عمران خان نے ٹھیک کہا تھا میں تو برداشت کر لوں گا لیکن آپ برداشت نہیں کر سکیں گے۔ آج پنجاب میں جعلی حکومت نے غریب کے لیے حلال روزی کمانا بھی مشکل کر دی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں جنگ سے پہلے کی قیمتیں اور حکومت کا صرف ایک روپے ستانوے پیسے کی کمی کا اعلان ۔۔ افسوسناک، شرمناک، عوام دشمن فیصلہ۔
حکومت پٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی نہ کرکے عوام کے حق پر ڈاکہ مار رہی ہے،
۔۔عیاشیاں اور نااہلی حکمرانوں کی،
۔۔ایف بی آر کرپشن کا اڈہ،
۔۔اور لیوی بھتہ ٹیکس غریب اور مڈل کلاس عوام سے!
۔۔ یہ اب نہیں چلے گا،عوام کو اپنا حق لینے کے لیے سڑکوں پر آنا ہوگا، اگلے 48 گھنٹے میں ملک گیر مظاہروں کا اعلان کریں گے
اگر واقعی عمران خان کو تمام سہولیات میسر ہیں، تو پھر وہ کیسی سہولیات ہیں جن کے دوران ان کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہو گئی؟
دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی مثال ملے جہاں ایک سزا یافتہ قیدی، نواز شریف کی طرح، جیل سے براہِ راست بیرونِ ملک روانہ کیا گیا ہو۔
دوسری جانب عمران خان نے کوئی غیرمعمولی سہولت نہیں مانگی، بلکہ صرف یہ مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اپنے ذاتی معالج سے طبی معائنہ اور علاج کروانے کی اجازت دی جائے۔
اڈیالہ جیل میں نواز شریف، شہباز شریف، مریم، زرداری، پرویز الٰہی، اور شیخ رشید بھی رہے، لیکن کسی بھی سیاستدان کو اتنے برے حال میں نہیں رکھا گیا جتنے برے حال میں عمران خان کو رکھا گیا ہے!, لیکن پھر بھی عمران خان کوئی ڈیل نہیں مان رہا اور ڈٹا ہوا ہے اپنی قوم کےلئے!حامد میر۔
عمران خان کی جیل میں بیماری کی وجہ سے ایک آنکھ کی بینائی چلی گئی،
اور چیف جسٹس بے شرموں کی طرح قیدیوں کے حقوق پر کانفرنس کر رہے ہیں،
سہیل آفریدی نے چیف جسٹس سمیت سب کو آئینہ دیکھا دیا ہے،
انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ کو بھی شرم آنی چاہیے، مطیع اللہ جان
شوکت نواز جیسے بہادر کم ہی ہونگے
علم کی روشنی، ادب کا سحر، ہنر کی مہارت، دانش کی گہرائی، رکھنے والا شوکت نواز میر بنیادی حقوق کے لیے اپنی لڑائی خوب لڑ گیا
مشہور انقلابی چی گویرا جب مخالف فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوا تو اس کی مخبری ایک مقامی چرواہے نے کی تھی جب چرواہے سے پوچھا گیا کہ تم نے اس شخص کی مخبری کیوں کی، جبکہ وہ تو تمہارے حق اور بہتر مستقبل کے لیے جان پر کھیل رہا تھا؟ تو چرواہے نے سادہ مگر دل چیر دینے والا جواب دیا: "اس لیے جناب، کیونکہ باغیوں کی گولیوں کی آواز سے میری بکریاں ڈر جاتی ہیں!بس یہی تاریخ آج دھیرکوٹ سنگڑہ بٹھارہ میں دہرائی گئی، فرق صرف یہ ہے شوکت صاحب نہتے تھے اور مخبر کے پاس بکریاں نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات تھے۔
ایکشن کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر، اور صعیب جاوید جو عوام کے حقوق، انصاف اور بہتر مستقبل کی جنگ لڑ رہے تھے، انہیں آج گرفتار کر لیا گیا۔ وہ جو اپنوں کی آواز بننے نکلے تھے، اپنوں ہی کی خاموشی اور غداری کا نشانہ بن گئے۔تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں ایسے "چرواہے" موجود رہے ہیں جو اپنی چھوٹی سی مصلحت کی خاطر بڑے مقصد کا سودا کر دیتے ہیں۔ مگر یہ بھی تاریخ کا سبق ہے کہ عوام حوصلہ رکھیں سچائی اور قربانی کی آواز کبھی دب نہیں سکتی۔ایک آواز دبائی جا سکتی ہے، عزم نہیں۔ ایک شخص پکڑا جا سکتا ہے، تحریک نہیں شوکت نواز میر اکیلے نہیں، پوری قوم انکے ساتھ ہے۔فتح حق کی ہوگی، ان شاء اللہ۔ ✊