عوام کے لیے مہنگائی اور بھوک
حکمرانوں کے لیے نئی گاڑیاں، نئے محل اور نئی عیاشیاں۔
لوٹ کھسوٹ کا کاروبار زوروں پر ہے
اور قوم کی خدمت کا ڈھونگ بھی جاری ہے۔
کیا خوب حکمرانی ہے!
پٹرول کے نرخ آسمان چھونے لگے
حکومت کی سنگدلی دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے
خالی جیب، مہنگا پٹرول، بھوکے پیٹ زندگی جہنم بن چکی ہے
یہ بے رحم حکمران عوام کے درد سے اندھے اور بہرے ہو چکے ہیں
بس اپنے محل، کرسی اور عیش کا خیال ہے
عوام کی تڑپ اور آہوں کا نہیں۔
شرم کرو… ذرا شرم کرو!
مریم نواز کو صرف عورت ہونے کی وجہ سے نشانہ بنانے والے سب کے سب حرامی ہیں۔
سیاسی اختلاف الگ چیز ہے، مگر عورت ہونے پر طعنہ زنی کرنا کمینگی اور بے غیرتی ہے۔
ایسے لوگوں کا کوئی وقار نہیں۔
#مریم_نواز#عورت_کے_خلاف_حملہ
خان صاحب کو اسپتال شفٹ کریں گے وہاں سے کچھ دن بعد ملک سے باہر ۔ 27 ستمبر اکتوبر کے پہلے دوسرے ہفتے تک reschedule ہوگا۔ نومبر موجودہ حکومت کا پایہٌ تخت ہلا دیگا ۔ ذرائع ۔ آج 5 اکتوبر کی تاریخ کا ذکر ہوتا رہا،اسلام آباد دھرنے کے لئے ۔ یہ سب کافی حد تک ایسا ہی ہوتا نظر آرہا ہے۔
میں کوہاٹ کا ہندکو بولنے والا ہوں اج سے 55 سال پہلے جب میں 7 سال کا تھا تو کوہاٹ کے پبلک اسکول میں میرے ساتھ بیٹھے لڑکے [فاروق} نے کہا کہ تم تو باہر سے اےَ ہو، واپس پنجاب جاو۔
میں لاہور، پنجاب میں 44 سال سے رہ رہا ہوں، مجھے کبھی کسی پنجابی نے یہ نہیں کہا واپس خیبرپختونخواہ جاو۔ میرے سب سے لنگوٹیے دوست پکے لاہوری ہیں۔
پاکستان میں ہاؤسنگ یا کمرشل پراجیکٹ میں قسطوں پر سرمایہ کاری کبھی مت کریں۔ بہتر ہے پہلے بچت کریں اور تیار شدہ پراپرٹی خریدیں۔ اچھے بلڈرز بھی ہونگے، مگر فراڈیوں اور لوگوں کی جمع پونجی ہڑپ کرنے والوں کی تعداد کثرت میں ہے۔
اپنی عمر بھر کی کمائی کسی کے وعدوں کے حوالے بلکُل نہ کریں!
لاہور؛ 24 ستمبر
وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت سُتھرا پنجاب کا جائزہ اجلاس
سیکرٹری بلدیات زید بن مقصود اور ڈی جی سُتھرا پنجاب عمر جاوید کی شرکت
پنجاب بھر کی ضلعی ایجنسیز کے مینجنگ ڈائریکٹرز بذریعہ ویڈیو لنک شریک
وزیراعلی مریم نواز کی ہدایت پر ہر ماہ ایجنسیز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، ذیشان رفیق
پنجاب بھر میں اینٹی لٹرنگ انسپیکشنز میں بھی تیزی لائی جا رہی ہے، وزیر بلدیات
ایک ماہ میں 22 ہزار 466 وزٹس کے دوران 2121 خلاف ورزیاں ریکارڈ ہوئیں، وزیر بلدیات
آگاہی مہم کے باوجود گندگی پھیلانے پر جرمانے کئے جائیں گے، وزیر بلدیات
لاہور میں اینٹی لٹرنگ مہم میں سیف سٹی نیٹ ورک سے بھی مدد لی جائے گی، ذیشان رفیق
سُتھرا پنجاب کے فیلڈ لوڈر رکشوں کی ڈیجیٹل ٹریکنگ شروع ہوگئی ہے، وزیر بلدیات
صوبائی وزیر کا سُتھرا پنجاب اتھارٹی کے پیش کردہ بیٹ پلان پر اظہار اطمینان
ویسٹ انکلوژرز اور عارضی کولیکشن پوائنٹس کی ٹریکنگ پر بھی کام ہورہا ہے، ذیشان رفیق
بیٹ کے اندر مقررہ گھنٹے موجودگی اور مائیلج پوری کرنا ضروری ہے، سیکرٹری بلدیات
یونیفارم کے بغیر ڈیوٹی کرنے پر کارروائی کی جائے گی، زید بن مقصود کی تنبیہ
