حکومت جھوٹ بولتی ہے۔ ہر دفعہ انہوں نے جھوٹ بولا ہے۔ عمران خان کا علاج کیوں نہیں ہونے دے رہے؟ کیا چھپا رہے ہیں؟ رات کے اندھیروں میں کیوں لے کر جاتے ہیں؟ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ عمران خان کی قید تنہائی ختم ہو اور اس کا شفا انٹرنیشنل میں علاج کروایا جائے۔ اس کے لیے ہم نے پی ٹی آئی سے بارہا درخواست کی کہ ہمارے ساتھ شامل ہو کر حکومت پر پریشر ڈالیں۔ چار مہینے سے ہماری ایک ہی درخواست ہے جو ہم بار بار کرتے رہیں گے۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
#جون_16_کو_اڈیالہ_چلو
We have received reports that Imran Khan was again taken to PIMS in the early hours of 15 June. We found out through a tweet by Barrister Gohar on the morning of 15 June.
We reject any medical report generated by PIMS regarding Imran Khan’s condition. The same institution has previously made questionable claims, including the assertion that Imran Khan had recovered 90% of his eyesight. Imran Khan himself rejected these claims when his lawyer later met him at Adiala Jail.
A fundamental question remains unanswered: Why does Imran Khan require a fifth injection?
We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority.
A full bench court order permits six family members to meet Imran Khan every Tuesday. Yet over the past eight months, the authorities have largely violated this order. My sister, Dr. Uzma Khan, has only been allowed to meet him a few times, and her last meeting took place on 2 December, 2025.
We reject the government’s continued use of isolation and deprivation as tools of pressure against Imran Khan. Today, we expect all six family members to be allowed to meet him in accordance with the court’s order.
The denial of Imran Khan’s rights is not merely a political issue; it is a clear violation of both the jail manual and High Court orders.
According to the jail manual, Imran Khan is entitled to:
1. A weekly telephone call with his sons.
2. A weekly meeting with family members.
3. A weekly meeting with his legal counsel.
4. Access to books and reading material.
5. Access to television and newspapers.
6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups.
7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out.
In addition, High Court full bench orders provide that:
1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone.
2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday.
3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday.
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے
Gathering of 10,000 people outside Adiala should create the necessary pressure to end Imran Khan’s prolonged isolation and ensure that his eye condition is properly examined and treated at Shifa International Hospital, ISB, in the presence of his family and personal physician.
علیمہ خان صاحبہ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ
پی ٹی آئی کے پاس عمران خان کی قید تنہائی کو ختم کرنے اور انہیں فیملی اور ذاتی ڈاکٹروں کی موجودگی میں بہتر علاج کے لیے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کروانے کا دباؤ ڈالنے کے لیے جون کا مہینہ ہی واحد موقع ہے
کشمیری عوام کی سپورٹ میں پی ٹی آئی لیڈرشپ کو فوری پریس کانفرنس کرنی چاہیئے۔ آپکی خاموشی پارٹی ورکرز کی امنگوں کی ترجمان نہیں۔
محمود خان اچکزئی صاحب علامہ راجہ ناصر عباس صاحب کو بھی کھل کر کشمیری عوام کی حمائیت کرنی چاہیئے۔
عمران خان سے بہنوں کی ملاقات نہیں کروائی گئی عمران خان سے ملاقاتیں مکمل بند ہیں ٹی وی چینلز پر عمران خان کا نام لینا مکمل بند ہے لیکن ناراض ارکان کو لیکر عمران خان کی رہائی کی باتیں ٹی وی پر چل رہے ہیں اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ ہے ۔
عمران ریاض خان
وارداتیوں سنیں 🚨
عمران خان نے آخری پیغام میں کہا تھا کہ میری بہنوں سے کہو کہ میرے لئے آواز اٹھائیں۔ خان کو بھی پتہ ہے کہ اس کے ساتھ صرف سگی بہنیں ہی وفادار ہیں
“آپ بتائیں عمران خان کس چیز سے Step back کریں؟ عمران خان آزاد عدلیہ چاہتے ہیں، کیا اس سے step back کریں؟ عمران خان نے کہا شفاف انتخابات قوم چاہتی ہے، کیا اس سے پیچھے ہٹنا ہے؟ آپ قوم سے پوچھیں عمران خان کس چیز سے پیچھے ہٹیں؟ عمران خان جیل میں اس لیے ہیں کہ وہ ڈیل نہیں قبول کررہے، وہ کہتے ہیں میں اپنے ملک اور اپنی قوم کے لیے کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا۔۔”
- @Aleema_KhanPK
#FreeImranKhan
گلگت بلتستان کے کئی حلقوں میں پی ٹی آئی امیدوار برتری پر ہیں، پولنگ ختم ہوتے ہی مخصوص پولنگ اسٹیشنز ہائی جیک کرنے اور پوگس ووٹ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہیں۔ ہم انتخابی عمل کو ہائی جیک کرنے کی کسی بھی کوشش کو نہ قبول کریں گے نہ ہونے دیں گے۔ مسلم لیگ ن کے ایک کنڈیڈیٹ کے لئیے ایک پولنگ سٹیشن میں 80 فیصد ووٹ پول کیا گیا- اک پولنگ بوکس سے 800 سے ذائد ووٹ برآمد ہوئے باقی پولنگ سٹیشنز میں بھی بوگس ووٹ ڈالنے کی کوشش جاری ہے - ابھی پی ٹی آئی آگے ہے لیکن یہی عمل جاری رہا تو نہ اس الیکشن کو مانیگے اور نہ ہی کسی کو سکون سے رہنے دینگے- اگر عوامی مینڈیٹ میں مداخلت کی گئی تو حالات کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی، اور گلگت بلتستان کے عوام باہر نکلیں گے۔
— سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید خان
کاش اس وقت ہم سب گلگت بلتستان میں ہوتے۔ نیکسٹ لیول جشن چل رہا ہے۔ پی ٹی آئی ۲۱ سیٹس پر لیڈ کر رہی ہے! یہ ۹۰ فیصد سے زیادہ کی جیت ہے۔
کمال کے لوگ ہیں عمران خان والے، طاقتور بندوق والے کرش کرنے میں لگے ہیں چار سال سے اور پی ٹی آئی کی جیت کی مارجن بڑھتی جارہی ہے!
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
سائفر جسے عمران خان نے جلسے میں لہرایا تھا، جس سائفر کو جھوٹا قرار دیا گیا آج وہ سائفر حقیقت ثابت ہو چکا ہے
وہ لوگ جو اس سائفر کے بیرونی سازش کا حصہ بنے ان کو کب سزا دے جائے گی، اقبال آفریدی
کہا جاتا تھا کشمیر اور بلتستان کے لوگ اس پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں جس کی وفاق میں حکومت ہوتی ہے۔۔ لیکن نو اپریل کے بعد سب کچھ بدل گیا ہے ۔۔قوم نو اپریل سے اگے بڑھ ہی نہیں پا رہی جب ان کی منتخب حکومت کو گھر بھیجا گیا۔۔آٹھ فروری کی دھاندلی کے باوجود عوام اپنا حق چھوڑنے کو تیار نہیں❗
پی ٹی آئی کے حلقہ 2 کے امیدوار عتیق پیرزادہ کے جٹیال میں واقع آبائی گھر کا پولیس کی بھاری نفری نے محاصرہ کر لیا ہے، اور علاقے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
#خان_کے_سائے_سے_بھی_خوف#گلگت_بلتستان_کپتان_کا