امریکہ کے صدر نے دھمکی آمیز زبان استعمال کی اور ایران کی قوم سے کہتا ہے کہ
“آو میرے آگے سرتسلیمِ خم کرو”
سب سے پہلے تو دھمکی اسے دیں جو انکی دھمکیوں سے ڈرتا ہو۔سورہ آل عمران ۱۳۹
“اور کمزور نہ پڑو اور غم نہ کرو اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو “
شہید سید آیت اللہ خامنہ ائ
پاکستان تحریک انصاف ڈیرہ غازی خان
ایم پی اے اخلاق احمد خان بڈانی کی طرف سے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان پر ردعمل
عمران خان 25 کروڑ عوام کا لیڈر ہے
فوج کا ایسا بیان انتہائی شرمناک ہے
ادارہ سیاست سے ہٹ کر بارڈر کی حفاظت کرے
پاکستانی عوام عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے
“جعلی پارلیمنٹ کے ذریعے چھبیسویں کے بعد ستائیسویں ترمیم لانے کا تکلف کرنے کی بجائے کھل کر “بادشاہت” ڈکلئیر کر دینی چاہییے، کیونکہ ملک پر اس وقت مکمل طور پر ڈکٹیٹرشپ مسلط ہے-
پاکستان کی بنیاد “لا الہ الا اللہ” ہے- یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزادی دیتا ہے- پاکستان کو بڑی قربانیاں دے کر انگریز سے آزاد کروایا گیا تاکہ ایک ایسا ملک بنے جہاں ہر شہری کو شخصی آزادی حاصل ہو- مگر یہاں حالات بالکل برعکس ہیں اور ��یک مافیا پوری قوم کو غلامی میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ میں جیل کی کال کوٹھڑی میں رہ لوں گا لیکن غلامی قبول نہیں کروں گا۔ میرا تمام لوگوں کو پیغام ہے کہ سب کو ایسی غلامی پر قید کو ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ جب ہم باہر آزاد ہی نہیں ہیں تو پھر ایسی رہائی کا کیا فائدہ؟ علامہ اقبال کا شاہین اونچا اڑتا ہے، وہ کسی کا غلام بن کر نہیں رہتا-
پوری قوم خصوصاً تحریک انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز کو پیغام دیتا ہوں کہ عاشوراء کے بعد ملک میں جاری ظلم کے نظام کے خلاف تحریک کا آغاز کریں۔ میرے لیے اس غلامی کے نظام کو قبول کرنے سے بہتر موت ہے۔
میری آواز ہر طرح سے دبائی جا رہی ہے تا کہ لوگوں تک میرا پیغام نہ پہنچ سکے اور جبر کے خلاف کوئی کھڑا ہونے والا نہ بچے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا- ا��ر میرا اپنے رب پر یقین ہے کہ پاکستان سے ظلم کا سایہ جلد ختم ہو گا-
جمہوریت میں چار چیزوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے: ووٹ کا حق، قانون کی حکمرانی، اخلاقیات اور ��زاد میڈیا- چھبیسویں آئینی ترمیم نے ان چاروں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے-
۱: ووٹ کا حق: جب ایک ڈکٹیٹر آتا ہے تو اسے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہ ڈنڈے کے زور پر ملک چلاتا ہے- جس طرح فارم 47 والی اسمبلیاں بنائی گئیں اور اب مخصوص نشستیں بانٹی گئیں اس سے عوام کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
۲: قانون کی حکمرانی: عدلیہ کو حکومت کے ایک ذیلی محکمے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ عدالتیں اپنی مرضی کے ججز سے بھر دی گئی ہیں اور آزاد ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے ہیں- ایسا صرف مارشل لاء میں ہی ہوتا ہے۔
۳: معاشرے کی اخلاقیات: اس ترمیم سے معاشرے میں اخلاقیات دفن کر دی گئی ہیں۔ اسمبلیوں میں ایسے لوگ بٹھا دئیے گئے ہیں جو عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں- ارکان اسمبلی کی کھلے عام خرید و فروخت جاری ہے- اور عدلیہ بھی اسی مافیا کے انگوٹھے کے نیچے ہے-
۴: آزاد میڈیا: ڈکٹیٹرشپ میں میڈیا کو مکمل طور پر زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ آزادی اظہار رائے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ آزاد صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور باقیوں کو خرید لیا گیا ہے-
احتجاج بنیادی جمہوری اور آئینی حق ہے- لیکن پنجاب اسمبلی میں احتجاج کرنے والے ہمارے 26 اراکین اسمبلی کو معطل کر دیا گیا- احمد بھچر اور تحریک انصاف کے ایم پی ایز شاباش کے مستحق ہیں جنہوں نے فرعونوں کو چیلنج کیا- جب تک ہمارے 26 ارکان بحال نہیں ہوتے ہمارے اراکین اپنی اسمبلی باہر لگا لیں- فارم 47 کی دو نمبر اسمبلیاں ویسے بھی عوام کی نمائندہ ہی نہیں ہیں- “
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ سے گفتگو (یکم جولائی، ۲۰۲۵)
“رجیم چینج کے بعد سے پاکستان میں مہنگائی کا جن بے قابو ہے۔ یہ بات تکلیف دہ ہے کہ اس مرتبہ صاحبِ حیثیت لوگوں کے پاس بھی ایک بکرے کی قربانی کرنے کی سکت تک موجود نہیں تھی، انھوں نے مشکل سے سنت ابراہیمی کی تکمیل کی۔ غریب طبقے کی کمر تو پہلی ہی توڑی جا چکی ہے۔
اب یہ جعلی حکومت بجٹ پیش کرنے لگی ہے جو عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دے گا۔ اس بجٹ میں پھر سے دو طبقات کچل دیئے جائیں گے ایک ملازم پیشہ افراد اور دوسرا کسان۔ اس جعلی حکومت نے زرعی معیشت اور کسان کی کمر توڑ دی ہے۔کسی زرعی ملک میں کسان کے بدحال ہونے کا مطلب یہی ہے کہ وہاں بے روزگاری میں اضافہ اور قوت خرید میں کمی واقع ہو گی۔ انڈسٹری پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہے۔
چھبیسویں ترمیم کے بعد اب ستائیسویں ترمیم لانے کی تیاری ہے تاکہ انصاف مکمل طور پر دفن کر دیا جائے اور عوام مزید مایوس ہو جائیں۔ پہلے دن سے ان کا مقصد ہمیں خوفزدہ کرنا اور عوام کی آواز کو دبانا ہے۔ اسی لیے نو مئی کروایا گیا۔ مجھے کہا جاتا ہے ۹ مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا مطالبہ نہ کروں اور نو مئی کی ذمہ داری قبول کر لوں اور اس 17 سیٹوں والی جعلی فارم 47 کی حکومت کو مان لوں۔ میری ساری جدوجہد کا مقصد ہی قانون اور آئین کی بالادستی ہے۔
ہمارے سارے آئینی و قانونی راستے بند کر دیئے ہیں اس لئے میں نے پارٹی کو ملک گیر تحریک کی تیاری کی ہدایت دے دی ہے۔
مینڈیٹ میرا نہیں آپ کا چھینا گیا ہے، آپ سب کو اس تحریک میں شامل ہونا ہو گا۔ آزادی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی اس کے لیے بحیثیت قوم جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔
پاکستانی عوام نے تحریک انصاف کے منشور اور نظریہ کو دیکھتے ہوئے ہمیں ووٹ دیئے اور خیبر پختونخواہ میں ہماری جو حکومت بنی ہے وہ پورے پاکستان میں پی ٹی آئی کی نمائندگی کرتی ہے۔ میں نے علی امین کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ میری مشاورت کے بغیر خیبر پختونخوا کا بجٹ پیش نہیں ہو گا-“
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو۔۔۔ ۱۰جون ۲۰۲۵
“Pakistan does not have a hybrid system, rather a brutal martial law: a complete dictatorship. A clear manifestation of this was President Trump choosing to meet Asim Munir instead of Shehbaz Sharif or Zardari because he knows that Asim Munir holds all the power. That is also why I have always said that negotiations should be with the ones who hold power.
The loss of innocent lives in drone attacks in areas of Khyber Pakhtunkhwa is extremely tragic. I have protested and marched all over the world against American drone attacks in Pakistan and my stance on this issue is clear and well known. Every time innocent people are killed, terrorism increases. The Khyber Pakhtunkhwa government should register criminal cases (FIRs) against those responsible for these drone attacks.
The people of Khyber Pakhtunkhwa placed their trust in me through their votes. That is why I had instructed that Ali Amin, Muzzammil Aslam, Omar Ayub, Shibli Faraz, and Taimur Jhagra must brief me on the budget before its passage. Prior to approving the budget, Ali Amin and the KP government should have approached the Supreme Court and stated unequivocally that the party leading the province is headed by Imran Khan, and it is from him that guidance on budgetary matters must be sought, without which even the IMF will not accept the budget.
I issue a clear directive once again: the Khyber Pakhtunkhwa government must petition the Supreme Court. This budget is not final. My designated consultative team must meet with me, and the budget should only be passed after incorporating the amendments that I specify.
While other provincial governments are not presenting surplus budgets, offering a surplus from Khyber Pakhtunkhwa's funds serves only to benefit the illegitimate federal government. I will not allow the people of KP to be harmed under any circumstances.
In these difficult times, when mainstream media has either been gagged or bought out, I commend the role of social media for continuing to raise the voice of truth. It is thanks to social media that the voice of the people remains alive.”
Chairman Pakistan Tehreek-e-Insaf, Imran Khan, speaking to family members at Adiala Jail - June 24, 2025
ہمارے والد نے اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت پاکستان میں گزارا - ہم سے دور ۔ اس لیے نہیں کہ اُنہیں ایسا کرنا پڑا، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے ایک کرپٹ نظام کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔
وہ ہر روز ہمارے ساتھ ایک باپ کے طور پر موجود نہیں تھے، لیکن پاکستان کے لیے وہ ہمیشہ ایک رہنما بن کر کھڑے رہے۔ انہوں نے اس ملک کو سب کچھ دیا: اسپتال، یونیورسٹیاں، اور انصاف کی ایک تحریک۔
انہیں پیشکش ہوئی کہ وہ اپنی باقی زندگی سکون سے گزاریں - ہمارے ساتھ انگلینڈ میں چہل قدمی کریں یا کرکٹ کھیلی��۔
لیکن انہوں نے اس کے بجائے ایک اندھیری قید میں بند رہنے کو چُنا۔
اُن کی قربانی پاکستان کے لیے ہے۔
اُن کی طاقت - پاکستان کی عوام ہے۔