کہا جاتا ہے کہ ہلاکو خان جب بغداد میں داخل ہو کر مسلمانوں کی گردنیں کاٹ رہا تھا تب وہاں وقت کے دو بڑے علماء کے درمیان اس بات پر مناظرہ چل رہا تھا کہ کوا حلال ہے یا حرام اور سوئی کے ناکے سے کتنے فرشتے گزر سکتے۔
چار دن پہلے PTI کی منتخب حکومت ختم کر دی گئی، سینکڑوں لوگ لاپتا کر دئیے گئے، عمران خان کس حال میں ہے کوئی نہیں جانتا اور کل سے سوشل میڈیا پر دو ٹولے آپس میں لڑ رہے ہیں۔
یقین کریں مجھ اتنی انرجی نہیں کہ میں ایک ایک کو سمجھاتا اور صلح کرواتا پھروں اور نہ ہی میرا کسی ایک فریق کے لیے لڑائی میں کودنے کا کوئی ارادہ ہے۔
کیا یہ وقت ہے ایسی آپسی لڑائیوں کا؟
اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے۔ اور اللہ انہیں احساس دے کہ پختونخوا احتجاج میں جن ورکرز کو سیدھی گولیاں ماری گئی ہیں، اُن کی جان سے تمہاری اَنا اور آپسی لڑائیاں زیادہ اہم نہیں ہیں۔ اس وقت جب سارا فوکس مخالفین پر ہونا چاہیے، یہ لڑائیاں عمران خان کے دشمنوں کو فائدہ پہنچانے اور سوشل میڈیا کو تقسیم کرنے سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔
@MaleehaHashmey اسٹیبلشمنٹ کو درد ایسے نہیں ہو رہا میڈم۔ سب کو یاد ہوگا کہ جب ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اپنا خفیہ کام شروع کیا تب ہی مراد سعید ہے تھا جس نے ایکسپوز کیا اور بار بار چیختا رہا۔۔اب بھی وہ اسی کی مخالفت میں ہے جس وجہ سے وہ غدار کہلایا جا رہا ہے۔ "غدار کہلانے کیلئے آجکل محب وطن ہونا شرط ہے"
وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کیا شرمناک حرکت کی ہے۔ عمران خان کے بارے میں خود جیل کور کرنے والے بتاتے ہیں، جیل حکام بتاتے ہیں کہ کسی افسر کے کمرے میں منگل کے روز بشریٰ بی بی سے کبھی کبھی ملاقات ہوتی ہے اور وہاں جیل حکام موجود ہوتے ہیں۔
آپ جب یہ بات کر رہے ہیں کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں ہو رہی ہیں، اپوزیشن نے سوال کیا تو کہا کیا چارپائی لبرٹی پر رکھ دیں۔ ایوان میں کھڑے ہو کر۔
آپ کو خود احساس بھی ہے کہ آپ کیا بات کر رہے ہیں؟ کس قدر شرمناک حرکت ہے اس شخصیت کی، جسے جب دیکھو وہ ٹوئٹر پہ احادیث اور آیات پوسٹ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، اور یہاں ایسی باتیں کرنے کے بعد کھی کھی کر رہے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو بھگت چکے اس ملک میں سیاست میں جو کچھ ہوتا ہے، ہوتا رہا ہے اور اب پہلے سے کہیں زیادہ، کہیں زیادہ کھلے عام ہو رہا ہے۔ یہ وہ سب کچھ بھگت چکے، پھر بھی انہیں احساس نہیں ہے کہ کل یہ سب کچھ ان کے ساتھ دوبارہ ہو سکتا ہے۔
شرمناک، انتہائی شرمناک۔
ہم نے سہیل آفریدی سے احتجاج کا تقاضا کیا۔ اگرچہ دیر سے سہی آفریدی نے تقاضا پورا کیا۔ لانگ مارچ کے دوران ہم پرجوش رہے۔ اس کے خاتمے پر مایوس ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اب مایوسی میں شکوک و شبہات شروع کردیں۔
ادارہ ہذا تادم تحریر سہیل آفریدی کیساتھ ہے۔ اعلان ختم۔
پھر تو محترمہ بینظیر بھٹو نے خود کش حملہ خود کروایا تھا،
بھٹو کو پھانسی ضیا نے نہیں دی، خودکشی کی تھی؟
میرمرتضی بھٹو، نے خود کو گولی ماری؟
بھٹو جسے ڈیڈی کہتا تھا اس کے ساتھ مل کر فاطمہ جناح کی پسلیاں کس نے توڑیں، 1971 میں مشرقی پاکستان کس نے توڑا؟ 1977 کا الیکشن کس نے دوتہائی سے لوٹا؟
بلاول زرداری نے قومی اسمبلی تقریر کی اور کہا کہ شہبازشریف سے درخواست کروں گا کہ وہ کے پی میں ایمرجنسی ہٹائیں تقریر ختم ہوئی ایمرجنسی کی توثیق کے لیے ووٹنگ ہوئی اور سب سے پہلا ہاتھ بلاول نے کھڑا کیا۔ اسے کہتے ہیں ابوالمنافقین بلاول زرداری
راٹھی 24 گھنٹوں سے پہلے واپس آگیا۔ اس پر کسی نے تشدد بھی نہیں کیا۔ اس نے واپس آکر ویڈیو بھی اپلوڈ کر دی۔ اس نے بتایا کہ نہ اسے ننگا کیا گیا نہ کرنٹ لگایا گیا اور نہ ہی نازک اعضا کے ساتھ اینٹیں باندھی گئیں حتیٰ کہ زبردستی کوئی ویڈیو بھی نہیں بنوائی گئی۔ راٹھی کے ماں باپ اور دیگر رشتہ داروں پر ابھی تک مقدمات بھی نہیں ہوئے۔ راٹھی پر بھی ابھی تک دہشتگردی بغاوت اور غداری کے مقدمات نہیں ہوئے۔ راٹھی کے گھر کا سارا سامان بھی ٹھیک ہے پولیس نے کچھ چوری نہیں کیا۔ اسکے جسم پر چوٹوں کے نشان بھی نہیں ہیں۔ اسکے خاندان کے لوگ پہلے کی طرح نوکریاں اور کاروبار کر رہے ہیں۔ اسکا نام شائد ECL میں بھی نہیں ڈالا گیا.
جو جو خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کی حمایت کر رہا ہے سمجھ لیجئیے یا تو وہ آئین کے غداروں اور مینڈیٹ چوروں کا سہولتکار ہے، مددگار ہے، بینیفیشری ہے یا ایمرجنسی کے نفاذ سے اُس کے مفادات جڑے ہیں۔