آخر کوئی تک بنتی ہے ایسی پوسٹ کرنے کی؟
اگر کسی نے یہ خبر شیئر کی کہ سید انور کی کوششوں سے وسیم اکرم حج پر گئے ہیں، تو اس پر ایک مہذب اور متوازن ردعمل یہ ہو سکتا تھا:
“اللہ تعالیٰ سعید انور کو جزائے خیر دے، وسیم اکرم کا حج قبول فرمائے اور انہیں دین کی مزید خدمت کی توفیق عطا کرے۔”
بات یہیں ختم ہو جاتی۔
لیکن جب اس موقع پر یہ صاحب "تبلیغیوں نے کرکٹ تباہ کر دی" جیسے جملے اچھال رہے ہیں تو وہ دراصل کسی دلیل کا اظہار نہیں کر رہے، بلکہ اپنے اندر کی تلخی، تعصب اور فکری تنگ نظری کو آشکار کر رہے ہیں۔
حج، عبادت، نیکی کی دعوت یا کسی شخص کے دین کی طرف رجوع کرنے پر خوش ہونے کے بجائے اگر کسی کے دل میں زہر ابلنے لگے تو مسئلہ تبلیغ، کرکٹ یا سعید انور نہیں، بلکہ اس کے اندر کی تاریکی کا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے خیالات رکھنے والے بعض لوگ اس ملک میں اہم سرکاری عہدوں تک بھی پہنچے۔
آخرت میں اللہ تعالیٰ جن لوگوں سے بیزاری کے باعث کلام نہیں کریگا ان میں سے ایک "متکبر فقیر" بھی ہے۔بظاہر فقیری کے ساتھ تکبر کا کوئی جوڑ بنتا نہیں لیکن اپنے ملک کی اشرافیہ کو دیکھیں جو غریب عوام سے خیرات (ٹیکس) بٹورتی ہے اور پھر متکبرانہ کروفر میں زندگی گزارتی ہے تو سمجھ آ جاتی ہے
TRUMP: “If Saudi Arabia, Qatar, Pakistan, Türkiye, Egypt and Jordan do not sign on to the Abraham Accords, we’re not going to move forward with an Iran deal. Those countries owe it to us.”
Trump is literally holding the world hostage to further Israel’s interests.
ٹویٹری برادری کو عید قربان مبارک ہو۔
قربانی کا لفظ قرب سے بنا ہے جس مطلب قریب ہونے کا ہے۔اس کا جامع مفہوم جاننے کیلئے ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی کو سامنے رکھیں تو ہر موڑ پر اللہ کے قریب ہونے کیلئے قریب کی کوئی چیز قربان کرتے نظر آتے ہیں۔جانی پہچانی مروجہ روایات اور رسومات کے بندھن توڑ کر حق کی جستجو کرنا اور حق پانے کے بعد اس کا ببانگ دہل اعتراف و اعلان کر کے تمام رشتوں ناطوں کی ناراضگی مول لینا یہانتک کہ والد سے بھی کنارہ کش ہو جانا۔پھر پوری قوم کو جھنجھوڑنے کیلئے بت خانے کو تہس نہس کر ڈالنا تاکہ حکمران اشرافیہ کے سامنے بھی اعلان حق کی صورت پیدا ہو سکے اور موقع ملتے ہی ہر طرح کی مصلحت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پوری ہمت و جرات کے ساتھ احقاق حق کر گزرنا اور نتیجے کے طور پر خاموش رہنے پر اپنے آپ کو سپرد آتش کر دینے پر تیار ہو جانا۔مزید برآں ہجرت کرنا،دوسری شادی سے پیدا ہونے والے بچے کو ماں سمیت وادی بے آب و گیاہ میں خدا کے آسرے پر چھوڑ آنا اور لگ بھگ سو سال کی عمر میں اپنے تیرہ سالہ بچے کو دین اسلام کے یہی آداب سکھانے کیلئے پیشانی کے بل لٹا کر چھری چلا دینا۔یہ وہ مکمل عمل ہے جسے قرآن نے "دینا قیما ملۃ ابراھیم حنیفا"(سیدھا سادھا یکسو ابراہیم کا طریقہ) قرار دیا ہے۔اسی کی تلقین جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو "قل ان صلوتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین"(کہہ دیجیے میری نماز اور قربانی کی طرح میرا جینا اور مرنا بھی سارے جہانوں کے پروردگار اللہ کیلئے ہے) کے الفاظ کے ذریعے کیگئی۔یہ قربانی کا وہ اصل مفہوم ہے جس کا مطالبہ اپنے وقت پر یہود سے بھی تھا،اسی کا مطالبہ نصارٰی سے بھی رہا اور ان کے منحرف ہونے کے بعد یہی مطالبہ امت محمدیہ سے بھی ہے۔مگر افسوس ہماری بھی اکثریت یہود کی طرح دین کی ظاہری رسم کو کل دین سمجھ بیٹھی اور دین کی وہ روح جو زندگی بھر کی قربانی سے عبارت ہے اسے یکسر فراموش کر چکی ہے
"رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی"
یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ رب العالمین ہماری تمام تر سرکشیوں کے باوجود ہم سے اس طرح ناراض نہیں ہوا جیسے یہود سے ہوا تھا۔اسی کا مظہر ہے کہ ہمیں دوبارہ "مقام عاشقی" کے آداب سکھانے کیلئے اس نے فلسطین اور کشمیر میں آگ کے الاؤ بھڑکا رکھے ہیں جہاں امت مسلمہ کے دلارے سنت ابراہیم و اسماعیل زندہ کرتے ہوئے پوری امت مسلمہ کو ولولہ تازہ دے رہے ہیں۔پاکستان اور ایران بھی کروٹ بدل رہے ہیں اور شاید عرب خطے میں بھی ایسی ہی آگ بھڑکنے والی ہے۔
"آگ ہے،اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے"
جی ہاں دنیا کی امامت ابراہیم علیہ السلام کو بھی اس امتحان سے گزرنے کے بعد ہی ملی تھی اور اولاد ابراہیم کو بھی آگ کی اس وادی سے گزرنے کے بعد ہی ملے گی۔یہی سنت الٰہی ہے، یہی ملت ابراہیمی ہے اور یہی حقیقی "ابراہم اکارڈ" ہے۔جو چاہے اس عہد ابراہیمی پر کمر بستہ ہو جائے۔
"یہ بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا؟
گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں"
اور
"اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا"
دنیا کروٹ بدل رہی ہے۔تجزیہ نگار چائینہ ماڈل کو آنے والے ورلڈ آرڈر کے طور پر دیکھ رہے ہیں جبکہ قدرت نے نوع انسانی کیلئے رحمت للعالمین ماڈل کا فیصلہ کر رکھا ہے۔
"آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی
آملیں گے سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک
بزم گل کی ہم نفس باد صبا ہو جائے گی
پھر دلوں کو یاد آ جائیگا پیغام سجود
پھر جبیں خاک حرم سے آشنا ہو جائے گی
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
شب گریزاں ہو گی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید و"
مریم نواز صاحبہ نے آئرن لیڈی بننے کے شوق میں انتظامیہ کو رنجیت سنگھی اختیارات تفویض کر رکھے ہیں تو دوسری طرف انھیں ہر طرح کی مراعات سے نوازنے کیلئے عوام پر رنجیت سنگھی ٹیکسوں کی بھرمار بھی کر رکھی ہے جبکہ تیسری طرف پنجاب کے شہروں اور قصبوں کے رنجیت سنگھی دور کے نام بحال کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے ہیں۔بلوچستان اور کے پی کے پہلے ہی اپنی اپنی روایات کیلئے سربکف ہیں۔دیکھیے کب سندھ راجہ داہر کی روایات کے احیاء کیلئے حکومتی سطح پر ضروری اقدامات اٹھاتا ہے۔
بنیان مرصوص اور معرکہ حق والے اپنے دو قومی نظریے اور نظریہ پاکستان کی بساط بچھانے کیلئے مودی جی سے کوئی نئی جگہ مانگ لیں تو بے شک مانگ لیں موجودہ پاکستان میں اس کو زمین غذا دینے کیلئے تیار ہے اور نہ ماحول گنجائش دینے کا روادار ہے۔۔!!!
