@ThokaReturns While the Indian Army tries to seal off areas and intimidate locals in Srinagar, the freedom fighters keep proving they control the narrative and the ground. That video says everything.
@BalochistanPost بغیر کسی ٹھوس ثبوت، نام، تاریخ اور مقام کی تصدیق کے اس طرح کے سنگین الزامات لگانا صحافت نہیں بلکہ پروپیگنڈا ہے۔ پہلے حقائق چیک کرو پھر الزام لگاؤ۔
پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ریاست ہے اور اس کی عوام کسی وڈیرے، سردار یا سیاستدان کی غلام نہیں اب حساب ہوگا، اور فیصلے بھی، جو ریاست دنیا کی تمام تر پابندیوں اور مشکلات کے باوجود 'ایٹمی طاقت' بن سکتی ہے، کیا وہ اپنے شہریوں کو پینے کا صاف پانی، ہسپتالوں میں بہتر علاج اور ادویات اور سکولوں میں چھت نہیں دے سکتی؟
بالکل دے سکتی ہے۔۔! مسئلہ صلاحیت کا نہیں، نیت اور اس پرانے فرسودہ نظام کا ہے جس پر وڈیروں، سرداروں اور مفاد پرست سیاستدانوں کا قبضہ ہے جنہوں نے عدالت جو ریاست کا نظام چلاتی ہے اس انصاف کے ادارے کو اپنی لونڈی بنا رکھا ہے۔
صرف سندھ کو گزشتہ 18 سالوں میں 23 ہزار ارب روپے سے زائد کا بجٹ ملا، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ کہاں گیا؟
اور باوی صوبوں کا بھی حال کچھ اسی طرح ہے جہاں نہ ہسپتالوں کی حالت بدلی، نہ سکول بہتر ہوئے، اور نہ ہی عام آدمی کی زندگی میں کوئی انقلاب آیا۔
عدالتیں مقدمات کے انبار تلے دبی ہیں اور طاقتوروں کا احتساب کرنے سے قاصر ہیں۔ اب یہ ڈرامہ چند مٹھی بھر افراد کے ہاتھ میں مزید نہیں چلے گا،
جب تک حکمرانی کا نظام عام آدمی کی دہلیز تک نہیں پہنچے گا، یہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس کا واحد حل انتظامی بنیادوں پر نئے اور چھوٹے صوبے بنانا ہے تاکہ پاور اور وسائل نچلی سطح پر منتقل ہوں۔
نہ اب کسی وڈیرے کی دھمکی چلے گی، نہ کسی سردار کا حکم، نہ سیاسی سودے بازی ہوگی اور نہ ہی عوامی حقوق پر ڈاکا ڈالا جائے گا۔
پاکستان کسی ایک خاندان، وڈیرے یا سیاسی لاٹ کی جاگیر نہیں ہے۔ یہ ملک ان کروڑوں غیرت مند عوام کا ہے جو اب اپنے حق کے لیے بیدار ہو چکے ہیں، اگر کسی کو شک ہے تو ریفرنڈم کروا لے عوام کی رائے لے سکتا ہے، اب بنے گا وہ اصل پاکستان جس کا خواب علامہ اقبالؒ نے دیکھا تھا اور جس کی بنیاد قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے رکھی تھی۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
@Afghan_Speaks1 Five years of Taliban rule = poverty, hunger, and stolen wealth. Their “system” is just organized plunder. Afghanistan deserves freedom from these thieves.
@PTIofficial پی ٹی آئی پھر وہی ہمدردی والا بیانیہ بیچنے کی کوشش کر رہی ہے: جیل، تنہائی، بیماری اور سازش۔ ہر معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے قابلِ تصدیق ثبوت پیش کیے جائیں۔
نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام صرف انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کا عملی ذریعہ ہے۔ جب یونٹ بڑا ہو تو مرکز سے دور کے علاقے اکثر نظرانداز رہ جاتے ہیں، فیصلے دیر سے ہوتے ہیں اور وسائل بھی چند بڑے شہروں تک محدود رہتے ہیں۔ چھوٹے یونٹس میں حکومت عوام کے قریب آ جاتی ہے، مسائل جلد سنے جاتے ہیں اور حل بھی تیزی سے نکلتا ہے۔
تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں میں سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ چھوٹے صوبے یا ڈویژن میں سکول، کالج، ہسپتال اور بنیادی صحت مراکز کی نگرانی آسان ہو جاتی ہے، اساتذہ اور ڈاکٹروں کی حاضری بہتر ہوتی ہے اور مقامی ضروریات کے مطابق سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ صفائی، پینے کا پانی، نکاسی آب اور سڑکوں کی مرمت جیسے روزمرہ کے کام بھی جلد مکمل ہوتے ہیں کیونکہ فیصلہ سازی کا سلسلہ مختصر ہو جاتا ہے۔
