روضۂ رسول ﷺ کے سامنے وہ کھڑکی جو ایک وعدہ کے تحت ۱۴۰۰ سال سے کھلی ہوئی ہے اور کسی کو اسے بند کرنے کی جرأت نہیں ہوتی۔
جب مسجد کی توسیع کے لیے خلیفۂ دوم، امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی اور ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے حجرہ مانگا تو وہ رو پڑیں اور کہنے لگیں کہ یہاں محبوبِ گرامی ﷺ رہ چکے ہیں۔ منت سماجت کے بعد راضی ہو گئیں لیکن ایک شرط یہ رکھی کہ آپ رضی اللہ عنہ کی کھڑکی جو روضۂ رسول ﷺ کی طرف کھلی ہوئی ہے، اسے بند نہ کیا جائے۔
تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’یہ میرا وعدہ ہے کہ اس کھڑکی کو بند نہیں کیا جائے گا۔‘‘
یہ تاریخ کا سب سے لمبا وعدہ ہے جو اب تک وفا ہوتا آرہا ہے۔
سینے پہ گولی کھائیں گے
انقلاب لائیں گے
اپنے نعروں سے نوجوانوں کا لہو گرمانے والا قائداعظم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا طالبعلم اسامہ جمیل فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن گیا 💔
جب آپ کسی انسان کا گھر اجاڑیں اسکی زندگی برباد کر دیں۔۔ وہ انسان سب خاموشی سے سہہ کر اللہ کے پاس چلا جائے تو اسکا انتقام اللہ خود لیتا ہے۔
ایسا ہی کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے
اللہ اکبر اللہ اکبر
ہمارے جانے انجانے کے سارے گناہ معاف کرنا اور گناہوں سے بچنے کی توفیق دینا
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک
اے اہلِ زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں، کم یاب ہیں ہم