیا۔
“ جنید بول رہا ہوں آپ ٹھیک ہیں ؟ میں بھی ٹھیک ہوں “
تیسرا سوال آپ کی جان نکال دے گا۔
“ عمران خان رہا ہوگیا ہے ؟”
سیاسی گفتگو نہ کرنے کی پابندی تھی۔ خلاف ورزی پر آپریٹر نے کال منقطع ک��دی۔ جنید جہانگیر کی زبان میں لکنت ہے اللہ نے وہ کسر دماغ میں پوری کردی ۔ دو تین دفعہ اس سے ملاقات ہوئی تھی ۔قدیمی ٹوئٹر والے سبھی لوگ اسے جانتے ہیں۔ پرانے دور کا سلیبرٹی۔ سلمان رضا فرنٹ سوشل میڈیا پر زیادہ متحرک نہیں رہا لیکن انتظامی امور ��یں ٹیم ورک میں سلمان رضا نے تحریک انصاف کے لیے بہت کام کیا۔
کئی لوگوں سے بات ہوئی۔ بہت لوگوں سے پوچھا۔ ان کیساتھ مسئلہ کیا ہوا۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ تحریک انصاف آفیشلز نے اپنی گردن چھڑانے کے لیے ان کا نام دیا اور یہ امارات میں دھر لیے گئے۔ کچھ لوگوں نے یہ بتایا کہ انکی کچھ پوسٹس اماراتی حکومت کے راڈار میں آئیں جو ان کے لیے یہ مسئلہ بن گیا۔ جتنے منہ اتنی کہانیاں ۔ کچھ کا خیال ہے کہ تحریک انصاف انکے لیے کچھ نہیں کررہی۔ کئی لوگوں نے بتایا کہ تحریک انصاف نے کافی سفارت کاروں ، سابق وفاقی وزراء اور بیک ڈور چینلز کی مدد سے انکی جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن ہر جگہ سے انکار ہ��ا۔
سلمان رضا بال بچے دار ہے۔ انکی اہلیہ کی پوسٹس دکھائی دیتی رہتی ہیں۔ جنید کے خاندان والے بھی روتے پیٹتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں معلوم ہوا کہ ان کو مختلف طرح کے طبی مسائل ہے۔ بغیر بے ہوش کیے سلمان رضا کی ایک سرجری بھی کی گئی۔ ان کی صحت بھی دن بدن گررہی ہے۔
اب شاید دو تین سال ہوچکے۔ کتنی ہی عیدیں ان دو خاندانوں کی سسکیوں میں گزری ہوں گی۔ بوڑھے ماں باپ دن میں کتنی ہی مرتبہ روتے ہوں گے۔ ان بوڑھے والدین کی بہنوں اور اہلیہ کی بچوں کی سسکیاں اور بددعائیں عرش ہلائیں گی ، ہم یہ سب بے غیرتیاں کرنے والوں کے لیے زمین ہلاتے رہیں گے۔ ایک دن جنید گھر فون کرے گا اور پوچھے گا “ اس کا کیا بنا” اسے بتائیں گے “ وہ آگیا ہے “ ہم سوشل میڈیا کی طاقت سے عمران خان سے جو پہلا کام لیں گے وہ جنید اور سلمان کی رہائی کا لیں گے۔
نظام اسی دن collapse کرگیا تھا جس دن انہوں نے عمران خان کو ہٹایا تھا، جس دن ایک بہترین چلتی ہوئی حکومت گرائی اس دن سے System Collapse ہے۔ اس دن کے بعد سوائے ظلم کے اور کوئی نظام نہیں چلا ۔نورین خان نیازی
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan#ImranKhan