بے شک پراجیکٹ عمران کی بساط لپیٹ دی گئی،مودی کے خواب بکھیر دیے گئے،دہشت گردوں اور سمگلروں کا سر کچلا جا رہا ہے مگر قومی وجود کو اندر سے دیمک لگی ہے اور پاکستان کی شناخت نشانے پر ہے۔جمہوریت جمہور ہی کو نہیں قومی شناخت کو بھی مٹانے کے درپے ہے۔پراجیکٹ عمران خان اب پراجیکٹ مریم نواز و ہمنوا ہے۔وہی گریٹر پنجاب ،گریٹر بلوچستان ، گریٹر پختونستان اور سندھو دیش و جناح پور۔تاہم اس سے مسئلہ حل تو نہیں ہو گا۔جب راجہ داہر والے ملتان( تقریباً موجودہ پنجاب) تک،رنجیت سنگھ والے کابل تک،باچا خان والے جہلم تک کے علاقوں کے دعویدار بنکر کھڑے ہونگے تو پورا خطہ کیا امن و امان اور راحت و سکون کے گہوارے میں بدل جائیگا یا آگ و خون میں نہائے گا!!؟
"جہاں ہستی ہوئی محدود لاکھوں پیچ پڑتے ہیں
عقیدے،عقل عنصر سب کے سب آپس میں لڑتے ہیں"
فوج نے پرویز رشید صاحب سے بہت سخت زیادتیاں کر رکھی ہیں۔ان سے ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے اس کے بدلے میں تیس کروڑ انسانوں کو آگ میں جھونکنے والے مشورے مریم بی بی کو نہ دیں۔
میں آج جس ماحول میں گفتگو کر رہا ہوں، مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں خون کے جھیل میں کھڑا ہوں اور آپ سے مخاطب ہو رہا ہوں۔
مسئلہ کسی ایک فرد کا نہیں ہے۔ ہمارے شیخ مولانا محمد ادریس شہید ہو گئے۔ وہ ہمارے صوبائی اسمبلی کے ممبر رہ چکے تھے۔ ان کے سسر، قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے تھے، مولانا حسن جان شہید۔ مولانا معراج الدین اس پارلیمنٹ کے رکن رہے، شہید ہو چکے ہیں۔ مولانا نور محمد صاحب وانا کے، وہ اس پارلیمنٹ کے رکن رہے ہیں اور وہ بھی شہید ہو چکے ہیں۔
باقی جو ہمارے اکابر علماء ہیں، جو میرے لیے میرے استاد کا مقام رکھتے ہیں، وہ دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اور جمعیۃ علماء اسلام ہو، تمام مکاتبِ فکر کی سیاسی جماعتیں ہوں۔
تمام مکاتبِ فکر کے مدارس ہوں، مدرسین ہوں، علماء ہوں، طلباء ہوں، طول و عرض میں یہ سب لوگ پاکستان کے آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، ملک کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کس چیز کی سزا ان کو دی جا رہی ہے کہ آئے روز ہم جنازے اٹھا رہے ہیں؟
باجوڑ میں ہم نے ایک جلسے کے اندر اسی جنازے اٹھائے۔ وانا وزیرستان میں، شمالی وزیرستان میں ہمارے ضلعی صدور، ضلعی امیر، وہ تمام شہید کر دیے گئے ہیں، اور بعض اب بھی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ ایک فعال زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔
پندرہ، بیس آپریشن ہو گئے۔ آپریشن ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں، کبھی کس نام سے، کبھی کس نام سے، اور مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا قومی اسمبلی میں خطاب
اللہ کی مدد سے معرکہ حق میں فتح ملی۔اب اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کے واضح احکامات کی نافرمانی کے ذریعے ناشکری کر کے اس کے غضب کو دعوت دی جا رہی ہے
مولانا فضل الرحمان صاحب نے پندرھویں صدی کا دوسرا سب سے بڑا حق بیان کیا ہے۔(پہلا باجوہ نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا تھا).یہ حقیقت ہیکہ دو ہزار دس میں جامعہ اشرفیہ میں منعقدہ اکابر علماء دیوبند کی مجلس میں طویل بحث مباحثے کے بعد اس امر پر اتفاق ہو گیا تھا کہ پاکستان میں مسلح بغاوت ناجائز عمل ہے۔بریلوی مکتب فکر اور اہل حدیث حضرات پہلے ہی اس پر متفق تھے۔اس اتفاق رائے کے باوجود اس موقف کو بھرپور طور پر عوام کے سامنے اجاگر نہیں کیا جا سکا کیونکہ ایسی کوشش کرنے والی آوازوں کو گولیوں سے خاموش کر دیا جاتا رہا۔دوسری طرف قرائن سے ریاست بھی یکسو نہیں لگتی تھی۔اب پہلی مرتبہ مولانا فضل الرحمان مد ظلہ العالی نے پوری قوت سے وقت کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اس حق کو بیان بھی کیا ہے اور باطل کو للکارا بھی ہے۔ریاست نے علماء کی کیا حفاظت کرنی ہے۔اہل حق کی حفاظت الحق خود کرتا ہے۔جس ذہنیت کی دستبرد سے کبائر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جانیں محفوظ نہ رہ سکیں ان کے ہاتھوں شہادت پانا یقیناً باعث سعادت و افتخار ہے۔
@khalidmabbasi@mkw72 ہمارے یہاں بہت سے نام نہاد صحافی مشرف کے دور میں ابھرے ۔ پہلے تو انہیں صحافی کہنا غلط پھر یہ کہ وہ سارے الحادی مشن کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرتے رہے۔ انہیں پاکستان کے خلاف بولنا ، اسلام و مولوی کے خلاف بولنا ، ٹرانس جینڈر جیسے غلیظ بل کی حمایت میں بولنا بہت پسند ہے۔۔
حضرت یوسف کے سات بھائی تھے ہمارے 57 بھائی ہیں لیکن جب اسرائیلی فوج ہمارے بچے شہید کرتی ہے تو کوئی ہمیں گلے نہیں لگاتا آج ہم فلسطینیوں کی واحد امید پاکستان ہے ہمیں یقین ہے سب ہمارا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں لیکن پاکستانی عوام فلسطینیوں کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے، فلسطینی صحافی جلال الفرا
افسوس! غزہ اب محض ایک قصہ بن گیا
غزہ کی زمین سے اٹھتا ہوا لہو کا شور ہمارے تعیشات کے شور میں دب گیا ہے۔ وہ دینی حلقے جو کل تک بیدار تھے، آج اپنی مصلحتوں اور ترتیبات کے حصار میں گم ہو چکے ہیں۔
جن مصلوں پر کل گریہ و زاری تھی، وہاں اب خاموشی کا پہرا ہے؛ گویا ہم نے فلسطین کے مقدمے کو مسجدوں کے منبروں سے اتار کر یادوں کے قبرستان میں دفن کر دیا ہے۔
یہ خاموشی غزہ کی مظلومیت سے زیادہ ہماری ایمانی حِس کی موت کا نوحہ ہے۔
The war against India a year ago led to Pakistan’s Asim Munir’s elevation to the status of field marshal. Now he is playing peacemaker in ceasefire talks between the United States and Iran https://t.co/pjV3erytZj
🚨 FINAL CALL: Only 3 days left until the deadline!
Reserve your seat in one of our 31 cities nationwide before it's too late.
🔗 Apply now: https://t.co/AccuZgk7JH
📅 Last date to apply: 18th April 2026
#AdmissionAlburhan#AlburhanAdmissions2026#BasicIlmeDeenCourse
You’re a high performer at work…
but what about your family, health, and Deen?
Is success only about your career?
True success is balanced.
🔗 Apply now: https://t.co/AccuZgjzU9
📅 Last date: 18th April 2026
#AdmissionAlburhan#AlburhanAdmissions2026#BasicIlmeDeenCourse
@mohammedtalal15 اگر امریکہ کے سامنے ایران اپنا سب کچھ تباہ کرواکے کھڑا نہیں ہوتا اور عرب ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں پر حملے نہیں کرتا تو ان عرب ریاستوں کو ہوش نہیں آتا اور وہ امریکی گود سے نکلنے کی جدوجہد نہیں کرتے آج قطر و سعودی کا امریکہ سے جان چھڑانے کی کوشش ایران کے اسی حملے کی وجہ سے ہے
@mohammedtalal15 جس درجہ اماراتی و سعودی فرمانرواں کو امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ماتھا ٹیکتے دیکھا اس کی نظیر عالم اسلام میں شاذ ہے۔ وہ تو بھلا ہو غزہ کے غیور مجاھدین کا جنکے اقدامی جہاد نے اسرائیل عرب گٹھ جوڑ کا پردہ چاک کیا وگرنہ تو یہ عرب ریاستیں اسرائیل کو قبول کر چکے ہوتے