لاہور کی سچی کہانی
ایک نان فروش نے پیسہ آنے کے بعد اپنے بیٹوں کے نام وزیراعظم ،مغلِ اعظم،بادشاہ اعظم اور سکندر اعظم رکھ دئیے داتا صاحب سے واپسی پر پولیس نے پکڑ کر شناخت پوچھی نام بتانے پر پولیس نے الٹا لٹا کر چھترول کر دی 😂
حج ایک ناقابلِ فراموش، روح کو جھنجھوڑ دینے والا تجربہ ہے…
یہ دنیا کا سب سے عظیم اور کثیر الجمعیت اجتماع ہے، جہاں لاکھوں دلوں کی دھڑکن ایک ہو جاتی ہے۔
ہزاروں ہزار لوگوں کے اس سیلِ رواں کو دیکھنا، جو جمرات کی طرف بڑھ رہے ہیں… شیطان کو سنگسار کرنے کے لیے… وہ منظر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ وہ ایک ایسا جھروکا تھا جو اس عظیم الشان اجتماع کی صرف ایک چھوٹی سی جھلک دکھاتا تھا، مگر اتنا پراثر کہ سانس رک جائے۔
دل دھڑک اٹھتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
ابھی، جب تم جوان ہو، حج کر لو۔
زیادہ دیر انتظار نہ کرو۔
زندگی کا کوئی پتا نہیں… کل کیا ہو، کون جانے۔… اللہ کا گھر تمہیں بلارہا ہ❤️
ان سے ملئے۔۔!!
انکا نام بلال ہے،بلال چھ سات سال کی عمر میں گھر سے نکلا تھا،بالوں میں چاندنی آچکی ہے آج تک اپنوں سے جدا ہے۔
بلال کا کہنا ہے کہ ہمارا گھر اٹک کے کسی قریبی علاقے میں تھا،گھر کے قریب ٹرین رکتی تھی میں ٹرین میں بیٹھ کر اٹک جاتا تھا۔
گھر سے بھاگتا بھی زیادہ تھا۔
ایک بار جب اٹک کے لئے نکلا تو ٹرین میں آنکھ لگ گئی اور اپنے اسٹیشن پر اتر نہیں سکا۔ آنکھ جب کھلی تو اٹک کے بجائے کہیں اور تھا۔
مجھے ایک شیلٹر لیجایا گیا اور میں ہمیشہ کے لئے اپنوں سے دور ہوگیا۔
پہلی بار جس شیلٹر میں گیا وہ اسلام آباد کا شیلٹر تھا اور سال 1996 تھا۔
پھر لاہور لایا گیا اور لاہور سے کراچی ۔
میرے والد ویلڈنگ کا کام کرتے تھے،والدین کے نام یاد نہیں ہیں۔دو بہنیں تھیں،ایک بہن کا نام مجھے یوں لگتا ہے شاید نام حنا تھا۔
بھائی صرف میں تھا
والد کی ایک نشانی یاد ہے انکی گدی پر بڑا سا مَسّہ تھا۔
اور علاقے میں ایک مسجد تھی جو کراچی کی میمن مسجد کی طرح سرخ تھی۔
بلال کو یہ یاد نہیں ہے کہ گھر میں کونسی زبان بولتے تھے لیکن انکو پشتو کافی حد تک آتی ہے شاید ممکن ہے پختون گھرانے سے ہوں۔
جہانگیرہ اور پشاور کا امکان زیادہ ہوسکتا ہے۔
بلال نام کے ساتھ آفریدی لکھتا ہے اسے یہ نہیں معلوم کہ یہ آفریدی ہیں یا کوئی اور قوم، شیلٹر والوں نے نام کے ساتھ آفریدی لکھا ہے اسکی وجہ شاید یہ ہوسکتی ہے کہ بچپن سے کرکٹ کے ساتھ بہت لگاو تھا اور شاہد آفریدی کے بہت جذباتی فین تھے۔پشتو جب بولتا ہے تو لہجہ آفریدی نہیں ہے۔
بلال کافی عرصے سے صرف اس وجہ سے ہمیں اپنا کیس نہیں دے رہا تھا کہ مجھے لوگ لاوارث کہیں گے،یہ بات کرتے ہوئے اشکبار بھی ہوا۔
بات بات پر بلال کا گلا بھرا جاتا ہے اور والدین ملنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔
تمام دوست اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
22 may 2026
#waliullahmaroof
@amirhusain_tx Which tools did you use to do so? I find your experiments with agentic systems quite interesting. Do you maintain any blog/website where one can read about them in detail?
