احمد شمیم کی شہرہ آفاق نظم ”کبھی ہم خوبصورت تھے“ جس کو نیّرہ نُور نے گا کر امر کر دیا۔
"ریت پر سفر کا لمحہ"
کبھی ہم خُوب صُورت تھے
کتابوں میں بَسی
خُوشبو کی صُورت
سانس ساکِن تھی
بہت سے اَن کہے لفظوں سے
تصویریں بناتے تھے
پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر
دُور کی جھیلوں میں بسنے والے
لوگوں کو سُناتے تھے
جو ہم سے دُور تھے لیکن
ہمارے پاس رہتے تھے
نئے دِن کی مُسافت
جب کِرن کے ساتھ
آنگن میں اُترتی تھی
تو ہم کہتے تھے
اَمی تِتلیوں کے پَر
بہت ہی خُوب صُورت ہیں
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
کہ ہم کو تتلیوں کے
جگنوؤں کے دیس جانا ہے
ہمیں رنگوں کے جُگنو
روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں
نئے دِن کی مُسافت
رنگ میں ڈُوبی ھََوا کے ساتھ
کِھڑکی سے بُلاتی ہے
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
"احمّد شمیم"
مجھ کو فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں مگر
جتنا برا سمجھتے ہو اتنا نہیں ہوں میں
اس طرح پھیر پھیر کے باتیں نہ کیجئے
لہجے کا رخ سمجھتا ہوں بچہ نہیں ہوں میں
ممکن نہیں ہے مجھ سے یہ طرزِ منافقت
دنیا تیرے مزاج کا بندہ نہیں ہوں میں
امجد_اسلام_امجد
افریقی ممالک میں پھیلے صحرا ’’صحرائے اعظم‘‘ (صحارن ڈیزرٹ) میں برف باری ہوئی ہے اور درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر گیا۔
تفصیلات جانیے: https://t.co/r6CqAjHs4c
#DailyJang