وادیٔ تیراہ سے رواں سال جنوری کے اوائل میں ممکنہ فوجی آپریشن کے خدشے کے پیش نظر 40 ہزار سے زائد خاندانوں نے دوسری بار نقل مکانی کی۔ یہ خاندان اب ضلع خیبر، پشاور اور نوشہرہ میں کرائے کے مکانات، خیموں اور دیگر عارضی رہائش گاہوں میں محدود وسائل کے ساتھ مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:
https://t.co/6gvwNAz39a
حکام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ نقل مکانی سے قبل ضلعی انتظامیہ نے تیراہ میں موجود خاندانوں کی تعداد کے حوالے سے غلط تخمینے لگائے تھے۔ حکام کے مطابق، وادی میں 19 ہزار خاندان یعنی ایک لاکھ سے زائد افراد موجود تھے۔
https://t.co/3FMZfFnBDH
Unrest in Bara, Khyber district, continues unabated. A drone strike on a home in Akakhel killed a 14-year-old girl and seriously wounded several women and children. In response, the Bara Siasi Ittehad (BSI) has announced a major protest sit-in in Peshawar on May 7.
Read details:
https://t.co/wJ7e6fAWD7
چھ ستمبر سے پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کا نیا تعلیمی سال شروع ہو چکا ہے، تاہم گذشتہ سال کی نسبت نصف سے بھی کم بچے کالج پہنچ سکے۔ محمد عاصم گیارہویں جماعت کا طالبِ علم ہے، لیکن اس کی دسویں جماعت کے ساٹھ ہم جماعتوں میں سے صرف بیس ساتھی ہی کالج میں داخلہ لے سکے۔ اس کمی کی وجہ پاکستان کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کے انخلا کا اعلان ہے۔
https://t.co/fUgGpgShuu
د خیبر پښتونخوا اعلی وزیر علي امین ګنډاپور له رسنیو سره په خبرو کې ویلي چې له فدرالي پالیسۍ سره موافق نه دی. هغه ویلي افغانانو ته باید تابعیت ورکړل شي. نه دا چې په زوره له پاکستان څخه وویستل شي.
@pajhwok