الحمدللہ میری نئی اسلامک پینٹنگ
اس کیلیگرافی کو بنانے میں مجھے دس دن لگے تھے کیا اس پینٹنگ پر مجھے ایک ہزار لائکس مل سکتے ہیں🙏🙏🙏
اگر آپ یہ پینٹنگ خریدنا چاہتے ہیں تو مجھے ڈی ایم کریں
پلیز جو بھی یہ پوسٹ دیکھ رہا ہے ری پوسٹ کردیں آج کل ریچ بہت کم ہے آپ کی مدد کی ضرورت ہے
پاکستان میں ڈگری ویریفکیشن پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہیں بطور گریجویٹس ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہماری یونیورسٹیاں کی ڈگری ہماری محنت اور کامیابی کی پہچان ہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ڈگری ویریفکیشن کا عمل ایک طویل، مہنگا اور مشکل سلسلہ بن چکا ہے جو طلبہ کو ذہنی اور مالی طور پر متاثر کرتا ہے۔
سب سے پہلے یونیورسٹی ڈگری جاری کرتی ہے جس پر کنٹرولر امتحانات اور وائس چانسلر کے دستخط ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود وہی ڈگری دوبارہ ویریفکیشن کے لیے یونیورسٹی بھیجی جاتی ہے، پھر ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کو تصدیق کے لیے بھیج دی جاتی ہے، اور آخر میں وزارتِ خارجہ (MOFA) سے اٹیستیشن کروائی جاتی ہے تاکہ HEC کی مہر کی بھی تصدیق ہو سکے۔
ہر مرحلے پر اضافی فیس، تاخیر اور غیر ضروری مشکلات طلبہ کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔ یہاں ایک سنجیدہ سوال پیدا ہوتا ہے: جب ڈگری پہلے ہی تسلیم شدہ ادارے جاری کرتے ہیں تو طلبہ کو بار بار اس کی اصلیت ثابت کرنے کے لیے ادائیگی کیوں کرنی پڑتی ہے؟
پاکستان کو ایک ون ونڈو اور سادہ ویریفکیشن سسٹم کی ضرورت ہے جو تکرار کو ختم کرے، وقت اور پیسہ بچائے اور نظام پر اعتماد بحال کرے۔ ڈگری ویریفکیشن کو آسان بنا کر ہم نہ صرف گریجویٹس کو بااختیار بنا سکتے ہیں بلکہ اپنے تعلیمی نظام کی ساکھ کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔
اگر آپ واقعی نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں تو اس پوسٹ کو repost کریں اور ہماری آواز کو مضبوط بنائیں۔
A personal plea to @elonmusk
My two sons have not been allowed to see or speak to their father Imran Khan who has been held unlawfully (acc to the UN) for 22 months of solitary confinement.
X is the only place left where we can still tell the world he is a political prisoner without basic human rights.
Yet every time I post about him, the reach inside Pakistan (and often globally) is throttled to almost zero.
You promised free speech, not “speech but no one hears it”.
Please fix the visibility filtering on my account so we can get the message out! @MarioNawfal
If you see someone showing up consistently, trying to grow their small business, show up for them too.
Support doesn’t always mean buying something, sometimes it’s simply cheering someone on.
A simple like,comment can go a long way. It’s free for you, but priceless for them🤍
It is brutal and harmful to #Pakistan to keep @ImranKhanPTI in prison. It is shameful and totally unjustified not to allow him to talk to his sons. Given the many challenges faced by the country, it is time to free Iran Khan and embrace national reconciliation. @realDonaldTrump
https://t.co/LCv93Xg71I
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
Our father lived in Pakistan - away from us - for most of our lives. Not because he had to, but because he chose to stand up against a corrupt regime. While he wasn’t there every day as a father, Pakistan had him as a leader. He gave his country everything: hospitals, universities, and a movement for justice.
He’s been offered the chance to spend the rest of his days in comfort - going on walks or playing cricket with us in England. Instead, he chooses to remain locked away in a dark prison cell.
His sacrifice is for Pakistan.
His strength comes from its people.
My children are not allowed to speak on the phone to their father @ImranKhanPTI. He has been in solitary confinement in prison for nearly 2 years.
Pakistan’s government has now said if they go there to try to see him, they too will be arrested and put behind bars.
This doesn’t happen in a democracy or a functioning state. This isn’t politics. It’s a personal vendetta.