@NylaZaheer1 جب غصہ آئے تو فوراً جواب دینے کے بجائے تھوڑا رک جائیں۔
ممکن ہے جو بات غصے میں کہنا چاہتے ہیں، وہ خاموشی میں غیر ضروری لگے۔
ایک رشتہ بچانا زیادہ ضروری ہوتا ہے اور کسی کسی ٹائم خاموش رہ جانا، دل اور رشتے دونوں بچا لیتا ہے۔
@NylaZaheer1 تُمیں ہر صُورت میں جینا تو ہے __
پھر کیا یہ اچھا نہیں کہ تُم پھولوں کی تَجارت کرو اور تُمارے اِردگرد کی فضا ہَمیشہ اُن کی خُوشبو سے مَہکتی رَہے۔!🤍🤍🤍
کیا آپ جانتے ہیں؟؟؟
پاکستان بنانے میں قائد اعظم سے بھی زیادہ کردار وڈیروں اور نوابوں کا تھا ، ہوا کچھ یوں کے 1930 کی دہائی سے کانگریس اور نہرو کھلے عام کہنا شروع ہوگئے تھے
" زمینداری نظام ختم ہوگا ، کسان کو زمین ملے گی "
نہرو سوشلزم سے متاثر تھے اسلیے 1936 کے کانگریس کے منشور میں شامل تھا کے لینڈ ریفارمز کی جائیں گی اور کسانوں میں زمین تقسیم ہوگی۔
1937 کے الیکشن میں مسلم لیگ بُری طرح ہارتی ہے اور پورے پنجاب سے صرف 2 سیٹیں جیت پاتی ہے ، پنجاب سے وڈیروں کی یونینسٹ پارٹی 98 نشستیں جیتنے کے بعد اپنی حکومت بناتی ہے، لیکن اب مسئلہ یہ ہوا کہ تمام وڈیرے نہرو کی لینڈ ریفارمز سے ڈرے ہوئے تھے، اسلیے 1937 میں جناح سکندر پیکٹ ہوا ، سکندر حیات خان پنجاب کے پریمیئر یعنی آج کے زمانے کا وزیراعلٰی تھے ، انھوں نے اپنے زمیندار بھائیوں سے درخواست کی کے مسلم لیگ میں شامل ہو جائیں ، لیکن اکا دکا شامل ہوئے ، کیونکہ انکے لیے مسلم لیگ اور یونینس�� پارٹی ایک ہی طرح کی بن چکی تھی ، جو لینڈ ریفارمز کو روک نہیں سکتی تھی۔
پھر کھیلا جاتا ہے 1940 میں ٹرمپ کارڈ ایک آزاد ملک کا ، یاد رہے اس سے پہلے آزاد ملک کا کوئی کانسیپٹ موجود نہیں تھا، اور جو علامہ اقبال کا 1930 کا خطبہ الہ آباد کا حوالہ دیا جاتا ہے ، وہ خطبہ پڑھیں اسمیں Dominion Status کی مانگ ہے ، خیر جیسے ہی مسلم لیگ 1940 میں قراداد لاہور منظور کرتی ہے تو پنجاب و بنگال کے نواب سوچتے ہیں کانگریس کی طرف گئے تو زمین جائے گی ، اور مسلم لیگ کی طرف ہوگئے تو زمین بچ جائے گی ۔
اس بنا پہ بہت سے لوگ یونینسٹ پارٹی سے مسلم لیگ میں شامل ہوئے ، اور بھاری رقوم فنڈ کے طور پر جمع کروائی، کیونکہ ساری جاگیر جمع پونجی جانے سے بہتر تھا ، کچھ فنڈز دے کر اسکو بچا لیا جائے ۔ کیونکہ اگر الگ ملک نہیں بنا اور کانگریس اقتدار میں آئی ، جو کے طے تھا کے وہ آئے گی تو زمینیں چھن جائیں گی ، اور ہندوستان میں دستور بننے کے بعد ہوا بھی کچھ یوں ہی ۔
اہم زمیندار ، اور انکی زمینوں کا رقبہ، اور انکا سیاسی عہدوں سے لگاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
• پنجاب
نواب آف بہاولپور= 6.75 لاکھ ایکڑ
نواب آف بہاولپور کو 1943 میں مسلم لیگ کا نائب صدر بنایا گیا۔
2022 میں نواب آف بہاولپور کی 3 لاکھ کی اراضی واپس کی گئی ، جو کے آن ریکارڈ DAWN اخبار پر موجود ہے ، یہ اتنی بڑی جگہ ہے کے پورا لاہور اس میں سما جائے ۔
سردار شوکت حیات خان = 20 ہزار ایکڑ ( اٹک )
سردار شوکت خان کے والد سکندر حیات ، پنجاب کے پریمیئر یعنی چیف منسٹر تھے اور شوکت خان خود پنجاب کے ایم ایل اے تھے۔
فیروز خان نون = 10 ہزار ایکڑ (سرگودھا )
فیروز خان نون یونینسٹ پارٹی کے سینئر لیڈر اور پنجاب کے چیف منسٹر تھے ، اور پاکستان بننے کے بعد وزیراعظم بھی بنے ۔
•سندھ
بھٹو خاندان = 20 ہزار ایکڑ
اس خاندان سے 2 وزیراعظم ، وزیر خارجہ امور ، وزیر اطلاعات، وزیر توانائی ، وزیر اعلی اور گورنر سندھ نکلے ۔
تالپورخاندان ( حیدرآباد، خیرپور ، میر پ��ر خاص 45 لاکھ ایکڑ
اس خاندان سے وزیر داخلہ ، وزیر دفاع ، گورنر سندھ ، وزیر جنگلات و ایکسائز ، وزیر مہاجرین و بحالی ، وزیر آبپاشی سنبھالنے والے سپوت نکلے ۔
نواب شاہ = 1 لاکھ ایکڑ
ایم این اے ، ایم پی اے ، سینیٹرز اس نسل سے نکلے ۔
پیر پگاڑا = 50 لاکھ ایکڑ
پیر پگاڑا سندھ میں مسلم لیگ کے صدر تھے ،1943 میں قائد اعظم نے کہا تھا سندھ کا دروازہ پیر پگاڑا کے بغیر نہیں کھل سکتا ۔
مشرقی بنگال
نواب سلیم اللہ خان = 37 ہزار 500 ایکڑ
نواب سلیم اللہ مسلم لیگ بنانے والے رہنماؤں میں شامل تھے ۔
نواب آف پوٹیا = 45 ہزار ایکڑ
1940 کے بعد نواب آف پوٹیا نے مسلم لیگ کو فنڈنگ شروع کردی ۔
اے کے ،فضل الحق = 5 ہزار ایکڑ
شیر بنگال، یونینسٹ پارٹی کے سینیئر ممبر ، بنگال کے وزیراعلی، وفاقی وزیر داخلہ ، گورنر آف ایسٹ پاکستان ،وفاقی وزیر خوراک و زراعت ۔
ملک خدا بخش = 1.5 لاکھ ایکڑ (ملتان )
وزیر زراعت ایوب خان کے دور میں
نواب اکبر بگٹی = 50 ہزار ایکڑ
وزیر مملکت برائے دفاع، وزیر مملکت برائے داخلہ ، گورنر آف بلوچستان ، وزیر اعلیٰ بلوچستان ،
خان آف قلات = پوری ریاس�� (25 لاکھ ایکڑ )
گورنر آف بلوچستان
یہ ساری زمین 1947 کے مشرقی و مغربی پاکستان کے مطابق 6.45 فیصد ملک کے رقبہ پر مشتمل تھی ، یعنی آج کا خیبرپختونخوا کا 70 فیصد رقبہ ۔
خیر یہ زمینیں بھی زیادہ تر لوگوں سے ایوب خان کے دور میں ، اور اسکے بعد بھٹو کے دور میں لینڈ ریفارمز کر کے حکومتی تحویل میں لے لی گئی تھیں۔
تحریر: علی حیدر