پنجاب کو بھارت سے کم پڑوسی صوبوں سے ذیادہ تھرٹ۔۔۔۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے ریاست کا بیانیہ اڑا کر رکھ دیا
پختونخوا تھرٹ یا victim
تھوڑی سے بات اُس آگ کی جس کی تپش نے ہمیں ایک منجدھار میں پھنسا دیا
تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان وزیراعلی پنجاب کی آن کیمرہ گفتگو جِس میں اُنھوں نے دہشت گردی کے حوالہ سے بھارت اور خیبر پختونخواہ کے مابین موازنہ کیا ، اُس کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور اِن خیالات کو ایک بوسیدہ سوچ کی عکاسی ٹھہراتی ہے۔
ایک ایسا صوبہ جس نے دہائیاں دہشت گردی کا سامنہ کیا ہو ، ہزاروں جانیں دی ہوں اور لاکھوں خاندان اُجڑے ہوں اُس میں بسنے والی تمام عوام کے اوپر دہشت گرد ہونے کے لیبل کو کیسے چِسپاں کیا جا سکتا ہے؟ ایسی سوچ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
جہاں ضرورت اِس چیز کی ہے کہ ماضی کی پالیسیز پر نادم ہو کر مستقبل کے لئیے ایک متفقہ لاح عمل اختیار کیا جائے وہاں ایسی بوسیدہ سوچ قومی یکجہتی کو نقصان اور لوگوں کے درمیان دوریاں پیدا کر سکتی ہیں۔ قومی سیاست کا اِس وقت سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ خیرات میں بٹنے والے عہدوں پر براجمان کَٹھ پتلی حکمران وفاقی سیاست اور لوگوں کے احساسات سے مکمل طور پر نابلد ہیں۔
تحریک تحفظِ آئین پاکستان وزیراعلی پنجاب مریم نواز سے اپنے الفاظ واپس اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے عوام کے احساسات مجروح کرنے پر معزرت کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان، وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی اُس آن کیمرہ گفتگو کی بھرپور مذمت کرتی ہے جس میں اُنہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے بھارت کا موازنہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے کیا، اور اِن خیالات کو ایک بوسیدہ سوچ کی عکاسی قرار دیتی ہے۔
دو ایسے صوبے جنہوں نے دہائیوں تک دہشت گردی کا سامنا کیا ہو، ہزاروں جانیں قربان کی ہوں اور لاکھوں خاندان اجڑے ہوں، ان میں بسنے والے عوام پر دہشت گرد ہونے کا لیبل کیسے چسپاں کیا جا سکتا ہے؟ ایسی سوچ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
جہاں ضرورت اِس امر کی ہے کہ ماضی کی پالیسیوں پر نادم ہو کر مستقبل کے لیے ایک متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے، وہاں ایسی بوسیدہ سوچ قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے اور لوگوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ قومی سیاست کا اِس وقت سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ خیرات میں بٹنے والے عہدوں پر براجمان کٹھ پتلی حکمران وفاقی سیاست اور لوگوں کے احساسات سے مکمل طور پر نابلد ہیں۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان، وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں اور صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام کے احساسات مجروح کرنے پر معذرت کریں۔
جاری کردہ:
ترجمان تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان
اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی
علی امین گنڈہ پور کا دعوی کے 5100 کنال زمین بیچ کر پارٹی پر لگا دی
علیمہ خان نے کہا وہ ہمیں دیکھا دیں جو 5100 کنال کہاں ہیں وہ ہم بھی دیکھ لیں
کیسے کیسے بے شرم لوگوں کو عزت ملی اور کیا کررہے ہیں افسوس ہوتا ہے کہ کیسے کیسے لوگوں کو ہمارے لیڈر نے عزت دی لیکن وہ اس لائق ہی نہیں تھے کہ سنبھال سکیں ہر بندہ ایکسپوز ہوگا ان شاء اللہ ۔۔۔۔
Big News: Another Cricket Legend, Brian Lara speaks up for our Legend Imran Khan!
"It's basic humanity for a legend of our game"
Brian Lara joins the list of former international cricket captains seeking medical care for Imran Khan!
ایس پی ثمینہ ظفر اب بیانات جاری کرارہی ہیں کہ وہ چوک پر قسم کھانے کیلئے تیار ہیں کہ آیت نور کی والدہ سے کوئی غلط بات نہیں کی۔ ڈی پی او کہتے ہیں میری بھی دوبچیاں ہیں۔
اب قسموں پر بات آگئی ہے تو پھر آیت نور کی والدہ اور والد کے سر پر قرآن رکھیں۔ وہ پولیس کی ایسی ایسی زیادتیاں بتائیں گے کہ آپ سب لوگ مطالبہ کریں گے کہ آیت نور کے ملزمان کو بعد میں دیکھیں گے پہلے ان پولیس والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جایا جنہوں نے مظلوم خاندان کو ہی مجرم بنا کر شدید اذیت پہنچائی۔
آیت نور کی والدہ کے بہنوئی نواز کا موبائیل فون ابھی تک پولیس کے پاس ہے۔
کیس کرائم برانچ کو دیں۔ وہ آیت نور کو انصاف دے گی۔
جبکہ ان پولیس والوں کیلئے جوڈیشل کمیشن بنائیں ۔ پھر جو سچ سامنے آئے گا۔ آپ سب ماتم کریں گے کہ کیسے کیسے نگینے پولیس فورس میں موجود ہیں۔
فوج کو شرم آنی چاہیئے کہ ایک ایسی گھٹیا، منافق، نسل پرست اور متعصب عورت کو ملک کے سب سے بڑے صوبے پر مسلط کیا جو ملک کے دشمن کو اپنا کہہ رہی ہے اور اپنے ملک کے ایک صوبے کو دشمن کہہ رہی ہے، مودی اتنا تمہارا یار ہے تو جاؤ بھارت اس کی گود میں بیٹھ جاؤ یہاں کیا کر رہی ہو۔
افسوس کی بات ہے آپ نے راگ پکڑا ہوا ہے مسلسل
پنجابی پنجابی پنجابی !!!!! کیا باقی تین صوبوں کے لوگ جانور ہیں ؟ وہ انسان نہیں ہیں ! ان کے کوئی حقوق نہیں ہیں ؟؟
عمران خان نے سب کو “ میرے ہالستانیوں” پہ اکٹھا کیا ہے اس لئیے سندھی ہو پنجابی ہو پٹھان ہو بلوچی ہو سب ایک ہیں الحمد للہ
الفاظ کے ہیر پھیر میں یہ لسانیت والا اچار چھوڑ دیں
آپ کو سمجھدار انسان سمجھتے تھے
عاصم منیر نے اپنے ناجائز اقتدار کے لیے کیا کچھ نہیں کیا، سب سے پہلے جمہوریت کا گلا دبوچا، نو مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جب تحریک انصاف کو بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے اور تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا تو اس مینڈیٹ کو بے شرمی سے چرا لیا گیا، عوام کا مینڈیٹ چرا کر سزا یافتہ لوگوں کو اقتدار دے دیا گیا، اس کے بعد عدلیہ کو مفلوج کیا گیا اور چھبیسویں ترمیم کے ذریعے ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے، عدلیہ کو سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ عمران خان (17 ستمبر، 2025)
How dangerously divisive is a narrative that portrays an entire Pakistani province as a greater threat than a hostile neighbour whose aggression claimed the lives of Pakistani children and civilians not long ago and whose atrocities continue to inflict immense suffering on unarmed Kashmiris in IOK !!
میں آج کراچی کی عوام سے مخاطب ہوں۔ عمران خان کے سپاہی سہیل آفریدی صاحب سندھ پہنچ چکے ہیں اور مختلف شہروں میں عوام کی جانب سے ان کا بھرپور استقبال کیا جا رہا ہے۔
کل ان شاء اللہ شام 6 بجے مزارِ قائد کے قریب شاہراہِ قائدین پر ان کی آمد ہوگی۔ میری کراچی کی عوام، تمام چیئرمینز اور کارکنان سے اپیل ہے کہ اپنی عوام کے ساتھ بھرپور تعداد میں پہنچیں اور اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔
مبشر حافظ الحق
نائب صدر پاکستان تحریک انصاف کراچی ڈویژن و پارلیمانی لیڈر کراچی میٹرو کارپوریشن
#ستمبر_مزاحمت_عہد_ہمارا
دنیا کے کسی ملک میں یہ ڈرامے بازی نہیں ہوتی کہ ایک انٹیریر منسٹر ائیر پورٹ پر کھڑا ہو کر لوگوں کے پاسپورٹ چیک کر رہا ہے ان کی ٹریولنگ ہسٹری ان سے پوچھ رہا ہے ۔ اس کو کس قانون نے یہ حق دیا ہے کہ وہ لوگوں کے پرسنل ڈاکومنٹ دیکھ رہا ہے ۔ پرسنل ڈاکومنٹ پوری دنیا میں صرف ہر ائیر پورٹ پر امیگریشن آفیسر دیکھ سکتا ہے ۔ اصل میں یہ جعلی وزیر ہیں جو انکی حرکتوں سے بھی پتہ چلتا ہے
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 14 ہر انسان کی عزت و وقار کے تحفظ کی بات کرتا ہے۔ ہوائی اڈوں پر مسافروں کے پاسپورٹس اور سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال ایف آئی اے امیگریشن افسران کی سرکاری ذمہ داری ہے۔ وزیرِ داخلہ کو اداروں کی نگرانی اور کارکردگی کا جائزہ لینے کا اختیار ہو سکتا ہے، لیکن ریاستی عہدہ کسی شخص کو خودکار طور پر امیگریشن افسر نہیں بنا دیتا۔
سوال یہ ہے کہ اگر ایف آئی اے کے تربیت یافتہ اور مجاز افسر موجود ہیں تو ایک وزیر کو عام مسافروں کے ذاتی سفری دستاویزات خود ہاتھ میں لے کر دیکھنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ حکومتی نگرانی ضروری ہے، مگر ریاستی طاقت اور عوام کی عزت و وقار کے درمیان ایک واضح حد ہونی چاہیے۔
قانون اور اداروں کی مضبوطی اسی میں ہے کہ ہر شخص اپنا مقررہ کردار ادا کرے: وزیر پالیسی اور نگرانی کرے، جبکہ قانونی اور عملی امیگریشن چیکنگ مجاز ایف آئی اے افسر انجام دیں۔
پاکستان کے سرکاری FIA framework کے مطابق passenger travel documents کی examination FIA Immigration Officers کی ذمہ داری ہے، اس لیے ایک سیاسی وزیر کا خود passengers کے documents check کرنا institutional roles اور مناسب procedure کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا کرتا ہے۔
@IrshadBhatti336 ابھی سسٹم کا مقصد تو divide n rule سمجھ آتا ہے ۔ اگر عوام کی مرضی ہو تو ضرور صوبے بننے چائیں ، پہلے بیرک میں بھیج دیں اور ایماندار حکومت ہو تو اس مدعہ کو ضرور اٹھائیں !
