🚨🇵🇰 EXCLUSIVE INTERVIEW: IMRAN KHAN’S SONS BREAK THEIR SILENCE
Every once in a while, I conduct an interview that could shape the politics of a country.
This may be one of them.
Imran Khan, who I spoke with just weeks before his arrest, was one of the most popular leaders of our time.
Often called the “Trump of Pakistan,” he had an approval rating above 60%.
But when he turned against the country’s powerful military establishment, the cost was immediate.
He was shot.
Then jailed.
Then banned — not just from office, but from television, radio, and social media.
And yet, even from behind bars, even with his name erased, his party still won a majority in Pakistan’s latest elections.
It didn’t matter.
Today, he sits in a 7x8 cell designed for death row inmates.
No light. No lawyer. No access to doctors. No due process.
His sons, Sulaiman and Kasim Khan, have spent their lives out of the spotlight, far from the chaos of Pakistani politics.
But for nearly 2 years, they’ve watched their father — wounded, silenced, and locked in solitary confinement — be forgotten by the world.
They haven’t seen him since he was shot.
Phone calls, when they come, arrive at random — sometimes at 4 a.m. — and last only 20 minutes before the line goes dead.
They stayed completely silent through all of it.
Not because they didn’t care — but because they were afraid speaking out would make things worse.
But now?
Now it’s been too long.
Now the silence feels like betrayal.
Now, they’re speaking — because this might be the only thing left they can do.
And they did not hold back.
To Pakistanis: do not lose hope.
To the international community: do not turn a blind eye.
Thank you @elonmusk and @lindayaX for X and your fight for free speech.
Disclaimers: This interview was conducted prior to the recent clashes between India and Pakistan.
I am not alleging the Pakistani military or Government was behind Imran’s assassination attempt.
Also note: Urdu voice over of the interview posted below as a comment.
01:26 — “He’s literally in the dark.”
No visits. No lawyers. No calls. No light.
02:16 — “He’s completely alone.”
No contact. No doctor. No way to know if he’s okay.
03:19 — “A death cell… for terrorists.”
7x8 feet. Blacked out. Designed to erase the human spirit.
04:09 — “First two days were hell.”
He survived 10 days in pitch darkness by forcing himself into a Zen-like state.
05:55 — “The line cuts at 20 minutes.”
Half the time: lessons. The rest: he asks about our lives.
06:50 — “We get a 4 a.m. message.”
If we miss it, it’s months before we hear from him again.
08:04 — “They’re trying to break him.”
No light. No doctors. No calls. But he refuses to fold.
09:16 — “He won’t take the deal.”
Not without his people. Not if it means betraying them.
13:22 — “We’ve run out of options.”
Legal routes are gone. Silence no longer helps. This is our last card.
15:19 — “They banned his name.”
On TV, radio, and online — we became the code for our own father.
17:01 — “We never spoke to Grenell.”
But we’re grateful. And we’ll speak to anyone who’ll listen.
18:27 — “It’s 100% political.”
False charges. Fake trials. A democracy on mute.
20:51 — “Yes, people have been taken.”
Supporters, journalists — vanished. Tortured. Broken.
22:06 — “He told us to stay private.”
But now? We have no choice.
24:03 — “We thought it’d be a few weeks.”
It’s been nearly two years.
26:26 — “He reads. He teaches. Then he listens.”
Each call is a lifeline.
28:05 — “They blurred him out.”
Even the 1992 World Cup photos — he was erased.
31:00 — “I’ve grown more in 2 years than 20.”
That’s what he tells us.
32:20 — “It’s getting desperate.”
New threats. Talk of a death sentence. No end in sight.
32:57 — “We asked him for permission.”
He said: Do it.
35:00 — “The last time we saw him, he’d been shot.”
Three bullets. Still standing. Still smiling.
36:45 — “We’re told not to come back.”
We might be used to break him further.
38:16 — “Respect the vote.”
PTI won — even without its symbol, even in silence.
39:38 — “Selling exotic fruit?”
That’s what they jailed him for.
40:53 — “Some family members were scared.”
But we have to try something.
42:07 — “He’s not done.”
Still learning. Still fighting. Still planning.
43:12 — “He’s 70. He was shot. And they deny him a doctor.”
This is not justice. This is torture.
