مریم نواز نے تمام DC لیول پر واٹس گروپ بناۓ ہیں اور ان کو وہاں پر ہدایات کرتی ہیں: کوثر کاظمی
یہ ان کا کام نہیں ہے: فیصل چوہدری
وہ ستھرا پنجاب والوں کےساتھ بھی واٹس ایپ گروپ میں لگی رہتی ہیں: کوثر کاظمی
یہ کام وزیراعلی کے نہیں ہیں نواز شریف کے فرسودہ نظام سے نکلیں: فیصل چوہدری
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت میں تاخیر کا مقدمہ، سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ میں کیا ہوا؟ مکمل احوال ذیل ہے:
صبح 9 بج کر 50 منٹ پر مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا تو سپریم کورٹ کے بنچ نمبر 5 میں تل دھرنے کی جگہ نا تھی، یورپی یونین کے رکن، اہلخانہ، سول سوسائٹی، وکلاء اور صحافی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔۔ سماعت کے آغاز ہی میں ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے 3 رکنی بنچ، جس کی سربراہی جسٹس شاہد وحید کر رہے تھے، ساتھ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شفیع صدیقی موجود تھے، کو بتایا کہ دو درخواست آپ کے سامنے زیر التوا ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ مقدمے کو لٹکا رہا ہے، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف Sham Trial چلا اور سزا ہوئی!
جسٹس شاہد وحید نے کہا بے شک جھوٹا ٹرائل ہو گا لیکن ابھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس زیر التوا ہے،نوٹس جاری ہو چکا ہے
فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا مخصوص حالات میں ریلیف کا راستہ نکل سکتا ہے، میں 60 دن کے انتظار کے بعد آپ کے سامنے آج پیش ہو رہا ہوں، ایمان مزاری کو فروری میں سزا ہوئی، دو مرتبہ جسٹس ڈوگر کے سامنے میری جلد سماعت کی درخواست گئی لیکن انہوں نے مسترد کر دی کہ یہ کیس تو پہلے سے زیر التوا ہے، میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے
جسٹس شاہد وحید نے سوال کیا کہ کیا آپ خوش ہوں گے کہ ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کو کیس سننے کے احکامات دے دیں، ابھی آپ کے خلاف ہائیکورٹ سے کوئی متضاد فیصلہ نہیں آیا، ابھی آپ کی سزا معطلی کی درخواست زیر التوا ہے
جسٹس شفیع صدیقی نے ریمارکس دیے ہم نے قانون کے مطابق چلنا ہے، فی الحال سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار نہیں کہ سزا معطلی پر فیصلہ کرے، اگر ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کو احکامات دے دیں کہ وہ مرکزی اپیل پر فیصلہ کر دیں؟
فیصل صدیقی نے کہا میرا سزا معطلی کا حق مرکزی اپیل سے پہلے ہے
جسٹس شاہد وحید نے کہا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کو 2 ہفتے میں فیصلے کا حکم دے دیتے ہیں
فیصل صدیقی نے کہا 2 ہفتے نہیں 7 دن میں فیصلہ کرنے کے احکامات دیں بہت تاخیر ہو چکی!
جسٹس نعیم اختر افغان نے بنچ کے سربراہ جسٹس شاہد وحید کے کان میں سرگوشی کی اور پھر ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کو ضابطہ فوجداری سیکشن 426 پڑھنے کا حکم دیا، فیصل صدیقی نے کہا میرا یہ مدعا نہیں ہے لیکن پڑھنے پر اصرار کیا گیا!
فیصل صدیقی نے سیکشن 426 پڑھا جس کے مطابق اگر سزا معطلی کی درخواست میں قانونی تاخیر ہو اور سزا کا دورانیہ 7 سال سے زیادہ ہو تو سزا یافتہ شخص 2 سال بعد ضمانت کا حقدار ہو سکتا ہے
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا آپ کو تو ابھی درخواست دائر کیے 60 دن ہوئے ہیں
فیصل صدیقی نے کہا 60 دن ہوئے لیکن میں تو قانونی تاخیر کی بنیاد پر ضمانت کا تقاضہ نہیں کر رہا، بلکہ میری درخواست تو حالات کا عبوری جائزہ اور ایمان مزاری/ہادی علی چٹھہ کو دی گئی سزا میں شکوک و شبہات کی بنیاد پر ضمانت کا ہے
جسٹس شفیع صدیقی نے کہا یہ تعین تو اسلام آباد ہائیکورٹ کرے گی کہ فیصلہ درست تھا یا غلط!
جسٹس شاہد وحید نے کہا سپریم کورٹ براہراست میرٹس پر نہیں جا سکتی!
فیصل صدیقی نے کہا اسلام آباد میں یہی عدالت بچی ہے میں اور کہاں جاوں؟
جسٹس شاہد وحید نے کہا دو راستے ہیں:
اول یہ کہ ہم درخواست نمٹا دیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ کو احکامات دے دیں کہ دو ہفتے میں فیصلہ کرے
دوم یہ کہ ہم درخواست زیر التوا رکھ کر اسلام آباد ہائیکورٹ کو حکم دے دیں کہ دو ہفتے میں فیصلہ کرے
فیصل صدیقی نے کہا کہ دوسرا آپشن ٹھیک ہے، یقین ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ درخواستیں مسترد ہی کرے گی لیکن کم از کم فیصلہ تو دے، سپریم کورٹ کا "سایہ" ہو گا تو فیصلہ ہو جائے گا
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا اب دو سائے ہیں، ایک سپریم کورٹ اور دوسرا وفاقی آئینی عدالت، تمام وکلاء جا کر آئینی عدالت میں بھی پیش ہوتے ہیں، پارلیمنٹ نے یہ عدالت بنائی ہے اس کا احترام ہونا چاہیے!
