تھانہ پیرودھائی کی یہ کہانی سن کر انسانیت خودکشی کر لے ۔ سگی خالہ نے کم سن بھانجی کو فون کرکے ملنے بلایا، پھر اپنے خاوند (لڑکی کے خالو) کے ساتھ مل کر اسے اغوا کرلیا۔ اور دندا پر مجبور کیا
مری میں واقع اپنی دوسری رہائش گاہ پر لے جا کر خالہ نے خود اپنے خاوند سے بھانجی کی جنسی زیادتی کروائی۔ نہ صرف یہ بلکہ خالہ نے ہر بار کی نازیبا ویڈیوز بھی بنائیں تاکہ بھانجی کو بلیک میل کیا جا سکے۔
یہ ظلم کسی ایک دن پر ختم نہیں ہوا۔ خالہ اور اس کے خاوند نے متاثرہ لڑکی کو پیرودھائی کے ایک ہوٹل میں نائیکہ طیبہ اور اس کے خاوند زکارل کے حوالے کر دیا۔ ہوٹل کے کمرہ نمبر 112 میں دو ماہ تک معصوم بھانجی کو قید رکھا گیا۔ روزانہ مختلف گاہک لائے جاتے، اور ہر بار زیادتی کے بعد ملزمان کو دو ہزار روپے ملتے۔ متاثرہ لڑکی کی اپنی 50 ہزار روپے بھی ملزمان کے پاس تھیں۔ جب لڑکی مزاحمت کرتی تو ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکیاں دی جاتیں اور تشدد کیا جاتا تھا۔
آخر کار اللہ نے کوئی ذریعہ پیدا کیا۔ متاثرہ لڑکی کی ماں (جو اٹک میں رہتی ہیں) کو جب پتا چلا تو انہوں نے پیرودھائی تھانے میں درخواست دی۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف مقدمہ درج کرلینے سے انصاف ہو جائے گا؟ کیا سگی خالہ، خالو، ہوٹل مالک، اور وہ تمام گاہک جنہوں نے اس بچی کی عصمت ربائی کی، سب کو سامنے لایا جائے گا؟
یہ خبر پڑھ کر آنکھوں سے خون آنسو بن کر بہہ رہے ہیں۔ اگر ہم نے آواز نہ اٹھائی تو کل تمہاری، میری، کسی اور کی بیٹی بھی ایسے شیطانوں کا شکار ہو سکتی ہے۔ یہ پوسٹ ضرور شیر کریں، تاکہ راولپنڈی پولیس پر دباؤ پڑے اور یہ قاتل جلدی سے گرفتار ہوں۔
دعا ہے کہ اس بچی کو جلد انصاف ملے، اور اس کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی ہو۔ اللہ ہمیں ایسے لوگوں سے بچائے