اس لئے بھی ہمیں دھتکار دیا جاتا ہے
ہم ترے بعد فقیروں کی طرح لگتے ہیں
اس نے پھر غص٘ے میں رکھا نہیں لفظوں کا خیال
میں نے بولا بھی تھا تیروں کی طرح لگتے ہیں
ضمیر قیس
خط کے چھوٹے سے تراشے میں نہیں آئیں گے
غم زیادہ ہیں لفافے میں نہیں آئیں گے
ہم نہ مجنوں ہیں، نہ فرہاد کے کچھ لگتے ہیں
ہم کسی دشت تماشے میں نہیں آئیں گے
مختصر وقت میں یہ بات نہیں ہو سکتی
درد اتنے ہیں خلاصے میں نہیں آئیں گے
اُس کی کچھ خیر خبر ہو تو بتاؤ یارو
ہم کسی اور دلاسے میں نہیں آئیں گے
جس طرح آپ نے بیمار سے رخصت لی ہے
صاف لگتا ہے جنازے میں نہیں آئیں گے
خالد ندیم شانی