خوفناک انکشافات پاکستان ٹوٹنے کے قریب!!
جعلی ریجیم مسلط کرنے والو کو پاکستان کی کوئی پرواہ نہیں, نا وہ ملک چلا سکتے ہیں, انہیں لوگ نے پاکستان کو تباہ کردیا!!
پاکستان کا سب سے خرچہ فوج کا ہے,
ہر 25 کیلومیٹر پر ایک کنٹونمنٹ بورڈ ہے,
اسکا خرچہ عوام برداشت کررہی ہے!
اسکو سنیں بس💔
پاکستان کے اصل وارث ہیں یہ لوگ بابا جی نے بالکل صحیح کہا
مریم کے بھائی چنچنی چلائیں اور ایک دن گزارا کر کے دکھا دیں میں خود کو گولی مار لوں گا
یہ حال کر دیا پاکستان کا
زمیں کھا رہی ہے ۔۔۔ آسماں کیسے کیسے 💔
یہ تصویر کسی عام فقیر کی نہیں، بلکہ سندھ کے نامور افسانہ نگار، ناول نویس اور دانشور محترم مشتاق احمد کاملانی صاحب کی ہے۔
وہی مشتاق کاملانی، جنہوں نے “گونگی بارش”، “چپٹا لہو”، “گھٹی ہوئی فضا” اور شہرۂ آفاق ناول “رولو” جیسے شاہکار تخلیق کیے۔
وہی کاملانی صاحب جو سندھ یونیورسٹی جامشورو کے ذہین ترین طالب علموں میں شمار ہوتے تھے، جن کی انگریزی، اردو، فارسی اور پنجابی پر ایسی گرفت تھی کہ سننے والا دنگ رہ جائے۔
مگر آج…
وقت نے اس عظیم قلمکار کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ دن بھر ٹھٹہ کی گلیوں میں اور رات کو سجاول کے بس اسٹاپ پر زندگی گزارتے دکھائی دیتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ان کے چھوٹے سے گھر پر قبضہ کر لیا گیا، اور ایک عظیم لکھاری خاموشی سے معاشرے کی بے حسی کا بوجھ اٹھاتا رہا۔
کتنا بڑا المیہ ہے کہ جو شخص لفظوں سے نسلوں کی سوچ بدل سکتا تھا، آج خود زندگی کے ظلم سے ہار چکا محسوس ہوتا ہے۔
آج صبح عمران خان پر 9 مئی کے حوالے سے قائم ایک مقدمے کی پیشی تھی۔ وہاں جب ہم پیش ہوئے تو عجیب و غریب منظر دیکھا،خان صاحب کو اڈیالہ کے چھوٹے سے کمرے میں بٹھایا ہوا تھا،وہاں سے جج صاحب کو واٹس ایپ کال ملائی گئی،اس ویڈیو لنک کے ذریعے عمران خان کا ٹرائل شروع ہوا۔
جب ہم نے خان صاحب سے بات کرنے کی کوشش کی تو دس فٹ دور جج صاحب نے فون رکھا ہوا تھا، نہ خان صاحب ہماری بات سن سکے نہ ان کی آواز ہم تک آ پائی، جج صاحب نے جب اڈیالہ انتظامیہ سے کہا کہ آواز نہیں آرہی تو ان کو کہا گیا بس حاضری ہو گئی۔ یہ ہے فئر ٹرائل؟ ایسے ہوتی ہے حاضری؟
یہ بچی کسی بہادر ماں باپ کی بیٹی لگتی ہے اس کے والدین نے یقینا اسے ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنے اور بانٹنے کا درس دیا ہوگا اور کسی کا حق مارنے سے روکا ہوگا ایسے نیک اور با کردار لوگ اس دور میں بہت کم ملتے ہیں اللہ پاک اس بچی کی حفاظت فرمائے آمین 🤲
یہ ویڈیو دیکھ کر دل دہل جاتا ہے۔ رحیم یار خان میں ایک 14 سالہ بچی کو نشہ آور چیز دے کر دن دہاڑے اٹھا لیا گیا۔ اگر یہ کسی کی اپنی بیٹی ہوتی تو؟ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ آواز بلند ہو اور مجرموں تک قانون کا ہاتھ پہنچے۔
#RahimYarKhan#JusticeNow
🚨ظلم میں فلسطین کشمیر آج بھی دوسرے نمبر پر ہے
