پختون خواہ اور پورا پاکستان عمران خان کیساتھ تھا ہے اور رہے گا
حکومت کے ختم کرنے سے عوام کے دلوں سے عمران خان کی محبت کو نہیں نکالا جا سکتا۔ انشاءاللٰہ
وہ جو بات اس ناچیز نے آج سے سالوں پہلے 9 اپریل کی رات کی تھی کہ وزیراعظم کی اس کرسی پہ میرا لیڈر ایکبار پھر آئے گا عوام کی طاقت سے آئے گا دو تہائی سے آئے گا۔
تو مجھے مرے رب پہ یقین ہے کہ ایسا ہو کر ہی رہے گا۔
انشاءاللّٰہ
پاکستان 🇵🇰 زندہ باد
عمران خان پائندہ باد
الحمدللہ کراچی سے گم ہونے والا بٹکرام کا بچہ 16 سال بعد شیلٹر سے مل گیا ❤️🩹
مکمل ویڈیو Waliullah Maroof یوٹیوب چینل پر دیکھیں اور شئیر کریں ۔۔۔
#Battagram#karachi#shelter#waliullahmaroof
عمران خان کے خاندان کا کوئی فرد رہ تو نہیں جو عاصم منیر کے ظلم، جبر اور طاقت کانشانہ نہ بنا ہو ۔
عمران خان اور ان کے خاندان نے پاکستان میں بہادری اور ثابت قدمی کی ایک تاریخ رقم کر دی ہے۔ انہوں نے ظلم اور قید تو قبول کر لی لیکن وقت کے یزید کی بیعت لینے سے انکار کر دیا ۔۔!!
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
یہ سال 1995 کی بات ہے جب سخت سردیوں کے دن چل رہے تھے۔
صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے علاقے فاروق آباد میں مقامی لوگوں نے ایک سفید کار دیکھی۔۔
کار بہت تیزی میں آئی رکی۔۔اور کچھ پھینک کر تیزی کے ساتھ نکل گئی۔
گاؤں والے تجسس میں دوڑتے ہوئے وہاں پہنچے۔۔یہ دیکھنے کے لئے کہ کار والے نے کیا پھیکا ہوگا۔۔!!
جب موقع پر پہنچتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں۔۔۔ سانسیں لیتی ہوئی نیلے رنگ کی فراک میں ملبوس حضرت حوا کی ایک بیٹی۔۔۔
جسکی عمر تقریبا دو سال تک تھی۔۔بھیڑ میں سے ایک نیک دل انسان نے بچی کو اٹھاکر ہر طرف سے دیکھا خیریت دریافت کی اور گلے سے لگاکر کار کی طرف دیکھ کر پیچھا کرنے کا سوچا لیکن تب تک کار اپنی تیزی سے اٹھنے والی دھول میں گم نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی۔
سو منہ اور سو باتیں ہورہی تھیں۔۔۔لیکن وہ نیک دل انسان بچی اپنے گھر لایا۔۔اسکی اچھی پرورش کی۔۔اس گھر میں جوان ہوئی اور گھر بس گیا۔۔ پرورش کرنے والے بہت ساری نیکیاں لیکر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اب بنت حوا کا امتحان شروع ہوا۔
پرورش کرنے والے والدین دنیا سے رخصت ہوگئے۔۔اپنے ماں باپ کون تھے کیسے تھے؟ابھی کہاں کس حال میں ہونگے؟ بہن بھائی کیسے ہونگے؟ یہ سوالات اندر سے کھائے جارہے تھے۔
دوسری طرف بات بات پر گندے خون اور لاوارث جیسے الفاظ کے طعنے بھی ملنا شروع ہوگئے اللہ اس بہن پر رحم فرمائے۔
ہمیں یہ اسٹوری سن کر غالب گمان ہے کہ یہ اغ*واء کا کیس ہوگا۔ کسی نے کہیں سے اٹھاکر راستے میں بچی کو پھینک دیا ہوگا۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اپنی اس بہن کے دکھ درد کا احساس کرتے ہوئے اس پوسٹ کو دنیا بھر میں خوب عام کریں۔
بچی کی جو تصویر دی گئی ہے یہ اس کے ملنے کے کچھ عرصے بعد کی ہے گھر والے دیکھ کر ضرور پہچانیں لیں گے۔
آپکا ایک شئیر ایک لاچار بہن کو اپنوں سے ملانے کا سبب بن سکتا ہے۔ خوب زیادہ شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
یہ پوسٹ 16 اکتوبر 2026 کو بوقت صبح حرم مکی میں بیٹھ کر لکھی ہے۔خاندان ملنے کی دعا کے ساتھ ساتھ آپ سب کے لئے بھی بہت ساری دعائیں۔
#waliullahmaroof
کراچی کے گلشنِ حدید میں ایک خاندان کی موت کا واقعہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک دردناک سوال چھوڑ گیا ہے۔ مبینہ آخری خط میں مدد کے لیے رشتے داروں کے دروازے کھٹکھٹانے، انکار اور تنہائی کا ذکر ہے۔ ہم شاید کسی کی مالی مدد نہ کر سکیں، مگر اسے ذلیل کرنے کے بجائے حوصلہ تو دے سکتے ہیں۔ کسی کا حال پوچھنے کے لیے پیسے نہیں، احساس چاہیے۔اپنے آس پاس نظر رکھیں، ممکن ہے کوئی خاموشی سے ٹوٹ رہا ہو۔ کبھی آپ کا ایک فون، ایک جملہ یا تھوڑی سی مدد کسی کی امید بن جائے۔۔۔
یہ رویے شرمندگی اور دکھ کی حد سے بھی آگے ہیں ۔۔۔ 💔
ہمارے پاس روز گار نہیں ، پیٹ نہیں بھرتا ، پچھلے 6 ماہ سے رشتے داروں سے مدد مانگ رہے ہیں ،کبھی راشن کے لئے ، کبھی بچوں کے دودھ کے لئے، کبھی سیلنڈر میں گیس بھروانے کے لئے ہمِں پیسے دے دو۔۔۔ ہماری خالاوں ، چاچوں اور کزنز نے ہمیں ذلیل کر کے بلاک کر دیا کہ ہم سے پیسے مت مانگو ہہارا تمہارے ساتھ تعلق نہیں ۔۔مزید یہ بھی لکھا کہ اس ملک کے قانون سے کوئی امید تو نہیں ہے ۔۔۔ میت پر پانی ا ور کھانا کھانے والے لوگ آتے ہیں ۔۔کوئی کسی کی مدد نہیں کرتا،روڈ پر پڑی لاش کو کوئی بچانے کی کوشش نہیں کرتا ۔۔۔۔
یہ سب لکھا ہے کہ ان میاں بیوی نے اپنے آخری خط میں جسکے بعد انہوں نے بچوں کو زہر دے کرخود کشی کر لی۔ اپنے آس پاس نظر رکھیں کہ آپ کا اپنا مشکل میں تو نہیں ۔۔۔ کم از کم اچھے رویوں کے لئے تو پیسے نہیں چاہیئے ہوتے ۔۔۔
کراچی کے علاقے گلشن حدید میں نجی سوسائٹی کے گھر سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد میاں، بیوی، 2 بچیوں اور ایک خاتون کی لاشیں ملی ہیں۔ ریسکیو حکام کہتے ہیں کہ گھر سے 40 سال کےشاہ زیب،40 سالہ اہلیہ صباء، 5 سالہ بیٹی ایزل اور 4 سالہ بیٹی آریہ کی لاشیں ملی ہیں ۔پانچویں لاش 18 سالہ شمائلہ کی ہے جو شاہ زیب کی بہن ہے۔۔۔۔۔
گھر کے سربراہ متوفی شاہزیب کا خودکشی سے قبل لکھا گیا ۔۔۔۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ۔
ہمارے لیہ میں ہزاروں نوجوان بچیاں/خواتین استاد نان فارمل سکولز میں پڑھا رہی ہیں۔ان پر ڈسڑکٹ ایجوکیشن لیہ میں ایک میل لٹریسی کورڈینیٹر انور تھند کو لگایا گیا۔
مسٹر ٹھند پر فی میل ٹیچرز نے جنسی ہراسگی کا الزامات لگائے جو Anti harassment کمیٹی کی انکوائری کے بعد ثابت ہوا۔
حیرت کی بات ہے حیدر اقبال سیکرٹری لٹریسی لاہور نے ایک شرم ناک فیصلہ کیا کہ اس مجرم کو صرف minor سزا دی جائے گی اور چھ ماہ کے لیے increments نہیں ملے گی۔
یہ ہے آپ کے پنجاب کے بابو کا انصاف۔
وہ خاتون ٹیچر طویل عرصے تک انصاف کے لیے لڑتی رہی۔ ذہنی اذیت سے گزرے اور ایک لاہوری بابو سیکرٹری حیدر اقبال کے نزدیک جرم ثابت ہونے پر معمولی سزا بنتی ہے۔؟
یہ معاملہ پوائنٹ آئوٹ کرنے پر اسے صرف لاہور آفس بلایا گیا۔ کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ وہ آج کل پھر لیہ میں اپنے پرانے کام پر لگا ہوا ہے۔ وہ لاہور کی بجائے لیہ بیٹھا ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے اسے لیہ سے relive ہی نہیں کیا گیا۔
ویسے اس سیکرٹری لٹریسی حیدر اقبال کے خلاف مریم نواز صاحبہ، چیف سیکرٹری زاہد زمان صاحب کو کاروائی کرنی چاہیے اس نے کس کے دبائو یا سفارش پر جرم ثابت ہونے پر مائنر سزا دے کر دوبارہ لیہ میں اسی پوسٹ پر کام جاری رکھنے کی اجازت دے دی تھی؟
حیدر اقبال نے یہ شرم ناک فیصلہ کر کے مستقبل کے لیے دروازے کھول دیے ہیں کہ آپ فی میل کو ہراساں کرتے رہیں اور اگر پکڑے گئے تو کوئی نہیں چھ ماہ کے لیے increment رکے گی۔
حیرانی ہے جس افسر پر جنسی ہراسگی کے الزامات ثابت ہوچکے ہوں اسے دوبارہ اس پوسٹ پر کام کرنے کی اجازت بابو حیدر اقبال نے کیسے دے دی تھی؟
ہمارے دیہاتی علاقے روایتی ہیں جہاں اس طرح کے واقعات کی وجہ سے عام لوگ اپنی بچیوں کو پڑھنے اور جاب نہیں کرنے دیتے۔ اسے مجرم افسر کو سخت سزا کی بجائے حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
ویسے تو ایسے جرائم پر عام لوگوں کے نیفے میں پستول چل جاتے ہیں یہاں مائنر سزا دے کر ہمارے بابو حیدر اقبال نے دوبارہ اسی جگہ پوسٹ کر دیا۔ وہ موصوف آج کل پھر لیہ میں موجود ہیں۔
@MaryamNSharif@OfficialDPRPP@PunjabGovtpk@RanaSikandarH@CS_Punjab@CMShehbaz@DCLayyah0606
شکر گڑھ پنجاب سے ایک ضعیف اور کمزور ماں جی نے رابطہ کرکے کہا کہ
"بیٹا میرے دو بیٹے گونگے بہرے ہیں ۔ بڑا بیٹا 23 سال کی عمر میں آج سے 18 سال قبل گم ہوا تھا۔ آج تک وہ نہیں ملا ۔ میں چھوٹی سی دوکان لگاکر بچوں کی چیزیں بیچتی ہوں۔ بہت پریشان رہتی ہوں۔۔مرنے سے پہلے اس اس بچے کو گلے لگنا چاہتی ہوں"۔
ماں جی کا بیٹا بول اور سن نہیں سکتا جسکی وجہ سے شاید کہیں موجود ہو لیکن اپنا پتہ بتا نا سکتا ہوں۔ اسکی نشانی یہ ہے کہ ہونٹ پر چوٹ لگی تھی زخم کا نشان ہوگا ۔
برائے مہربانی اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ ایک بےبس ماں کو اسکے لخت جگر سے ملانے میں مدد کریں۔
آپکا ایک شئیر بہت بڑی نیکی کا سبب بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
7 oct 2026
#waliullahmaroof
بھوک ہڑتال پر شروع میں کافی شور مچ رہا تھا۔ پھر بعد میں بڑی قابلِ اعتماد معلومات آ گئی تھی کہ انہوں نے بھوک ہڑتال کی ہوئی ہے۔ اور بھوک ہڑتال کی جو وجوہات تھیں وہ ہمیں یہی پتہ چلی تھیں کہ ایک تو ان کو ابتدائی طور پر 24 گھنٹے لاک اپ میں رکھا ہوا تھا، تو باہر نہیں آنے دیتے تھے دوسری بات یہ تھی کہ ان کی جو بنیادی ضروریات ہیں جو ہم پہنچانا چاہ رہے تھے، وہ پہنچ نہیں پا رہی تھیں۔ تو جب یہ شور مچا ہے اور پھر انہوں نے جو پٹیشن فائل کی ہوئی تھی، یہ پھر لاسٹ ٹیوزڈے جو پچھلا منگل گزرا تھا، اس کی شام میں ان کی ضروریات کی اشیاء ڈلیور کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔
ابھی تو یہ ساری معلومات تیسرے ذرائع سے پتہ چل رہی ہیں، تو کسی چیز کی باضابطہ تصدیق نہیں ہے۔
پچھلے تین سالوں سے بہنیں کتنی مضبوطی سے کھڑی ہیں۔ اپنی خالہ اور امی کو ہی دیکھ لیں، انہوں نے کتنا زبردست اسٹینڈ لیا ہوا ہے اور اس سارے عرصے کے دوران اپنے بھائی کے ساتھ کھڑے رہنے کے موقف سے ذرا پیچھے نہیں ہٹیں۔ آپ نے خود دیکھا ہے کہ کس طرح انہوں نے گرمی، سردی، واٹر کینن، آنسو گیس کے باوجود وہ ڈٹی رہیں، تو ہم سب کا بطور فیملی یہ فرض بنتا ہے، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔
شیر شاہ خان
@KhanShershah
اسد کو والدین نے سماعت و گویائی سے محروم بچوں کے اسکول میں داخل کیا تھا۔ تیسری کلاس میں تھا۔
ایک دن اسکول یونیفارم اور اسکول بیگ سمیت آتے ہوئے لاپتہ ہوا تھا۔
اسد کو مبینہ طور پرُایک شیلٹر نے اٹھایا اور اپنے پاس رکھ لیا۔ نارووال سے شاید پہلے ملتان (کیونکہ اسد ملتان لکھ رہا تھا) لیکر گئے اور پھر لاہور لیجاکر رکھا۔
اسکا بچپنا کھالیا،اسکی تعلیم برباد کی،کوئی ہنر نہیں سکھایا ،ماں باپ کے سائے سے محروم رکھا۔
جب جوان ہوا اور (ناقابل ڈونیشن) ہوا تو اسکو بالغ قرار دیکر ادارے سے نکال دیا۔ کچھ دن سڑکوں پر دربدر گھومتا رہا پھر کسی نے اپنی شاپ میں رکھا وہاں کام کرتا اور رات کو سوتا۔
ہم جب اسد سے ملے تھے تو بہت مرجھایا ہوا ٹوٹا ہوا اور بکھرا ہوا تھا۔ جب خاندان ملا تو اسد کی جان میں جان آئی سینہ چوڑا ہوگیا تھا۔
کل جب گھر لیکر جارہے تھے تو جیسے جیسے علاقہ قریب آتا تو راستوں اور نہروں کو دیکھ کر اچلتا اور اشاروں میں کہتا کہ جب چھوٹا تھا تو یہ جگہیں میں نے دیکھی تھیں.
اب سوال یہ ہے کہ ظالموں اسکول یونیفارم میں ملے بچے کو اسکے گھر نہیں پہنچا سکتے تھے؟ اسکول کا نام واضح لکھا ہوا تھا ۔ اسکول لیجاتے وہاں سے پیرنٹس کو بلاکر بچہ حوالے کرتے۔
لیکن ظالموں تم لوگوں نے اسکے اپنے پیٹ کی آگ بڑھانے کے لیے اسے ایندھن بنایا اسکا سب کچھ تم نے چھین لیا۔والدین نے اپنی جمع پونجی لگائی۔بچے کے سترہ سال ضائع ہوگئے۔
ان شاءاللہ تم اس ظلم کا حساب دونوں جہانوں میں دوگے۔تم انسانیت کے دشمن ہو تم ظالم ہو۔
ماں نے جب اسد کو دیکھا تو پاگلوں کی طرح گلے لگ کر روتی رہی۔
ان شاءاللہ مکمل تفصیلی ویڈیو جلد آپ تک پہنچے گی۔
#waliullahmaroof #missingpersons #pakistan