فیلڈ مانیٹرنگ آفیسرز کے دوروں کی ہفتہ وار رپورٹ اپ لوڈ ہو رہی ہے، ڈی جی سُتھرا پنجاب
اوکاڑہ، ساہیوال اور پاکپتن میں آن لائن انوائسز کا آغاز ہو گیا، ڈی جی عمر جاوید
باقی اضلاع میں بھی آن لائن انوائسز کا آغاز جلد ہو جائے گا، ڈی جی سُتھرا پنجاب
مینا خان آفریدی اور شفیع خان کو خواتین کے بارے میں بات کرنے کا بڑا شوق ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم پڑھے لکھے مڈل کلاس کے لوگ ہیں، لیکن مجھے افسوس ہے کہ ان کی مائیں اور بہنیں ان کی ایسی باتوں کے بارے میں کیا سوچتی ہوں گی۔ ثمر ہارون بلور
@ammarmasood3@SamarHBilour
ایک بے مقصد مسلح تحریک جس کی کوئی شرعی توجیہہ نہیں ہو سکتی دو مسلمان ممالک کو ایک بار پھر جنگ کے دھانے پر لے آئی ہے۔ کوہاٹ میں جو خود کش حملہ ہوا اس کا فائدہ کس کو ہوا؟ جہاد کے نام پر دہشت گردی کرنے والے یہ گروہ کبھی نہیں سمجھ پاتے کہ وہ جو کر رہے ہیں اس کے عواقب کیا ہوں گے۔
یہ ساری جنگ امریکا کی اس خطے میں فوجی مداخلت کے بعد شروع ہوئی۔ امریکا اور طالبان نے صلح کر لی اور طالبان امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ زلمے خلیل زاد امریکا اور طالبان کے درمیان پل بنے ہوئے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد طالبان کے رہنما امریکی خفیہ ایجنسی کے عہدیداروں سے کئی خفیہ اور علانیہ ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ لیکن طالبان کے حامی اور بیعت شدہ گروہ پاکستان میں مسلح کارروائیاں کر رہے ہیں اور اسے ’جہاد‘ قرار دے رہے ہیں۔ یہ کون سا جہاد ہے؟
کوہاٹ میں جو حملہ ہوا اس کے بعد پاکستان نے کنٹر اور پکتیکا میں فضائی حملے کیے‘ پھر اگلے دن طالبان نے آٹھ ڈرونز بھیجے اور بارڈر پر پاکستانی پوسٹوں پر حملے کیے آج پاکستان نے براہ راست طالبان کے فوجی مراکز کو نشانہ بنا ڈالا۔ یعنی ایک حملے کی وجہ سے مزید کئی لوگ مارے جا چکے۔ کوہاٹ والے حملے کا کیا فائدہ ہوا اور کس کو ہوا؟؟
شاید القاعدہ برصغیر کو اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ بہت بڑا بلنڈر ہو گیا ہے اسی لیے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا مگر اس سے کون سا حالات واپس اس سطح پر آجائیں گے جہاں پہلے تھے۔ ترکی‘ قطر اور چین کی کوششوں کو کوہاٹ حملے نے زمین بوس کر دیا اور اس کا سارا نقصان طالبان کو ہو رہا ہے۔ طالبان کو اگر پاکستان اور اس کے شہریوں کی پرواہ نہیں تو کم از کم اپنی حکومت اور اقتدار کی پرواہ ہی کر لیں اور ان گروہوں کی پشت پناہی چھوڑ دیں جو جہاد کے نام پر فساد برپا کیے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے اٹھارہ ہزار سے زائد علماء کرام ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کو فساد قرار دے چکے ہیں۔ کوئی ایک بھی عالم ایسا نہیں پورے ملک میں جو اس فساد کو جہاد قرار دینے پر تیار ہو۔ مفتی نور ولی 2004 والا جو فتویٰ دکھا دکھا کر لوگوں کو گمراہ کر تے رہتے ہیں اس فتوے میں ایک سطر بھی ایسی نہیں کہ جس میں پاکستان کی ریاست کے خلاف مسلح کارروائیوں کا جواز نکلتا ہو۔ پھر کیا مقصد اس ساری لڑائی کا؟
