نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئی
تم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا
جدا تھے ہم تو میسر تھیں قربتیں کتنی
بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا
پہنچ کے در پہ ترے کتنے معتبر ٹھہرے
اگرچہ رہ میں ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا
ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے
بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا
ستم پہ خوش کبھی لطف و کرم سے رنجیدہ
سکھائیں تم نے ہمیں کج ادائیاں کیا کیا
فیض احمد فیضؔ
@FareedZakaria@ImranKhanPTI This person has lost his mental and physical capacity. He used to be more religious fanatic when was in power. He just need to be again in power nothing else more. #prayforIKrecovery
الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے
یہ دل کا نگر ہے کہ مدینے کی فضا ہے
سانسوں میں مہکتی ہیں مناجات کی کلیاں
کلیوں کے کٹوروں میں تیرا نام لکھا ہے
گلیوں میں اترتی ہیں ملائک کے قطاریں
احساس کی بستی میں عجب جشن بپا ہے
ہے قریۂ ادراک منور تیرے دم سے
ہر ساعتِ خوش بخت جہاں نغمہ سرا ہے
سن لے گا مرا ماجرا تُو بھی کہ ازل سے
پیغام برِ دیدہ و دلِ موجِ صبا ہے
ہیں نذر تیری بار گہہِ ناز میں افکار
تُو مرکزِ دلدارئ اربابِ وفا ہے
اب کون حدِ حُسنِ طلب سوچ سکے گا
کونین کی وسعت تو تہہِ دستِ دعا ہے
ہے تیری کسک میں بھی دھمک حشر کے دن کی
وہ یوں کہ میرا قریۂ جاں گونج اٹھا ہے
اعصاب پہ حاوی ہے سدا ہیبتِ اقراء
جبریلِ مودّت کو یہ دل غارِ حرا ہے
آیات کے جھرمٹ میں ترے نام کی مسند
لفظوں کی انگوٹھی میں نگینہ سا جُڑا ہے
اِک بار ترا نقشِ قدم چوم لیا تھا
سو بار فلک شکر کے سجدے میں جھکا ہے
خورشید تیری راہ میں بھٹکتا ہوا جگنو
مہتاب تیرا ریزۂ نقشِ کفِ پا ہے
تلمیحِ شبِ قدر ترا عکسِ تبسم
" نوروز " ترا حُسنِ گریبانِ قبا ہے
ہر صبح ترے فرقِ فلک ناز کا پرتَو
ہر شام تیرے دوشِ معلّٰی کی رِدا ہے
تارے ترے رہوار کے قدموں کے شرارے
گردوں ترا دریُوزہ گرِ آبلہ پا ہے
یا تیرے خد و خال سے خیرہ مہہ و انجم
یا دھوپ نے سایہ ترا خود اوڑھ لیا ہے
یا رات نے پہنی ہے ملاحت تری تن پر
یا دن ترے اندازِ صباحت پہ گیا ہے
یٰسین ترے اسمِ گرامی کا ضمیمہ
ہے نون تری مدح ، قلم تیری ثنا ہے
" والیل " ترے سایۂ گیسُو کا تراشہ
" والعصر " تیری نیم نگاہی کی ادا ہے
فاقوں سے خمیدہ ہے سدا قامتِ درباں
ٹھوکر میں مگر سلسلۂ ارض و سما ہے
غیروں پہ بھی الطاف تیرے سب سے الگ تھے
اپنوں پہ نوازش کا بھی انداز جدا ہے
دل میں ہو تیری یاد تو طوفاں بھی کنارا
حاصل ہو تیرا لطف تو صرصر بھی صبا ہے
لمحوں میں سمٹ کر بھی تیرا درد ہے تازہ
صدیوں میں بکھر کر بھی تیرا عشق نیا ہے
دیکھوں تو تیرے در کی غلامی میں ہے شاہی
سوچوں تو تیرا شوق مجھے " ظلِّ ہما " ہے
رگ رگ نے سمیٹی ہے ترے نام کی فریاد
جب جب بھی پریشاں مجھے دنیا نے کِیا ہے
خالق نے قسم کھائی ہے اس " شہرِ اماں " کی
جس شہر کی گلیوں نے تجھے وِرد کِیا ہے
یہ قوسِ قزح ہے کہ سرِ صفحۂ آفاق
برسات کی رُت میں تیرا محرابِ دعا ہے
ہر سمت تیرے لطف و عنایات کی بارش
ہر سُو تیرا دامانِ کرم پھیل گیا ہے
اب اور بیاں کیا ہو کسی سے تری مدحت؟
یہ کم تو نہیں ہے کہ تُو محبوبِ خدا ہے
سورج کو ابھرنے نہیں دیتا تیرا حبشی
بے ذر کو ابوذر تیری بخشش نے کِیا ہے
ہے موجِ صبا یا تیری سانسوں کی بھکارن؟
ہے موسمِ گل یا تیری خیراتِ قبا ہے
خورشیدِ قیامت بھی سرفراز بہت ہے
لیکن تیرے قامت کی کشش اس سے سِوا ہے
زم زم تیرے آئینِ سخاوت کی گواہی
کوثر تیرا سرنامۂ دستورِ عطا ہے
جلتا ہوا مہتاب ترا رہروِ بے تاب
ڈھلتا ہوا سورج تیرے خیمے کا دِیا ہے
ثقلین کی قسمت تیری دہلیز کا صدقہ
عالم کا مقدر تیرے ہاتھوں میں لکھا ہے
اترے گا کہاں تک کوئی آیات کی تہہ میں
قرآں تری خاطر ابھی مصروفِ ثنا ہے
محشر میں پرستار ترے یوں تو بہت تھے
صد شکر مرا نام تجھے یاد رہا ہے
اے گنبدِ خضرٰی کے مکیں میری مدد کر
یا پھر یہ بتا ! کون میرا تیرے سِوا ہے؟
بخشش تیری آنکھوں کی طرف دیکھ رہی ہے
محسن تیرے دربار میں چپ چاپ کھڑا ہے
محسن نقوی
ہاتھی کے ساتھ ایک چھوٹے بچے کے ہمراہ پنگا لینا بے وقوفی نہیں تو کیا ہے اگر پنگا اتنا ضروری تھا تو تین چار دوستوں کو ساتھ ملا لیتے لیکن دوست بھی نہیں بچے گینڈا صاحب نے اپنی من مانی کی اور پھر بھاگ لئے