انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے قائم مقام نائب سربراہ جیسن میکس کو طلب کیا تاکہ ’شدید احتجاج‘ ریکارڈ کرایا جائے۔
تفصیلات: https://t.co/KXfrz05r9W
🌒 رات گہری تھی، فیصلے خاموش تھے۔
اسلام آباد کی فضاء میں عجیب سی سنسناہٹ تھی۔
کاغذوں پر دستخط ہو رہے تھے، فون لائنیں مصروف تھیں، اور خطے کی قسمت بند کمروں میں لکھی جا رہی تھی۔
دنیا کو بتایا گیا کہ پاکستان یمن کے معاملے پر نیوٹرل ہے۔
مگر جو لوگ طاقت کی زبان سمجھتے ہیں، وہ جانتے تھے کہ یہ خاموشی…
طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے۔
ریاض اور ابوظہبی—دونوں جانتے تھے
کہ یمن میں کوئی بھی بڑا قدم اٹھانے سے پہلے
ایک سوال کا جواب ضروری ہے:
پاکستان کس طرف کھڑا ہے؟
یو اے ای کے شیخوں نے جلدی میں ایک فیصلہ کیا۔
ہنگامی دورہ، مختصر مسکراہٹیں، اور میز پر رکھا ایک جملہ:
“ہمیں اپنے تین ارب ڈالر واپس چاہئیں۔”
انہیں لگا کہ پاکستان گھبرا جائے گا۔
انہیں لگا کہ پرانے دن لوٹ آئیں گے—
ترلے، تاخیر، کمزوری۔
مگر وہ یہ بھول گئے تھے کہ
یہ نیا پاکستان ہے۔
پاکستان کو پہلے ہی معلوم تھا
کہ مانگ آنے والی ہے۔
اور جب مانگ آئی…
تو جواب بھی تیار تھا۔
ایک ارب ڈالر کے شیئرز میز پر رکھے گئے۔
بغیر آواز، بغیر شور۔
اور باقی دو ارب کا وعدہ ایسے اعتماد سے کیا گیا
جیسے یہ رقم نہیں…
پیغام ہو۔
اسی لمحے خطے میں ایک اور حرکت ہوئی۔
میزائل فضاء میں گونجا،
اور پیغام واضح تھا:
طاقت اب بھی بولتی ہے۔
ابوظہبی میں خاموشی چھا گئی۔
کیونکہ وہاں سب سمجھ چکے تھے
کہ اگر سعودی عرب نے پاکستان کو بلا لیا…
تو کہانی کسی اور موڑ پر جا سکتی ہے۔
یہی وہ لمحہ تھا
جہاں پسپائی نے عقل مندی کا لبادہ اوڑھا۔
دنیا نے کہا:
“پاکستان نے ثالثی کی ہے۔”
اور پاکستان مسکرایا…
کیونکہ اصل طاقت
نظر آنے میں نہیں
محسوس ہونے میں ہوتی ہے۔
آج پاکستان غریب ہو سکتا ہے،
مگر کمزور نہیں۔
آج فیصلے واشنگٹن یا دہلی میں نہیں،
اسلام آباد کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں۔
یہ مقام تحفے میں نہیں ملا۔
یہ مقام
سرحدوں پر کھڑے ہو کر،
اندرونی سازشوں کو کچل کر،
اور دشمن کی برسوں کی انویسٹمنٹ
راکھ بنا کر حاصل کیا گیا ہے۔
اندھیرے میں کھیلی جانے والی یہ گیم
اب سب کو سمجھ آ چکی ہے:
پاکستان کو نظرانداز کرنے کی قیمت بہت بھاری ہے۔
🌑 کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی…
بس کردار بدل گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے کئی اضلاع بارش اور سیلاب کی زد میں ہیں۔ بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ دل بہت دکھی ہے۔ اللہ تعالی اپنا کرم فرمائے، سب کی حفاظت فرمائے۔ آمین
آپریشن بنیان مرصوص | اللّٰہ اکبر
یہ غازی، یہ تیرے پُر اسرار بندے
جنہیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
علامہ محمد اقبال
#JamiatPk#operationbunyanmarsoos#PakArmyZindabad#PAF
جب ہلاکو خان نے بغداد فتح کیا تھا تب بھی ہمارے علماء بحث و مباحثہ کر رہے تھے اور آج بھی مسلمان کٹ رہے اور ہم جہاد سے منہ موڑ کے بحث و مباحثہ میں پڑے ہوئے۔۔شائد ایسے ہی علماء کرام کے بارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھاکہ علماء بدترین مخلوق ہو گی۔
اے میرے بچو جب تمہاری ملاقات رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو تو انہیں یہ ضرور بتانا کہ جب غزہ کے فلسطینی مسلمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جا رہا تھا تو آپکی امت خاموشی سے ہمارا تماشا دیکھتی رہی #Gaza
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق فاتح مسجد استنبول میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لئے داخل ہو رہے ہیں۔ نماز کے بعد یکجہتی فلسطین مارچ ہو گا جس کی قیادت امیر جماعت سراج الحق سمیت دیگر اسلامی تحریکوں کے قائدین کریں گے۔ #UmmahWith_Gaza
57 اسلامی ممالک۔
1.8 بلین کی آبادی۔
46 لاکھ کے قریب مسلح افواج۔
اور ایک کڑوڑ بیالیس لاکھ کی آبادی والا سویڈن سرکاری سر پرستی میں قرآن مجید کی بے حرمتی کر جائے تو یہ سویڈن کے گھٹیا پن کی انتہا نہیں بلکہ عالم اسلام کی بے غیرتی کی انتہا ہے۔۔