یہ گروہ جن میں تحریک طالبان پاکستان‘ تحریک طالبان غزوہ ہند‘ القاعدہ برصغیر اور اس کی پراکسی انقلاب اسلامی پاکستان‘ جماعت الاحرار اور لشکر اسلام وغیرہ شامل ہیں سب نے طالبان کے امیر کی بعیت کی ہوئی ہے۔ ان کے اقدامات سے طالبان کا اپنا اقتدار خطرے میں پڑ رہا ہے۔ ان کے لیے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ پاکستان ایک بڑا ملک ہے اور موجودہ دہشت گردی سے زیادہ بڑی اور تباہ کن لہر کا مقابلہ بھی کر چکا ہے اور اسے شکست بھی دے چکا ہے۔ یہاں کا حکومتی ڈھانچہ طالبان کے حکومتی ڈھانچے کی طرح نومولود نہیں۔ اس میں بہت گہرائی ہے۔ بڑے بڑے جھٹکے سہہ سکتا ہے مگر طالبان کا اقتدار ابھی دودھ پیتا بچہ ہے۔ ان سب گروہوں کی قیادت سے میرا سوال ہے کہ اگر آپ لوگوں کی اس مہم جوئی کی وجہ سے طالبان ہی اقتدار سے محروم ہو گئے تو کیا فائدہ ہو گا آپ کے ’جہاد‘ کا؟ پاکستان میں اپنے برانڈ والی شریعت نافذ کرتے کرتے افغانستان سے اپنے برانڈ والی شریعت کا خاتمہ بھی کروا بیٹھیں گے۔ میری اطلاعات اور جائزے کے مطابق ابھی تک پاکستان نے ایسی پالیسی نہیں بنائی کہ طالبان کی طرح وہاں پراکسیوں کی سرپرستی کر کے حکومت گرانے کی کوشش کی جائے لیکن اگر پاکستان نے فیصلہ کر لیا تو طالبان کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ ان کے لیے کیا کیا مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بہتر ہے طالبان اور ان کی سب پراکسیاں اس خواہ مخواہ کی دہشت گردی کو ترک کریں۔ طالبان ان سب جہادیوں کو افغانستان کی شہریت دے کر ادھر ہی آباد کر لیں۔ جو پاکستان میں آگئے ہیں ان سے یہاں نمٹ لیا جائے گا۔ پاکستان کو بھی چاہییے کہ جو ہتھیار ڈالنا چاہیں ان کے لیے کوئی چینل کھولیں تاکہ جو اس خواہ مخواہ کی مارا ماری سے جان چھڑانا چاہتے ہوں انہیں کوئی امید کی کرن نظر آئے۔
جب کمینے عروج پاتے ہیں
اپنی اوقات بھول جاتے ہیں !
وفاقی وزیر عطاءاللہ تارڑ کے خلاف بات کرتے ہوئے اسد قیصر کو شرم آنی چاہئیں۔ افسوس ہوتا ہے اسد قیصر اس عمر میں لونڈوں لپاڑوں کی زبان کرتے ہیں۔
@TararAttaullah@AsadQaiserPTI
صوبے پی ایس پی رولز تبدیل نہیں کر سکتے۔ ایسی پولیس جو دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہے، شہادتیں دے رہی ہے، اس کے کمانڈ اسٹرکچر کو تبدیل نہیں کر سکتے، ایک ایسی قانون سازی سے جو پاکستان کے آئین سے متصادم ہے۔ آپ نے صرف آئی جی کے اختیارات واپس نہیں لیے، آپ نے پورا کمانڈ اسٹرکچر تباہ کر دیا ہے، طلال چوہدری
اسلام آباد کو سومنات بنانے کی دھمکی دیکر یہ کونسی رعایت کی توقع کررہے ہیں؟جس ریڈیو پاکستان سے قیام پاکستان کا اعلان ہوا،کل ہی اس کو ہم نے فعال کیا ہے،اب یہ دوبارہ قومی تنصیبات کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔
اسلام آباد سومنات نہیں ہے اور نہ ہی جنید اکبر محمود غزنوی ہیں۔
تحریکِ انصاف کی قیادت فرمائشی گرفتاریاں دے رہی ہے۔ تحریکِ انصاف کی قیادت کے دھرنوں اور جلسوں میں کسی کی انگلی تک نہیں کٹی، لیکن کارکن خوار و رسوا ہو گئے ہیں۔ ان کی مائیں ہمارے قدموں میں دوپٹے ڈالتی ہیں کہ ہمارے بچوں کو جیلوں سے نکلوائیں، کیونکہ تحریکِ انصاف انہیں پوچھتی تک نہیں۔
قاسم خان لندن سے ٹویٹ کرتے ہیں کہ حق کے لیے لڑو، لیکن میں ان سے کہتی ہوں کہ آپ بھی آئیں اور اپنے والد کی لڑائی خود بھی لڑیں۔ ثمر ہارون بلور
سہیل آفریدی کے قریبی رشتہ دار ہادی عرف پتنگ، جو صوبے پر قابض آفریدی گروہ کے فرنٹ مین ہیں، حال ہی میں دبئی فرار ہوئے ہیں۔ ایف آئی اے ان کے ذریعے اربوں روپے کی ہنڈی منتقلی کی تحقیقات کر رہی ہے۔ وہ بیوروکریسی میں تبادلوں اور تعیناتیوں پر بھی اثرانداز ہوتے رہے ہیں۔
سہیل آفریدی کبھی سندھ اور کبھی لاہور میں ہوتے ہیں، جبکہ صوبہ ہادی عرف پتنگ اور ان کے بھائی نوید آفریدی چلاتے ہیں۔ میٹنگز وہ چیئر کرتے ہیں اور سیکریٹریز و دیگر افسران سے بریفنگز لیتے ہیں۔ ثمر ہارون بلور
@ammarmasood3@SamarHBilour
خیبرپختونخوا میں کوئی حکومت نظر نہیں آتی۔ جب سے سہیل آفریدی آئے ہیں، گورننس نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ وہ تو عشقِ عمران میں مبتلا ہیں۔
تحریکِ انصاف نے پختون معاشرے کے وقار کو مجروح کیا ہے۔ جب ہم سیاست کے لیے گھر سے نکلے تو لوگوں نے میرے سر پر چادر رکھی، لیکن یہاں اسمبلی کے فلور پر خواتین کے خلاف جس طرح کی زبان استعمال کی جاتی ہے، اسے دیکھ کر لوگ سوچتے ہوں گے کہ کیا پختون ایسے ہوتے ہیں؟ ثمر ہارون بلور
@ammarmasood3@SamarHBilour
🚨 بریکنگ نیوز: 9 مئی 2023ء کو ریڈیو پاکستان پشاور پر ہونے والے حملے کے کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت (ATC-III) میں پولیس کی جانب سے انتہائی اہم اور سنسنی خیز پیشرفت رپورٹ جمع کرا دی گئی ہے۔ عدالت کے حکم پر بھیجی گئی ویڈیو کلپس کی فرانزک ایجنسی (PFSA) لاہور اور نادرا کی جانب سے تفصیلی سائنسی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیس کا پانسا پلٹ گیا ہے۔ جدید تکنیکی ذرائع سے حاصل ہونے والے شواہد اور بائیو میٹرک تصدیق کی روشنی میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزرا کامران بنگش اور تیمور سلیم جھگڑا سمیت پی ٹی آئی پشاور کے صدر عرفان سلیم اور عامر خان چمکنی کے ہنگامہ آرائی میں ملوث ہونے اور موقع پر موجودگی کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان پشاور نے بھی سائنسی شہادتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا حتمی بیان ریکارڈ کرا دیا ہے جس میں ان شخصیات کے حملے میں ملوث ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تمام نامزد افراد کا پروانہ نامزدگی جاری کر کے ان کے نام باقاعدہ کیس فائل (مشل) میں شامل کر دیے ہیں، جس کے بعد ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں نامزد ملزمان کی کل تعداد اب بڑھ کر 80 ہو گئی ہے۔
9 مئی ریڈیو پاکستان پشاور حملہ کیس
وزیراعلی سہیل آفریدی سزا ملنے کے بعد نہ صرف نااہل ہو سکتے ہیں بلکہ ان کی حکومت بھی ختم ہوگی
سہیل آفریدی کو نواز شریف کی طرح تاحیات نااہل قرار دیا جاسکتا ہے
پشاور پولیس کی تحقیقاتی آفیسر نے وزیراعلی سہیل آفریدی، سابق وزرا تیمور سلیم جھگرا، کامران بنگش، عرفان سلیم اور عامر چمکنی کو مقدمہ میں نامزد کرتے ہوئے رپورٹ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمع کرا دی