آج سارا دن میری والدہ کو کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرانے دئیے گئے ۔انتظامیہ لاہور ہائی کورٹ کے آرڈر کی دھجیاں اڑاتی رہی ۔ جب ان کو گیٹ کے اندر جانے دیا تو ساتھ ہی کاغذات چھیننے کی کوشش کی گئی ۔ یہ سارے ارد گرد سولین کپڑوں میں کون لوگ ہیں ؟
10 T20 hundreds, fastest to 9000 T20 runs, scored 1000+ runs in a calendar year four times and 38 hundred partnership contributions in T20 cricket. Yet, few think Babar is a misfit for T20s. You just can't have 11 aggressors in your lineup. Anchors bhi chahiye houtay.
اس واقعے کو اردو پوائنٹ نے کور کیا ہے وہاں سے آپ ویڈیو دیکھ سکتے ہیں ۔
ایشیا کپ کا میچ جس نے ’مغوی افغان خاتون‘ کو اپنوں سے ملا دیا
لاہور کی ٹریفک پولیس کا ایجوکیشن ونگ بے سہارا بچوں کو گھر والوں سے ملوانے کی مہم چلا رہا ہے۔
ایشیا کپ کا افغانستان اور بنگلہ دیش کا میچ لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں شروع ہونے میں ابھی تھوڑا وقت تھا۔ پاکستان میں افغانستان کے ناظم الامور احمد شکیب بھی میچ دیکھنے کے لیے قذافی سٹیڈیم کی پارکنگ میں اپنے پروٹوکول کے ساتھ پہنچ چکے تھے۔ لاہور کی ٹریفک پولیس سٹیڈیم کے اندر اور باہر ٹریفک کی روانی قائم رکھنے کی کوششوں میں مصروف تھی۔ ایک ٹریفک وارڈن جن کی ڈیوٹی سٹیڈیم کے اندر تھی وہ بڑی شدت سے افغان ناظم الامور کے موٹر کیڈ کا انتظار کر رہے تھے۔
جیسے ہی ٹریفک وارڈن نے وائرلیس پر سنا کہ افغان ناظم الامور کا موٹر کیڈ سٹیڈیم میں داخل ہو رہا ہے تو وہ تیزی سے پارکنگ میں پہنچے۔ اور پارکنگ سے وی آئی پی سٹینڈ تک لے جانے والی چھوٹی روور کی ڈرائیونگ سنبھالی اور احمد شکیب کی گاڑی کے پاس لگا دی اور افغان ناظم الامور اور ان کے ملازمین کو پورے پروٹوکول کے ساتھ روور میں بٹھایا اور وی آئی پی سٹینڈ کی طرف روانہ ہو لیے۔
مقررہ جگہ پر پہنچا کر ٹریفک وارڈن نے اچانک ناظم الامور کو کہا کہ ’سر مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔‘ احمد شکیب رک گئے اور غور سے یونیفارم میں ملبوس ٹریفک وارڈن کو دیکھا۔ ٹریفک وارڈن نے فوری طور پر بولنا شروع کر دیا کہ ’سر ہمارے پاس افغانستان سے اغوا کی گئی ایک نوجوان خاتون ہیں جن کا ایک بچہ بھی ہے ہم افغانستان میں ان کے خاندان والوں کو ڈھونڈ رہے ہیں کیا آپ ہماری مدد کر سکتے ہیں؟‘ احمد شکیب یہ سُن کر ہکا بکا رہ گئے اور بولے کہ ’ہم پوری کوشش کریں گے۔‘ انہوں نے اپنے سٹاف کو ٹریفک وارڈن شاہد قیوم کا نمبر لے کر رابطہ میں رہنے کی ہدایت کر دی۔
افغان مغوی خاتون کون ہیں؟
افغانستان بنگلہ دیش کرکٹ میچ سے دو ہفتے پہلے لاہور کے بلقیس ایدھی ہوم (جہاں بے سہارا افراد کو امان حاصل ہے) میں ٹریفک وارڈن شاہد بے سہارا افراد کا ریکارڈ کھنگال رہے تھے تو انہیں افغانستان سے تعلق رکھنے والی خاتون مرسل کومل سعیدی کا نام بھی فہرست میں ملا۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے شاہد قیوم نے بتایا کہ ’نام دیکھنے کے بعد ہماری ٹیم نے خاتون کو بلایا تو انہوں نے ایک آٹھ نو مہینے کا بچہ اٹھایا ہوا تھا۔ لیکن ان کی زبان ہمیں سمجھ نہیں آئی۔ ایک پشتو بولنے والے کو ہم نے بلایا تو ان کو بھی زبان سمجھ میں نہیں آئی۔ انہوں نے بتایا یہ دری اور فارسی کے مکس لہجے میں بات کر رہی ہیں۔‘
خیال رہے کہ ان دنوں لاہور کی ٹریفک پولیس کا ایجوکیشن ونگ بے سہارا بچوں کو ان کے گھر والوں سے ملوانے کی ایک کمپین چلا رہا ہے۔ اور ٹریفک پولیس کی ٹیم بلقیس ایدھی ہوم اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں رہنے والے بچوں اور افراد کے کوائف کی چھان بین کر رہی ہے۔
ٹریفک وارڈن شاہد بتاتے ہیں کہ ’ہم نے پھر فارسی بولنے والے ایک مترجم کو ڈھونڈا اور ان کو لے کر بلقیس ایدھی ہوم آئے۔ تو ہمیں خاتون نے بتایا کہ کیسے دو سال پہلے افغانستان سے اغوا کر کے پاکستان لایا گایا۔ طویل انٹرویو کے بعد ہمارے پاس کافی معلومات آ چکی تھیں۔‘
شاہد قیوم کے مطابق مرسل نامی اس خاتون کی عمر پچیس سال کے قریب تھی اور ان کا کابل کے مضافات میں گھر تھا۔ وہ شادی شدہ تھیں اور ان کا شوہر اور ایک بیٹا افغانستان میں ہی تھے جب ان کو اغوا کیا گیا تو وہ پانچ مہینے کی حاملہ تھیں۔
مرسل سعیدی کیسے اغوا ہوئیں؟
اردو نیوز کو اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو اور مترجم کی زبانی اپنی کہانی سناتے ہوئے مرسل نے بتایا کہ ’دو سال قبل ایک خاتون نے مجھے نوکری کا جھانسہ دے کر اپنے گھر بلایا اور مجھے کوئی نشہ آور دوائی پانی میں پلائی جس سے بے ہوش ہو گئی۔ اس کے بعد وہ مجھے پتا نہیں کیسے پاکستان پہنچی۔‘
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ ’پاکستان میں پہنچ کر بھی مجھے اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ مجھے کہاں لایا گیا ہے۔ میں جس گھر میں تھی وہاں بہت اندھیرا تھا اور میں اکیلی تھی میں اسی وقت اس گھر سے بھاگ نکلی۔ مجھے کچھ پتا نہیں تھا میں کہاں ہوں۔‘
اس گھر سے بھاگنے کے بعد مرسل گلیوں اور سڑکوں پر چلتی رہیں ’میں تین دن تک بھوکی پیاسی تھی اور مجھے لگ رہا تھا میں پاکستان میں ہوں۔ یہاں تک ایک رات پولیس کی گاڑی نے مجھے روک کیا لیکن نہ انہیں میری کوئی بات سمجھ آرہی تھی اور نہ مجھے ان کی کچھ سمجھ تھی۔ انہوں نے مجھے گاڑی میں بٹھایا اور یہاں بلقیس ایدھی ہوم لے آئے۔ میں تب سے ہی یہاں ہوں۔‘
پولیس نے مرسل کو لاہور کے علاقے شیرا کوٹ سے حفاظتی تحویل میں لیا پھر ٹاؤن شپ کے علاقے میں واقع بلقیس ایدھی ہوم منتقل۔1/2
شیخوپورہ کا رہنے والا محمد رافع چھ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے یہ کینڈا میں پڑھنے کے لئے گیا تھا 5 اگست سے اسکا اپنی فیملی سے کوئی رابطہ نہیں ہے اس کے ماں باپ بہنیں بہت پریشان ہیں کوئی پاکستانی دوست احباب اگر اس سلسلے میں اس خاندان کی کوئی مدد کر سکیں
Spread it
نوجوانی میں تقریروں میں یہ شعر اکثر پڑھا تھا؛
تو پرندے مار دے سرو صنوبر مار دے
تیری مرضی جسکو دہشتگرد کہہ کر مار دے
تیرا اس کے ماننے والو سے پالا پڑ گیا
جو پرندے بھیج کر لشکر کے لشکر مار دے
روایت ہے کہ ابرہہ خدائ کا دعویدار تھا۔ لیکن خلق خدا رب واحد کے کعبے کی زیارت کو جاتی تھی۔ ابرہہ کو گمان تھا کہ جب تک خانہ کعبہ سلامت ہے اسکی خدائ مشکوک ہی رہیگی۔ سو اس نے نعوذ باللہ کعبہ پر چڑھائ کا منصوبہ بنایا۔ جب ابرہہ کا لشکر مکہ کی جانب بڑھ رہا تھا تو حضور پاک کے دادا حضرت عبدالمطلب جو کہ قریش کے سردار اور خانہ کعبہ کے والی تھے، اپنے قبیلے کو لیکر مکہ سے نکل گئے۔ کسی نے پوچھا کہ اے عبدالمطلب خانۂ خدا کا کیا ہوگا؟ عبدالمطلب نے جواب دیا اللہ اس کی حفاظت کرےگا۔ اور پھر مکہ کی پہاڑیوں سے اہلِ قریش نے ابرہہ کے لشکر کو ننھی ابابیلوں کے ہاتھوں غرق ہوتے دیکھا۔ صدیوں سے قران ابرہہ کے لشکر کی بربادی پر گواہ ہے۔