پنجاب پہلے نمبر 1 پر برا جماں ہے
عورتوں کے ساتھ پنجاب پولیس یہ کچھ کر رہی ہیں درندگی شرما گئی اللہ تعالیٰ معاف کریں
میں غریب ہوں میری بیٹی کو جب گنڈوں کا دل چاہتا ہے اٹھاکر لے جاتے ہیں
لڑکی کا والد مسلسل رو رہا ہے کتنا مجبور ہوگا ایک غریب باپ کہ اس کے پاس رونے کے علاوہ کچھ نہیں ہے
کیا غریب کی بیٹی کی کوئی عزت نہیں؟
بشرٰی بی بی کو گزشتہ رات الشفأ ہسپتال لا کر ان کی دائیں آنکھ کی سرجری کی گئی دوبارہ جیل شفٹ کر دیا گیا
آج ان کی فیملی سے جیل میں ہی مختصر ملاقات کروائی گئی
نہ ہی یہ سرجری فیملی کی موجودگی میں کروائی گئی
اور نہ ہی انہیں سرجری کے بعد ہسپتال میں ڈاکٹروں کی زیرنگرانی رکھا گیا
عمران خان صاحب اور بشریٰ بی بی دونوں کو مسلسل قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور دونوں کی آنکھوں کا مسئلہ بننا، ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی نہ دینا، آزاد لیب سے ٹیسٹ نہ کروانے دینا ، فیملی سے کئی کئی ماہ ملاقات نہ کرنے دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ سب جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے اور اصلی میڈیکل حالت چھپائی جا رہی ہے-
یہ کوئی قدرتی بیماری نہیں بلکہ اس کے پیچھے عاصم منیر کا ہاتھ ہے جو اپنی انا کو تسکین دینے کے لیے یہ سب کچھ کر رہا ہے-
تحریک انصاف اور ہمارے وکلأ کو سب کام چھوڑ کر پاکستان کے علاوہ ہنگامی طور پر تمام عالمی اداروں کے فورمز پر اس سب سے اہم معاملے کو اٹھانا چاہیے اور کسی بھی صورت میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ہسپتال منتقلی یا ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی اور آزاد لیب سے میڈیکل ٹیسٹ یقینی بنوانے چاہییں
@BrSalmanSafdar@salmanAraja@BarristerGohar@SheikhWaqqas@sayedzbukhari@SajjadBurki@SohailAfridiISF@AllamaRajaNasir@MKAchakzaiPKMAP
پاکستانیو حالات یہاں تک آگئے ہیں اسے کس نے تھارٹی دی ہے کہ اس شخص کا فون اپنی جیب میں ڈال لے
یہ جرمانہ کرے لیکن کون پوچھے انہیں میرا کام تھا ویڈیو آپ تک پہنچاؤں آگے آپ سمجھتے اسکا کا کیا کرنا ہے
ہمارا ابو اور بھائی نہیں ہے ہم دو بہنوں نے گھر بنایا وہ بھی CDA نے توڑ دیے
میری 25 ہزار اور دوسری بہن کی 20 ہزار سیلری ہے اب میں کہاں سے گھر بناوں؟
بری امام کے رہائشیوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے بغیر بتائیں گھر توڑ دیے گئے۔۔
غریب کا تو سب کچھ اس کا گھر ہی ہوتا ہے اب یہ بیچاری کہاں 💔
اسلام آباد سی ڈی اے نے 400 سال برانا سیدپور ماڈل گاؤں مسمار کردیا لوگ بے گھر اور اپنے ٹوٹے گھر دیکھ کر روتے رہے،
متاثرہ شخص کا کہنا ہے کیا ریاست اپنے بچوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتی
بیچارہ رو پڑا 💔
🚨 اس ٹویٹ کو ریٹویٹ نہ کرنا ان بے گھر لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوگی