حکومت کی طرف سے بجلی پروٹیکٹڈ صارفین کے متعلق نئی پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔
6 ماہ میں ایک بار بھی 200 سے زائد یونٹس استعمال کرنے پر پروٹیکٹڈ کیٹیگری ختم کر دی جائے گی مطلب 200 یونٹس سے ایک بھی یونٹ زیادہ ہونے پر بل کی تصحیح نہیں کی جائے گی۔
آئیے 200 یونٹ ماہانہ کا حساب جوڑتے ہیں کہ آخر کیسے ممکن ہے کہ ایک غریب بندہ 200 یونٹس کے اندر رہ کر گزارا کر پائے گا ۔
اوسطاً 1 پنکھا دن اور رات میں استعمال ہو تو تقریباً 2.5 یونٹ روزانہ ، 75 یونٹ ماہانہ
2 بلب + موبائل چارچر + ٹی وی وغیرہ 1 یونٹ روزانہ 30 یونٹ ماہانہ
فریج ، 2.5 یونٹ روزانہ ، 75 یونٹ ماہانہ
پانی والی موٹر ، اوسطاً 1.5 یونٹ روزانہ 45 یونٹ ماہانہ
استری : 0.75 یونٹ روزانہ ، 20 یونٹ ماہانہ ۔
واشنگ مشین ، ہفتے کے 3 یونٹ ، 12 ماہانہ
یہ کل 257 یونٹس بنتے ہیں ۔ یاد رہے کہ اس جمع جوڑ میں ائیر کولر کے 60 یونٹ ماہانہ شامل نہیں
یو ہی ایس کے 60 یونٹ ماہانہ شامل نہیں ،
سلائی مشین ، جوسر مشین ، بجلی سے چلنے والے چھوٹے برقی آلات وغیرہ بھی شامل نہیں ۔
اضافی یا دوسرے پنکھے (اگر بڑی فیملی ہو تو) کے 75 یونٹ ماہانہ ،
بڑے پمپ جو کہ اکثر علاقوں میں لگے ہوئے ہیں ، اضافی یونٹس ماہانہ ،
گیزر کے 45 یونٹس ماہانہ ،
اضافی لائیٹوں کے اضافی یونٹس ماہانہ ،
وغیرہ وغیرہ بھی شامل نہیں کئے گئے ۔ اس کے علاوہ بعض فیملیز بڑی بھی ہوتی ہیں ، بزرگ ، بیمار ، بچے اگر گھر میں ہوں تو اضافی پنکھے بلب وغیرہ لگتے ہیں۔
اب میرا پالیسی بنانے والے سنگدلوں سے سوال ہے کہ اس سارے حساب کتاب میں کیا غلط شامل کیا گیا ہے ؟ کون سی اضافی عیاشی اس کھاتے ہیں رکھی گئی ہے ؟
اگر ایمانداری سے جائزہ لیں تو یہ میں نے پھر بھی کم کر کے لکھا ہے ۔ ہر بندہ ان باریکیوں میں نہیں پڑتا ۔ کمی بیشی بھی ہوجاتی ہے ۔
ظالمو ، پوری دنیا میں بجلی تقریباً مفت تک پہنچ گئی ہے ۔ دنیا کہاں کی کہاں پہنچ چکی مگر منحوسو تم نے تو گویا غریب کی چمڑی اتارنے کا ٹھیکہ ہی لے لیا ہے ۔ دنیا سہولتوں سے بھر چکی ہے اور ظالمو تم نے تو ہماری ضرورتیں بھی چھین لیں !
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے مطابق شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے موٹرسائیکل ٹرانسفر فیس 605 روپے، ایڈیشنل رجسٹریشن مارک فیس 1000 روپے اور اسمارٹ کارڈ فیس 1300 روپے مکمل طور پر معاف کر دی گئی ہیں۔
اس سہولت سے شہری 6 اپریل تا 5 مئی 2026 تک فائدہ اٹھا سکیں گے۔
سوا 17 سو کی بجلی اور پونے 34 سو میٹر رینٹ
یعنی داڑھی سے بڑی مونچھیں
میٹر ہمارا، میٹر کے پیسے ہم دیں، دیوار ہماری پہ لگے، کھمبے ہمارے پہ لگے، پھر ہم میٹر کے بل کیوں دیں، میٹر کا رینٹ کیوں دیں، یہ ایک ظلم ہے اور اس ظلم کے خلاف پاکستانی آواز اٹھاؤ جس طرح میں نے آواز اٹھائی ہے آپ سب لوگوں کی ذمہ داری ہے اس کو شیئر کرو، لائک کرو، کمنٹس کرو تاکہ یہ پوسٹ جتنی زیادہ شیئر ہوگی اتنا احتجاج ریکارڈ ہوگا
آج ایک ایسی شخصیت دنیا سے رخصت ہوگئی جسے نہ ملنے کا دکھ ہمیشہ رہے گا ۔ مولانا مودودی کے بعد میں سب سے زیادہ ان کے علم اور فہم و ادراک سے متاثر ہوا ۔ ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری ۔ ایسا ماہر معاشیات و فلسفہُ کہ جس نے علامہ اقبال کی طرح مغرب کا مکمل رد کیا ۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے