لاہور کے پرانے شہر میں اسلم نام کا ایک مشہور تالا ساز رہتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ اگر دنیا کا کوئی تالا بند ہو جائے تو اسلم اسے کھول سکتا ہے۔ اس کے ہاتھ کی بنی چابیاں پورے شہر میں مشہور تھیں۔
مگر قسمت کا عجیب کھیل دیکھیے...
نوّے سال کی عمر میں جب اسلم بسترِ مرگ پر پڑا تھا، اس کے بیٹے اس کے گرد بیٹھے رو رہے تھے۔ سانسیں ٹوٹ رہی تھیں اور زندگی کی کتاب اپنے آخری صفحے پر پہنچ چکی تھی۔
اچانک اسلم نے کانپتے ہاتھ سے اپنے بستر کے نیچے رکھا ایک پرانا صندوق کھولنے کا اشارہ کیا۔
صندوق کھولا گیا تو اندر کپڑوں اور کاغذوں کے نیچے ایک زنگ آلود چابی پڑی تھی۔
بیٹے نے حیرت سے پوچھا:
"ابا جان! یہ کس تالے کی چابی ہے؟ ہم نے تو اسے کبھی نہیں دیکھا۔"
اسلم کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے۔
وہ لرزتی آواز میں بولا:
"بیٹا... یہ کسی لوہے کے تالے کی نہیں... میرے دل کے تالے کی چابی ہے۔"
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
اسلم نے بھاری سانس لی اور ماضی کا دروازہ کھول دیا۔
"جوانی میں میرا اپنے سگے بھائی سے زمین کا جھگڑا ہو گیا تھا۔ انا اتنی بڑی ہو گئی کہ خون کا رشتہ بھی چھوٹا لگنے لگا۔ بات عدالتوں تک پہنچ گئی۔"
"ایک دن وہ خود میرے پاس آیا، آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: 'اسلم! دنیا چند دن کی ہے، آؤ سب بھلا کر گلے لگ جائیں۔'"
اسلم کی آواز رندھ گئی۔
"مگر میں نے اسے دھتکار دیا۔ میری انا جیت گئی... اور میرا بھائی ہار گیا۔"
کمرے میں بیٹھے سب لوگ خاموش تھے۔
اسلم نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا:
"اسی رات اسے دل کا دورہ پڑا۔ لوگ کہتے ہیں مرتے وقت بھی وہ میرا نام لے رہا تھا..."
یہ کہتے ہی اسلم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
"اس دن کے بعد میں نے اپنے دل پر ایسا تالا لگا لیا جس کی چابی بھی خود سے چھپا دی۔"
"میں دوسروں کے تالے کھولتا رہا... لیکن اپنے دل کا تالا کبھی نہ کھول سکا۔"
پھر اس نے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور کہا:
"آج موت سرہانے کھڑی ہے تو سمجھ آیا ہے کہ دنیا کا ہر تالا کھل سکتا ہے... مگر جو دل نفرت، انا اور ضد کے تالے میں بند ہو جائے، وہ انسان کو زندہ بھی قیدی رکھتا ہے اور مرنے کے بعد بھی۔"
اس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ زنگ آلود چابی بیٹے کے حوالے کر دی۔
چند لمحے بعد اس کی سانس رک گئی...
بیٹے نے روتے ہوئے چابی کو غور سے دیکھا۔
چابی پر چھوٹے چھوٹے الفاظ کندہ تھے:
"معاف کر دو"
اور شاید یہی وہ چابی تھی جسے اسلم پوری زندگی استعمال نہ کر سکا۔
سبق
نفرت دل کو جلاتی ہے، انا رشتوں کو مار دیتی ہے، اور کینہ انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
معاف کر دینا کمزوری نہیں، دل کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
یاد رکھو...
بعض لوگ قبر میں نہیں مرتے، وہ تو اُس دن مر جاتے ہیں جب معاف کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
@itsmyliffe2004 Y sift Kisi Kisi main pi jati hy, aor Allah ki ata Hoti hy, waldaain KY genes ka aser bhi tabiyet main shamil HOTA Hy, is liye Sara cradet aoret ko dyna na insafi ho gi