جب عراق پر امریکہ نے حملہ کیا تو مجوسیوں نے امریکہ کو اپنا باپ مانا تھا۔۔ شیطانوں کے چہروں پر خوشی دیکھو۔۔ اج امریکہ ایران کی لڑائی اسلام کی لڑائی بن گئی ہے؟
مسلمانوں رافضی دنیا کی جھوٹے ترین لوگ ہیں اگر یہ کہیں کہ اللہ ایک ہے تو پوچھ ضرور لینا کہ کونسا اللہ؟ کیونکہ ان کے سینکڑوں خدا ہیں یہ جھوٹے لوگ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ ہم پر فتویٰ لگایا جاتا ہےکفرکاکہ جبکہ ہم تو مسلمان ہیں مسلمانوں فیصلہ آپ کریں کہ کیا یہ زندیق مسلمان ہوسکتے ہیں ؟
مردان سے پی ٹی آئی کے ایم پی اے افتخار مشوانی ترکھان کا سفر: ایک عام دوکان سے ارب پتی تک!
ایم پی اے بننے کے بعد مشوانی صاحب نے مختار اسٹیل مل، رنگ روڈ پر 80 جریب زمین اور الزبتھ نرسنگ کالج کے بھی مالک بن گئے۔
اور کارکنان اب بھی وہی نعرے لگا رہے ہیں… “تبدیلی آگئی ہے!
پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کیا اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے؟
بلوچستان میں جہاں امن و امان کی صورتحال کسی طور مثالی نہیں، بیرونی مداخلت، بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے خطرات موجود ہیں، وہاں جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمن نے ایسا جلسہ منعقد کیا جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔ ایسے حالات میں، جب بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی سیاست بھی بعض حلقوں میں زیر بحث رہتی ہے، ایک قومی مذہبی جماعت کی جانب سے اتنا بڑا اجتماع قومی سیاست اور قومی وحدت کے لیے ایک اہم پیش رفت تھا۔
آپ مولانا فضل الرحمن کی طرزِ سیاست سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر ایسے ماحول میں ایک کامیاب اور بڑے عوامی اجتماع کے انعقاد پر وہ اور ان کی ٹیم مبارک باد کے مستحق ہیں۔
ایسے میں الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے مذکورہ جلسے کے مکمل بلیک آؤٹ کو سمجھنا آسان نہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت نے ہمیشہ ریاست کے استحکام اور بقا کی بات کی ہے۔ اگرچہ انہوں نے مختلف اوقات میں حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کیا، لیکن ریاستِ پاکستان کے تحفظ اور قومی وحدت کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ ایسے حالات میں ان کے جلسے کو الیکٹرانک میڈیا پر مکمل نظرانداز کرنا خود الیکٹرانک میڈیا کے کردار اور ترجیحات پر کئی سوالیہ نشان چھوڑ جاتا ہے۔
ایسا نہ ہو کہ اشتہارات، مفادات اور وقتی ترجیحات کے تحفظ میں مصروف الیکٹرانک میڈیا خود اپنی ساکھ اور بقا کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہو۔ اگر میڈیا عوامی دلچسپی اور قومی اہمیت کے واقعات کو نظرانداز کرتا رہا تو آنے والے برسوں میں اس کی حیثیت مزید کمزور ہو سکتی ہے۔
میڈیا اداروں کے مالکان اور قومی سطح پر پالیسی سازی کرنے والے حلقوں کو اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور اپنی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا۔
صحافی عبداللہ مدنی
آپ ہر سال پاکستان سے خمس و عشر جمع کرتے تھے،
خود ایرانی سفارت خانے سے وظیفہ لیتے تھے لیکن اس بار ایران نہیں گئے،
اس سبب کہ کہیں کوئی میزائل ڈرون نا لگ جائے،
لیکن ساری زندگی غریب کے بچوں کو زینیبیون فاطمیون کے نام پر شام و عراق بھیجتے رہے...!
@SdqJaan ایران نے اپنے پراکسی کے ذریعے لبنان ، یمن ، شام ، عراق اور دیگر اسلامی ممالک میں کتنے اہل سنت والجماعت سنیوں کو شہید کیا ہے ؟ اس پر بھی بات کریں ۔
نام : بسام یوسف علی
کام : ڈاکٹر
جگہ : فوجی تشرین ہسپتال دمشق
اعترافِ جرم : 8000 قیدی کو شہید کرکے اعضاء نکالنا
تعلق : شامی شیعہ فوجی
مذہب : شیعہ خنزیر
مقتولین : سب مسلمان