آصف زرداری،بلاول بھٹو ،فریال تالپور،مراد علی شاہ اینڈ کمپنی سے کہنا ہے کہ ہمیں logically قائل کریں کہ کیوں سندھ میں نئے صوبے نہیں بننے چاہئیں،براہ مہربانی مضحکہ خیز سستی جذباتی بڑھکیں مارنے کی بجائے ہمیں logically قائل کریں،باقی آپ سب کہہ رہے کہ سندھ دھرتی ماں،تقسیم نہیں ہونے دیں گے،پہلی بات،آپ لوگوں نے اپنی دھرتی ماں کا حشر کیا کر دیا،یہ حشر کرتے ہیں دھرتی ماں کا،دوسری بات،اگر ہندوؤں کی دھرتی ماتا ہندوستان تقسیم ہو سکتا ہے مطلب وہاں نئے صوبے بن سکتے ہیں،اگر ایرانیوں کی دھرتی ماں ایران،افغانیوں کی افغانستان اور چینیوں کی دھرتی ماں چین تقسیم ہو سکتا ہے مطلب وہاں نئے صوبے بن سکتے ہیں تو سندھ میں نئے صوبےکیوں نہیں،آپ لوگوں کےپاس اس بات کا کوئی جواب ہے ؟
"پاکستان میں بہت لوگ ہونگے جو چاہتے ہیں کہ عمران خان باہر نہ نکلیں، ایجینسیاں ان کو بتاتی ہونگی کہ عمران خان نہیں نکلیں گے وہ اپنی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، اب ان لوگوں کو خوف لگ گیا ہے کہ عمران خان رہا نا ہو جائیں یہ لوگ جب پارٹی چیئرمین شپ کی بات کرتے ہیں تو پہلے یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کا جیل میں خاتمہ ہو ہم منتظر ہیں روازانہ ٹی وی دیکھتے ہیں کہ آج کون بےنقاب ہو گا آپ آگے آگے دیکھتے جائیں۔ یہ لوگ 27 ستمبر کو ناکام کرنے کے لیے Distractions پیدا کریں گے”۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
اس معصوم بچی آیت نور کی والدہ کو ایس پی ثمینہ ظفر نے اور بھی بہت کچھ کہا ہے جو میں یہاں خواتین کی وجہ سے لکھ بھی نہیں سکتا ۔ بچی کے والد سے کہا گیا کہ آیت نور تمہاری بیٹی ہی نہیں ہے ۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس کیس کو صوبائی کرائم برانچ کو ٹرانسفر کریں ۔ وہ وہ حقائق سامنے آئیں گے کہ آپ سب کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے ۔ آیت نور کے والد کو پولیس کے سامنے صفائیاں اور ثبوت دینے پڑے کہ بچی میری ہی ہے ۔
وزیراعلیٰ صاحب کو ہری پور کے نمائندوں نے غلط گائیڈ کیا ہے ۔ سہیل آفریدی صاحب ایک بار یہ کیس کرائم برانچ کو دے دیں ۔ سب سامنے آجائے گا ۔
@SohailAfridiISF@YarMKNiazi
نجی دورہ ہے تو پھر تو کمرشل فلائیٹ سے جائیں گی۔ کیونکہ جو جہاز خریدا تھا وہ تو عوام کی خدمت کے لئے خریدا تھا۔۔ کیا ہی اچھا ہو وہ بھی بورڈنگ پاس کی کوئی تصویر جاری کر دیں۔ ثمینہ پاشا
@pasha_samina
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan