پاکستانی عوام کا مطالبہ ہے ہمیں 40 نہیں 60 نہیں پورا 100 یا 150 روپے سستا پٹرول ڈیزل چاہیے پرانے ریٹوں والا
پٹرولیم کے ریٹوں میں کمی کی باقاعدہ مہم چلانی ھوگی ورنہ انکو کوئی اثر نہیں ھوگا
امیروں کو ریلیف نہ منظور
پانچ کروڑ روپے کا جرمانہ سامنے رکھ کر اگر آپ سے کہا جائے کہ “آپ آزاد ہیں، اپنی مرضی سے فیصلہ کریں”، تو یہ آزادی نہیں، خوف ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026 بظاہر 5G، فائبر آپٹک اور ڈیجیٹل پاکستان کی بات کرتا ہے۔ ترقی ہونی چاہیے، ضرور ہونی چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ترقی کی قیمت کون ادا کرے گا؟
ذرا سوچئے۔
آپ نے پوری زندگی کی کمائی سے گھر بنایا۔ قرض اتارے۔ بچوں کے خواب قربان کیے۔ پھر ایک دن آپ کو بتایا جائے کہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے آپ کی پراپرٹی تک رسائی درکار ہے۔
آپ کی ذاتی پراپرٹی کی رسائی کے متعلق، نئے قانون میں درج ہے کہ، کمپنی آپ کی رضامندی چاہے تو آپ اسے خود جواب دیں۔ اگر کمپنی کو آپکے "نا مناسب انکار" پر اعتراض ہوا تو ایک سیکریٹری لیول کا عہدیدار تیس دن میں اس شکایت کو سن کر فیصلہ کرے گا اور پراپرٹی مالک کو پانچ کروڑ تک جرمانہ کر سکتا ہے۔
میرا اعتراض ٹیلی کام انفراسٹرکچر یا 5G سے نہیں ہے۔
میرا اعتراض اس بات پر ہے کہ قانون یہ واضح نہیں کرتا کہ "نا مناسب انکار" آخر ہوتا کیا ہے۔
اگر ایک شہری کو پہلے سے یہ ہی معلوم نہ ہو کہ کون سا انکار جائز ہے اور کون سا پانچ کروڑ کے جرمانے کا سبب بن سکتا ہے، تو پھر قانونی تحفظ کہاں ہے؟
قانون میں یہ لکھا ہی نہیں ہے کہ یہ بے چارہ "نا مناسب انکار" انکی نظر میں کیا ہے۔ یعنی کہ آپ کا انکار ہی نامناسب انکار ہوگا۔
یہ رضامندی ہے یا دباؤ؟
یہ اختیار ہے یا دھمکی؟
یہ معاہدہ ہے یا مجبوری؟
قانون کہتا ہے آپ انکار کر سکتے ہیں۔
مسئلہ انکار کے حق کا نہیں، بلکہ اس حق کی حدود اور تعریف کے غیر واضح ہونے کا ہے۔
پہلے بھی لوگ اپنی پراپرٹی پر ٹیلی کام کمپنیز کے ٹاور لگوا کر پیسے کمارہے تھے، لیکن دونوں طرف آزاد رضامندی تھی پھر معاہدے طے پاتا تھا۔
سوال یہ ہے پھر یہ قانون کیوں بنانا پڑا؟
اس لئیے کہ ٹیلی کمپنیزی اگر زبردستی چاہٰیں تو حکام سے شکایت لگا کر جرمانہ کروا سکتی ہیں۔ اور جب قانون میں "نامناسب انکار" کی تعریف شامل نہیں تو ہر انکار "نامناسب انکار" بن جائے گا اور پراپرٹی مالکین دباو میں رضامند ہوں گے۔
یعنی کی زبردستی کرکے رضامندی لی جائے گی۔
یہی اس بل کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔
دنیا بھر میں نجی ملکیت کا حق صرف زمین کا حق نہیں ہوتا، یہ آزادی کا حق ہوتا ہے۔ جس دن ریاست شہری کے “نہیں” کہنے کے حق کو کمزور کر دے، اسی دن “ہاں” کی اخلاقی حیثیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔
مجھے 5G سے اختلاف نہیں۔
مجھے فائبرائزیشن سے اختلاف نہیں۔
مجھے ڈیجیٹل پاکستان سے اختلاف نہیں۔
لیکن مجھے اس سوچ سے اختلاف ہے کہ ایک عام شہری کے سر پر پانچ کروڑ روپے کی تلوار لٹکا کر پھر اس کی رضامندی کو رضامندی کہا جائے۔
یاد رکھیے۔
جائیداد کا حق صرف اس وقت تک حق ہے جب مالک کو “نہیں” کہنے کا حقیقی حق حاصل ہو۔
ورنہ پھر گھر آپ کا ہوتا ہے، اختیار کسی اور کا۔
نوٹ: یہ قانون قومی اسمبلی سے پاس ہوکر سینیٹ میں زیر بحث ہے جس پر بحث فل حال موخر کردی گئی ہے۔ بس آپ قومی اسمبلی سے پاس ہوجانے کا مزا لیجئے کہ کیسی خامی کیساتھ پاس ہوگیا۔ امید ہے کہ سینیٹ اس قانون کو یا تو مکمل طور پر رد کر دے گا یا پھر نقائص درست کرواکر پاس کروائے گا۔
شہزاد احمد مرزا
ایران/امریکہ جنگ شروع ہونے سے پہلے عالمی مارکیٹ میں جو ریٹ تھا۔۔آج تیل اس سے بھی سستا ہو چکا ہے
مگر
پرانے سٹاک پر فورا قیمت بڑھا کر آئل کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے والی حکومت
اب پاکستان میں نئے ریٹ کے مال پہنچنے کا انتظار کرے گی؟ تاکہ
آئل کمپنیوں کو نقصان نا ہو؟
(اسد آر چوہدری)
ہت دفعہ لکھا کہ نون لیگ کی موجودہ حکومت مکمل عوام دشمن ہے ان سے جو مرضی کروا لیں یہ شوق اقتدار میں کر لیں گے اب نون کی وزیر شزا فاطمہ صاحبہ نے قومی اسمبلی سے قانون منظور کروا لیا کہ کسی کے گھر ذاتی جائداد سے فائبر تاریں گزار سکتے اگر کوئی کھمبا جرنیٹر لگانا تو تیس دن میں گھر خالی کرنا ہو گا اگر نا کیا تو پانچ کروڑ جرمانہ اس فون کمپنی کو دیں گے
یہ آپ سب کے گھروں کا سودا ہے اور قومی اسمبلی کے انگوٹھا چھاپوں نے بغیر پڑھے یہ بل پاس بھی کر دیا تھا
اب کیا اس کام پر نون کی حکومت کی تعریفیں کریں ؟
وزیر پیٹرولیم نے ہی کہا تھا کہ ہمارے پاس 1 ماہ کا ذخیرہ موجود ہے اور ساتھ ہی 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا تھا اس وقت نہ جمعے کا نہ ہفتے اتوار، پیر منگل اور نہ ہی بدھ جمعرات کا انتظار کیا تھا
مگر اب ایک ہفتہ ہوگیا عالمی منڈی میں خام تیل مسلسل کم ہو رہا ہے اور وہی منسٹر صاحب فرما رہے ہیں جمعے تک انتظار کریں تاکہ غریب پیٹرولیم کمپنیوں کو نقصان کم سے کم ہو...!
عوام کی کھال اتارنی ہے بس ،، چاہے جنگ سے پہلے ہو یا بعد میں ۔
آسٹریلوی پاسپورٹ کی طاقت : سی سی ڈی نے ہزار کے قریب پاکستانی بندہ مار دیا مگر کبھی وضاحت پیش نہیں کی جبکہ ہانیہ معصوم بچی کے قتل پر کیونکہ آسٹریلیا سے پریشر آیا تو پہلے چٹھہ صاحب خود گھر گئے ، پھر CCD نے پریس کانفرنس کی، مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کی اور آج پھر سے آئی جی اور سی سی ڈی کی پریس کانفرنس - حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی کی جان کی قیمت نہیں ہے
آج عالمی منڈی میں پیٹرول عمران خان کے دور سے کم و بیش 30 فیصد کم قیمت پر میسر ہے تو حکومت کو فوراً عوام کو ریلیف دینا چاہیے۔
یاد رہے کہ رجیم چینج آپریشن کے وقت قیمت 150 روپے فی لیٹر تھی۔
Iran has launched a series of missile attacks on Israel, after Israel went on bombing Beirut. The West will now blame Iran for violating ceasefire but it was silent when Israel kept on bombing Lebanon and killing Lebanese civilians despite a ceasefire.
پیٹرول 26 روپے قیمت کم ہونی تھی لیکن حکومت نے صرف 4 روپے کم کی کیونکہ انہوں نے لیوی 22 روپے مزید بڑھا دی
یہIMF کا جواز جو پیش کیا جاتا ہے وہ بھی غلط ہے کیونکہ IMF نے کہا تھا 80 روپے تک لیوی بڑھائی جاۓ عالمی مارکیٹ کے مطابق پاکستان میں تیل کی قیمت 236 روپے ہونی چاہیے تھی
ثروت ولیم
بھارت پہلے ہی بگلیہار، سلال اور دلہستی ڈیم بنا چکا ہے، اب دریائے چناب سے سرنگ نکالنے کی تیاری کر رہا ہے۔ادھر ��اکستانی حکمران عوام کے حقوق چھیننے میں لگے ہیں، اور ادھر دشمن ہمارے دریاؤں پر قبضہ کر رہا ہے۔
🚨ہم جیل میں آئے ہوئے ہیں یا حج کرنے ؟ 12،12 لاکھ ہم نے دیا ہے اور یہاں انتظامات انتہائی ناقص ،پاکستانی حجاج نے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کو گھیر لیا، شدید احتجاج
جو حج کر رہے ہیں وہ بتائیں کیا سب جگہ یہ حال ہے؟
اسلام آباد ائیرپورٹ پر ایک اور طالب علم ایف آئی اے کے جابرانہ رویے کا شکار ہو گیا
تمام دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود ایف آئی اے نے ایک طالب علم کو سٹڈی ویزہ پر باہر جانے سے روک دیا ، ایف آئی اے اہلکار طالب علم کے کسی سوال کا جواب نہ دے سکے
@PakPMO@MohsinnaqviC42@FIA_Agency
En Chipre, en el aeropuerto internacional de Ercan, un colono sionista de "Israel", de 24 años, fue pillado con 4 embriones humanos escondidos en su maleta y fue arrestado por tráfico ilegal de tejido humano.
El traficante se dirigía a México, los embriones fueron tomados de una clínica ilegal y nadie sabe de dónde salieron ni quién era el destinatario.
En todos los asuntos turbios, siempre está metido el sionismo, ¿que les pasa a esta gente en la cabeza?