ایک بار پڑھیے ضرور👇
برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کے تجزیے کا اردو ترجمہ
یہ تجزیہ 8 مئی 2025 کو شائع ہوا۔
بھارت کی فضائیہ کیوں گراؤنڈ ہو چکی ہے اور وہ دوبارہ اڑنے سے کیوں خوفزدہ ہے؟*
صبح 4 بجے، ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا — میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ سفارتی پس منظر میں۔ اطلاعا�� کے مطابق چین کے سفیر نے پاکستان میں راولپنڈی کو ایک ہنگامی فون کال کی۔ چند گھنٹوں میں، ایک طویل عرصے سے تیار کردہ ہنگامی منصوبہ فعال ہو گیا۔
جو کچھ اس کے بعد ہوا وہ صرف ایک فضائی جھڑپ نہیں تھی — بلکہ ایک انکشاف تھا، جس نے بھارت کی فضائی برتری کا وہ فسانہ توڑ ڈالا، جو برسوں سے پھیلایا گیا تھا اور اس کے ساتھ مغربی طاقتوں کا یقین بھی ٹوٹ گیا۔
بھارتی فضائیہ کئی دنوں سے تیاری میں مصروف تھی۔ تقریباً 180 طیارے مغربی محاذ پر مرکوز تھے۔ مقصد واضح تھا: بالاکوٹ کو دہرانا، پاکستانی دفاع کو توڑنا، اور اپنی اسٹریٹجک برتری کو بحال کرنا۔
لیکن آسمان اب پہلے جیسے نہ تھے۔
بھارتی فضائیہ کبھی بھی مقررہ حد پار نہ کر سکی۔ انہیں معلوم تھا کہ اس کے پار کیا موجود ہے:
پاکستانی J-10C ل��اکا طیارے، چینی ساختہ اور خاموش قاتل میزائل PL-15 ، جو 300 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے، آواز کی رفتار سے پانچ گنا تیز
Erieye ریڈارز، جو ہر نشانہ باز کو ایک مہلک نیٹ ورک میں جوڑ رہے تھے۔۔۔
بھارت نے صرف پاکستانی پائلٹس نہیں دیکھے انہوں نے چین کا مکمل فضائی جنگی نظریہ دیکھا، جو سکردو سے پسنی تک پھیلا ہوا تھا۔
اور رافیل؟ وہ تو سمجھ ہی نہ پائے کہ کیا ہو گیا۔۔
ایک رافیل جس کی مالیت 25 کروڑ ڈالر سے زیادہ تھی اطلاعات کے مطابق فضاء میں ہی مار گرایا گیا۔ دوسرا بمشکل واپس پہنچ سکا۔ وہ Spectra EW نظام، جو اسے بچانے کے لیے بنایا گیا تھا، مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ PL-15 میزائل میں روایتی ریڈار نہ تھا بلکہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی خاموشی تھی۔۔
یہ کوئی ڈاگ فائٹ (طیاروں کی فضائی لڑائی) نہ تھی۔ یہ ایک گھات تھی۔۔۔۔۔
پاکستانی فضائیہ، چینی سیٹلائٹز اور AWACS کے تعاون سے، ایک "سینسر فیوژن مجموعہ" میں کامیاب رہی۔ رافیل کبھی بھی نشانے کو لاک نہ۔کرسکے، نہ ہی اپنے دشمن کو دیکھ پایا۔ جب میزائل نشانے پر لگے، تب سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔۔۔
اسی لیے بھارتی فضائی بیڑا گراؤنڈ کر دیا گیا۔۔۔۔
اسی لیے وہ سرحد سے 300 کلومیٹر پیچھے رہتے ہیں۔۔۔۔۔
وجہ یہ نہیں کہ وہ بہادر نہیں — بلکہ وجہ یہ ہے کہ اب ان کے پاس یقین نہیں رہا۔
*اسٹریٹجک شرمندگی*
اس کے اثرات بہت بڑے ہیں۔ بھارت کا فخریہ ہتھیار، رافیل، ایک چینی میزائل کے ہاتھوں پاکستانی طیارے سے مارا گیا۔ یہ صرف عسکری ناکامی نہیں یہ ایک سیاسی پیغام تھا۔
یہاں تک کہ بلومبرگ نے بھی لکھا: یہ چینی پاکستانی مربوط جنگی حکمت عملی کا عملی مظاہرہ ہے۔۔
مغربی تجزیہ کار حیران رہ گئے۔ فرانسیسی دفاعی معاہدے غیر یقینی کا شکار ہو گئے۔ اور
چین، خاموشی سے، مسکرا رہا ہے۔
*کھیل بدل چکا ہے*
یہ 2019 نہیں۔ یہ بالاکوٹ نہیں۔
اب بھارت جانتا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں داخلہ، موت کے جال میں قدم رکھنے کے مترادف ہے — جو J-10Cs، PL-15s، اور پاکستانی عزم سے ترتیب دیا گیا ہے۔
اس لیے وہ پیچھے رہتے ہیں۔
خوف سے گراؤنڈ۔
ریڈار کی آنکھ سے اندھے۔
اور خاموشی سے رسوا۔
بھارتی پائلٹ نے مہارت کی کمی سے ناکامی نہیں کھائی۔
وہ ایک ایسے میدانِ جنگ میں ہارا جسے وہ دیکھ ہی نہ سکا جو سیٹلائٹس نے بنایا، سینسرز نے جوڑا، اور مشینوں نے چلایا۔"
مئی 2025 میں، کھیل بدل گیا۔ بھارت کا فضائی برتری کا خواب 36 رافیل طیاروں کی خریداری، Spectra EW ، اور فرانسیسی انجینئرنگ پر مبنی نظام کشمیر کی فضا میں چکنا چور ہو گیا۔
یہ کوئی عام فضائی لڑائی نہ تھی۔
یہ ایک نظریاتی انہدام تھا، جسے دنیا بھر کے عسکری ماہرین نے براہِ راست دیکھا۔
رافیل کو "ناقابلِ تسخیر" سمجھا جاتا تھا۔ اس کی ٹیکنالوجی، جدید ترین لڑاکا طیارے F-35 سے بہتر تصور کی جاتی تھی۔ لیکن اس دن، وہ ایک ایسے جال میں داخل ہوا جسے وہ نہ دیکھ سکا، نہ بچ سکا۔
*مہلک کِل چین*
چین نے خاموشی سے، مگر طاقتور انداز میں مداخلت کی ویسے نہیں جیسے مغربی تجزیہ کاروں نے سوچا تھا۔۔۔۔ نہ J-20 طیارے آئے، نہ جنگ کا اعلان ہوا۔
بس ایک نیٹ ورک تھا۔ ایک خاموش زنجیر جو دشمن کی ہر حرکت دیکھ رہی تھی:
* Saab Erieye AWACS
طیارے خاموشی سے گشت پر J-10C لڑاکا طیارے، غیر فعال ریڈار موڈ پر 300 کلومیٹر مار کرنےوالے PL..15 اور خطرناک رفتار کے ساتھ — نشانہ بنا کر فائر کیے گئے۔۔
رافیل کو یہ معلوم ہی نہ ہو سکا کہ وہ نشانے پر ہے جب تک میزائل 50 کلومیٹر کے فاصلے پر نہ آ گیا۔
اس رفتار پر، بھارتی پائلٹ کے پاس صرف 9 سیکنڈ تھے۔
نہ بچنے کا وقت تھا، نہ بچاؤ کا کوئی موقع۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*کیوں بھارتی فضائیہ گراؤنڈ ہو چکی ہے؟؟؟؟
1/2
Man I really miss Imran Khan’s addresses to the nation. He used to speak like a true statesman. Kia Josh maarta tha khoon Usko sunn kr. Is Form 47 ko sunn kr Josh ki jagah Ulta Gussa ajata hai
This reel by Abbass Bukharii is the best thing I’ve heard so far on the Pak India Situation.
Every word. Sensible. From the heart. And so true.
Slow clap, Respect and Salute.
دوسرے ملک کی فضاء میں جانا، وہاں جاکر ریڈار سے بچنا، ائیر ڈیفنس سسٹم سے بچنا، دشمن ملک کی فضائیہ سے بچنا اور ٹارگٹ کو درست طریقے سے نشانہ بنانا اس کو پاک فضائیہ کہتے ہیں۔
شاہین 🇵🇰✌️
عرض ہے کہ اب لڑنا ہی پڑنا ہے۔ انہوں نے ویسے جان نہیں چھوڑنی اور امریکہ نے یہ لڑائی بند نہیں کروانی۔
ہمت کریں۔ اللہ بہتر کرے گا۔ پہلے ہی دن جواب دینا چاہیئے تھا۔ جتنا بیک فٹ پر جائیں گے اتنی قیمت زیادہ چُکانی پڑے گی۔
خان کو رہا کریں۔ وہ قوم کو اکٹھا کرے آپ بارڈر سنبھالیں۔
I miss Imran Khan more than anyone today, he was the only one who could put forward Pakistan’s case to the world eloquently, his communication was straight forward & narrative strong