معاشی طور پر بھی یہ تبدیلی اہم ہے۔ پسماندہ علاقے، جو بڑے صوبوں میں وسائل کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں، اپنے وسائل، زراعت، صنعت اور سیاحت کو خود ترقی دے سکتے ہیں۔ مقامی سطح پر روزگار کے منصوبے بنتے ہیں، سرمایہ کاری بڑھتی ہے اور نوجوانوں کو اپنے علاقے میں کام کے مواقع ملتے ہیں۔ اس سے ہجرت کم ہوتی ہے اور دیہی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔
وسائل کی تقسیم بھی زیادہ منصفانہ ہو جاتی ہے۔ بڑے صوبے میں بجٹ اکثریتی آبادی والے یا سیاسی طور پر بااثر علاقوں کی طرف چلا جاتا ہے، جبکہ چھوٹی یونٹ میں ہر علاقے کی اپنی ترجیحات کے مطابق بجٹ لگایا جا سکتا ہے۔ اس سے علاقائی عدم توازن کم ہوتا ہے اور ہر خطے کو اپنی ترقی کا موقع ملتا ہے۔
قانون و نظم، قدرتی آفات اور مقامی تنازعات سے نمٹنے میں بھی چھوٹی انتظامیہ زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے۔ پولیس، انتظامیہ اور مقامی نمائندے عوام کے قریب ہوتے ہیں، شکایات جلد سننے میں آتی ہیں اور احتساب بھی آسان ہوتا ہے۔ نتیجتاً عوام کو ریاست سے تعلق محسوس ہوتا ہے اور اعتماد بڑھتا ہے۔
مجموعی طور پر چھوٹی اور موثر انتظامی تقسیم عوام کو بہتر خدمات، تیز ترقی اور زیادہ باعزت زندگی دے سکتی ہے۔
#PublicRejectsPTI
#RefrendemForProvince
#آفریدی_ذہنی_مریض
#SindhRejectsSohailAfridi
@BalochistanPost دی بلوچستان پوسٹ ہندوستان کے ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے BLA اور BYC جیسے دہشت گرد گروہوں کا بیانیہ چلا رہی ہے تاکہ فوج کی کامیابیوں کو چھپایا جا سکے اور دہشت گردی برقرار رہے۔
Different countries, different cultures, but we can still grow together. 🌍🤝❤️
Let’s connect, support and help each other move forward. 💯🚀
No matter where we come from, genuine support brings us closer. 🌎❤️
You support me, I support you.
💯 FB
https://t.co/6WaTfasVvk
"Letting other people's opinions dictate your mood is like giving a stranger the key to your house."
لوگوں کی رائے پر اپنا مزاج قائم کرنا ایسے ہے جیسے آپ نے اپنے گھر کے دروازے کی چابی کسی اجنبی کے ہاتھ میں دے دی ہو۔.
https://t.co/rbw2CLbUQH
#SindhRejectsSohailAfridi
— سیاسی مہم شاید نئی تھی، مگر سوال پرانے تھے۔ سندھ کے عوام نے تقریر سننے کے بجائے کارکردگی کا ترازو نکالا، اور نتیجہ سہیل آفریدی کے حق میں نہیں آیا۔
#SindhRejectsSohailAfridi
سہیل آفریدی سندھ میں سیاسی اثر بنانے آئے تھے، مگر سندھ کے عوام نے انہیں بتایا کہ اثر تقریروں سے نہیں بنتا۔ عوامی اعتماد مسلسل کام، خدمت اور نتائج سے حاصل ہوتا ہے۔
#SindhRejectsSohailAfridi
خیبر پختونخوا کے عوام کو سڑکیں، صحت، تعلیم اور دوسری بنیادی سہولیات چاہئیں، مگر سیاست کہیں اور جاری ہے۔ سندھ کے عوام نے ایسے سیاسی سفر کو قبول کرنے سے پہلے ہی مسترد کر دیا۔
#SindhRejectsSohailAfridi
خیبر پختونخوا کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، مگر سہیل آفریدی نے مسائل حل کرنے کے بجائے ہمیشہ اپنی گندی سیاست چمکانے کو ترجیح دی۔ اب سندھ کے عوام کو بھی بیوقوف بنانے پہنچے، مگر سندھ نے مسترد کرکے اصلیت دکھا دی۔
ایکشن کمیٹی کا ایک لیڈر دوسرے سے : تم لوگ مطالبات منوانا نہیں دوسروں کے بچے مروانا چاہتے ہو
دوسرا : تم ہمیں مروانا چاہتے ہو ہمارے بچے یتیم کروانا چاہتے ہو
پہلا :تم کیسے پتا
دوسرا : میں سب کچھ جانتا ہوں تمھارا طریقہ کار خود لوگوں کو بتا رہا ہے تمھارے احتجاج کی کالیں اور اسلحے کا بندوبست بتا رہا کہ تم ہماری لاشوں سے کم پہ راضی نہیں
خبردار لوگوں ان کی کالوں پہ مت نکلنا ان کے ساتھ مت چلنا یہ تمھارے بچے یتیم کرنے کا بندوبست کر چکے ہیں
بھارت سے حاصل پیسوں پر جھگڑا ایکشن کمیٹی کے لیڈر نے ایکشن کمیٹی کی منصوبہ بندی کا پول کھول دیا