عبدالمطلب کا ایمان کمزور نہیں تھا، انہیں ابرہہ کا خوف نہیں تھا۔ انہیں اللہ کی کبریائ کا یقین تھا۔ عبدالمطلب جانتا تھا یہ لڑائی عبدالمطلب اور ابرہہ کی نہیں ہے۔ ابرہہ نے جسکی بڑھائ کو چیلنج کیا تھا اس ذات کی ناپسندیدہ ترین شے شرک ہے۔
لڑائ آج بھی فقط اتنی ہی ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ “لا الٰہ الا للہ”؛ نہیں ہے کوئ خدا اللہ کے سوا اور وہ اسکی زمین پر خدائ کے دعویدار ہیں۔
ہم کہتے ہیں ہم غیر اللہ کے سامنے نہیں جھکیں گے وہ کہتے ہیں وہ ہر اس سر کو کاٹنے پر قادر ہیں جو جھکنے سے انکاری ہے۔
ہم کہتے ہیں ہم کسی خوف و حرص کے بت کی پوجا نہیں کریں گے۔ وہ کہتے ہیں ہم اطاعت کے علاوہ کوئ اور بولی بولنے والی زبانیں کھینچ لیں گے۔
طاقت کے نشے میں دھت ابرہہ کے ہاتھیوں کے مدمقابل آج بھی وحدہ لا شریک لہُ کا کلمہ ہے۔ اور وہ ذاتِ واحد معمولی پرندوں کے ذریعے لشکر غارت کرنے پر قادر ہے۔
آج عمران خان جیل میں اسی یقین کی رسی تھامے بیٹھا جسکی بنیاد پر عبدالمطلب نے مکہ کی پہاڑیوں کا رخ کیا تھا۔ عبدالمطلب جانتا تھا اسکا اللہ ہر دنیاوی خدا سے طاقتور ہے اور اسکا ایمان تھا کہ اللہ اس ظالم کے سامنے اسکے اعتقاد اور اسکی بے بسی دونوں کی لاج رکھے گا۔ عمران خان بھی جانتا ہے کہ عبدالمطلب کا رب سچا ہے۔
آج پاکستان کی تقدیر پاکستانی قوم کے اس فیصلے سے منسوب ہے کہ وہ ہاتھیوں کے پیروں تلے کچلی گئ گھاس بنتے ہیں یا وہ پرندے کہ جنکی چونچوں میں پکڑے کنکریوں نے اللہ کے حکم سے ابرہہ کا غرور تاراج کیا تھا۔ عمران خان کی تقدیر بہرحال قوم کے اس فیصلے سے آزاد ہے۔
آج مجھے سمجھ آئی کہ شہباز شریف کیوں بیچارا ہر منصوبہ کو پایہ تکمیل سے پہنچانے سے پہلے فیل ہوجاتا کہ اس کے کان میں سمجھانے والے ایسے ہیں ،او بھئ 161 اور 164 کہ بیان ایک دن میں نہیں ہوتا اور 161 کو ریکارڈ کرنے کے لئے 154 (FIR) کی ضرورت ہوتی ہے۔نامعلوم لوگوں کی نامعلوم قانونی ٹیم🤦♀️
It's Been 72 days since Zahoor bhai was Taken away from their children..
Today is his Birthday And Their children want to celebrate His birthday with him..
He is an innocent person..
It's too much now..
Stop this and let us all live in peace.
#ReleaseZahoorMashwani
آج جب میں اپنی بیٹی کے ساتھ ٹی وی پر کارٹون دیکھ رہا تھا، تب ایک عجب منظر دیکھا کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کی کیسے ہم جنس پرستی کے حوالے سے ذہن سازی کی جا رہی ہے۔
سب والدین کا فرض بنتا ہے کہ اپنے بچوں کے کارٹون خود دیکھا کریں تاکہ ہمارے بچے مخفوظ رہیں۔ اگلا دور واقعی خطرناک ہے۔
قوم مطالبہ کرتی ہے اسے صحافیوں سمیع ابراہیم اور عمران ریاض کے بارے میں بتایا جائے کہ وہ دونوں کہاں ہیں۔
صحافی برادری کیوں اس قدر خوفزدہ اور سہمی ہوئی ہے کہ ان دونوں کے 48 گھنٹوں میں عدالت میں پیش کئے جانے کا مطالبہ نہیں کرتی حالانکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ وگرنہ تو اسے اغواء کہا جانا چاہئیے۔
یہ فسطائی ہتھکنڈے دراصل میڈیا کا گلا گھونٹنے کی ایک کوشش ہیں تاکہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کیخلاف جاری سفاکانہ کریک ڈاؤن کو (میڈیا بلیک آؤٹ کے ذریعے) قوم کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جاسکے۔