فیصلہ لکھوایا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ دو ہفتے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت کا فیصلہ کرے، اور سماعت ملتوی کی گئی
آخر میں جسٹس شفیع صدیقی نے فیصل صدیقی ایڈووکیٹ کو مخاطب کر کے کہا آپ نے ائیر ٹائم زیادہ لے لیا آج!
فیصل صدیقی بولے ایمان میری بہن کی طرح ہے سر، یہ وقت بھی اس کے لیے کم ہے
جسٹس شاہد وحید نے کہا سب سے پہلے ایمان مزاری اس ملک کی بیٹی ہے!
#releaseimaanandhadi
ایک صوبے کا وزیرِ اعلیٰ سٹیڈیم میں اسمبلی کا اجلاس بلا رہا ہے، یہ کونسی عقل کی بات ہے؟ (جن پہ عدم اعتماد کیا ہے) انکی شکلیں ہیں انقلاب لانے والی؟ انکو شرم نہیں آتی یہ کر کیا رہے ہیں؟
حکومتی بے توجہی اور غفلت کے باعث عمران خان صاحب کی بینائی کو مستقل بنیادوں پہ نقصان پہنچ چُکاہے۔ انکی صحت تقاضا کرتی ہے کہ انکو بہتر علاج کے لئے فوری طور پہ ہسپتال منتقل کیا جائے۔
اللہ کے فضل سے پاکستان کو جنگ روکنے کی عظیم کامیابی ملی ہے۔ سیاست سے بالاتر ہو کے اس کامیابی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے پہ پہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور حکومت کو مبارک۔ ہمارے ملک سے دنیا بھر کو امن کا پیغام گیا ہے۔ اللہ پاک اس امن و سلامتی کو دائم قائم رکھیں۔ پاکستان زندہ آباد۔
پنجاب حکومت گیارہ ارب والا جحاز واپس کر دے میں مجھے جو فیسیس حکومت پنجاب نے دی ہیں وہ واپس کر دیتا ہوں۔ آپ اس حکومت کے بارے لوگوں کی رائے لیں تو وہ کیا کچھ کہتے ہیں۔ اینکر “وہ جو کہتے ہیں وہ ٹی وی پہ چلا نہیں سکتے،”
عالیہ حمزہ آپا ایک نظریاتی اور دلیر سیاسی رہنماء ہیں۔ انکی کی دوبارہ گرفتاری تحریکِ انصاف کے لئے بڑا دھچکا ہے۔ عالیہ آپا نے جعلی مقدمات میں سزاؤں کے باوجود بھی عمران خان صاحب کے نظریے کا بھرپور ساتھ دیا اور پارٹی کو متحرک رکھا۔ اڈیالہ کے باہر جس طریقے سے انہوں نے شدید مشکلات اور تکالیف کے دوران بھی اپنا فرض نبھایااسکی کوئی مثال نہیں ہے۔
عالیہ حمزہ کو نو مئی کے بعد انکی جوان بچیوں کے سامنے انکے کمرے سے مرد اہلکاروں نے بغیر دوپٹے سے گھسیٹتے ہوئےگرفتار کیا تھا۔ وہ منظر ابھی بھی نظروں کو بھولے نہیں۔ اللہ انکی حفاظت فرمائے۔
@ImranKhanPTI@aliya_hamza@PTIofficial@malikimran_tv
https://t.co/0Ht4JX8qNm.
In Islamabad last July I met Faisal Fareed Chaudhry, who had been, until earlier that year, a senior member of Imran’s legal team. His brother Fawad was a minister in Imran’s government. There’s some sourness around the situation of the services Chaudhry now offers, but he remains a staunch defender of Imran.
Chaudhry told me Imran was in a “death cell”, though it wasn’t clear whether he was speaking literally or figuratively. There were basic facilities, such as a TV, two newspapers (Dawn and the Express Tribune) and books. Access to visitors was broadly restrictive and tightly controlled.
میری رائے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ گو کہ حکومتی صوابدیدی اختیارات پہ قدغن نہیں لگاتا لیکن تین نقاط اہم ہیں۔۔۔
پہلا۔ میڈیکل بورڈ میں پہلے سے موجود دو ڈاکٹرز کے علاوہ مزید ڈاکٹرز کو شامل کرنے کا کہاگیا ہے۔ عمران خان صاحب کے زاتی معالجین کی شمولیت کا انکار نہیں کیا گیا ہے۔
دوسرا۔ اگر میڈیکل بورڈ عمران خان صاحب کو ہسپتال منتقل کرنے کی رائے دیتا ہے۔ تو فیصلے کے مطابق جیل رولز کے مطابق فیملی کو مطلع کیا جانا ضروری ہو گا۔
تیسرا۔ اگر خاندان کی ملاقاتیں ہونی ہیں تو مارچ 2024 میں دیے گئے تین رکنی بنچ کے فیصلے میں ٹحریکِ انصاف کےجنرل سیکریٹری کی طرف سے دی گئی یقین دہانی (ملاقات کے بعد سیاسی گفتگو سے احتراض) پہ عملدرآمد یقینی بنانا ہو گا۔