پاکستان میں مڈل کلاس کے اقتدار کے علاوہ اب کوئی اور چارہ نہیں۔ ضرورت ہے کہ ایک ایسی جماعت بنائی جائے جو میرٹ اور انٹرنل الیکشن کے ذریعے مڈل کلاس کے لوگوں کو قابلیت کی بنیاد پر آگے لائے، وہ جماعت کسی ایک شخص یا خاندان کی نہیں بلکہ پاکستان کے لوگوں کی ملکیت ہو۔
#PakistanNeedsAwaamRaaj
عوام راج تحریک غربت اور استحصال کے خاتمے کا مکمل روڈ میپ پیش کر رہی ہے۔۔۔ مڈل کلاس اور غریب لوگوں کو سیاست اور معیشت میں برابر کا حصہ دینے کا سنہرا خواب اپنی تعبیر کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آج نہیں تو کل، غریب کے آنگن میں بھی خوشحالی کا سورج ضرور طلوع ہو گا۔
عوام راج زندہ باد
گذشتہ روز تونسہ اور وہوا میں عوام راج تحریک کے ورکرز کنونشن۔۔۔ اسٹیج کے دائیں جانب، آڈیو والے کے پیچھے کی خالی کرسیاں دکھا کر یوٹیوبرز نے خوب ہنگامہ کیا لیکن یہ یاد رکھیں تین مہینے پہلے شروع ہونے والی مڈل کلاس کے اقتدار کی تحریک پنجاب کے آخری ضلعے اور آخری تحصیل میں بھی منظم ہو رہی ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ عوامی اجتماعات نہیں ہیں۔ انشاء اللہ جب عوام راج تحریک جلسے کرے گی، تو تاریخ رقم ہو گی۔ عام آدمی کا راج پورے زور و شور سے لگے گا۔۔۔
ملائیشیا، کوالالمپور میں پاکستانیوں کی محبت اور استقبال ۔۔۔ مڈل کلاس نوجوانوں اور عوام لوگوں کو برسرِاقتدار لانے کی تحریک اب پاکستان کے ساتھ ساتھ اوورسیز پاکستانیوں تک پہنچ رہی ہے۔۔۔ انشاء اللہ عوام کا راج لگنے والا ہے۔
لوگ چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے وڈیروں کے ڈیروں پر ذلیل ہوتے رہیں اس لیے نواز شریف، زرداری اور عمران خان سمیت کسی جمہوریت کے چیمپئن نے بھی آج تک بلدیاتی نظام مضبوط نہیں ہونے دیا۔ انشاء اللہ عوام راج میں بلدیاتی نمائندہ وزیراعظم سے زیادہ طاقت ور ہو گا۔ تعلیم، صحت، ڈویلپمنٹ، پولیس اور مقامی ٹیکسز سمیت ہر چیز پر گلی محلے کے منتخب نمائندے کا اختیار ہو گا۔
سوال یہ ہے کہ عام آدمی کا وقت کب آئے گا؟ امیرزادوں کے اقتدار کے آپس کے کھیل میں اٹھہتر سال میں اس ملک کی مڈل کلاس کا کیا فائدہ ہوا؟ شخصیات کی خواہشِ اقتدار اور امر ہو جانے کی تمنا میں کیا غریب کے بچے کی روٹی پوری ہونا شروع ہوئی؟
عام آدمی کی زندگی تب بدلے گی جب عوام راج لگے لگا۔
@NaureenJanjua موصوفہ کو یہ بھی پتہ نہیں کہ انہوں نے اپنی پروفائل میں بدقسمتی سے جرنلسٹ لکھا ہے تو اتنی تحقیق کی زحمت تو کر لیں کہ سید اقرار الحسن کبھی وزیراعظم کے عہدے کا امیدوار نہ ہے اور نہ ہوگا
اسکاٹ لینڈ کے وزیرِاعظم کا سرکاری گھر دیکھئے اور پاکستان میں مغلئی طرز کے ایوانِ وزیراعظم اور صدارتی محل پر نظر ڈالیے، آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ہم آج تک جمہوریت کے نام پر شہنشاہوں کو پالتے رہےہیں۔۔۔ پاکستان میں جب تک ایک عام آدمی کو اقتدار میں لانے والی سیاسی جماعت وجود میں نہیں آئے گی تب تک سیاسی اور فوجی اشرافیہ اسی طرح آپ کا استحصال کرتی رہے گی۔۔۔
@iqrarulhassan پاکستان میں اندرونی جمہوریت والی جماعت نہ بنانے کی کوئی دلیل نہیں دنیا کی مضبوط سیاست وہ ہے جہاں لیڈر مدت کے ساتھ بدلیں اور فیصلے کمیٹیاں کریں ہمارا مسئلہ دلیل نہیں نیت ہے جو جمہوریت کا نعرہ لگاتے ہیں مگر پارٹیوں کو جاگیر بنا رکھتے ہیں پاکستان کو شخصیات نہیں سسٹم والی جماعت چاہیے
@iqrarulhassan نظام صرف بولنے سے نہیں بدلتا، اور بندوق سے کبھی ٹھیک نہیں ہوتا۔
پائیدار تبدیلی تب آتی ہے جب قوم مل کر نیا، منظم اور جمہوری نظام کھڑا کرے۔
شخصیات یا خاندان نہیں اصولوں پر چلنے والی مضبوط سیاسی جماعت ہی اصل حل ہے۔
کیا نظام کے خلاف بولنے سے نظام ٹھیک ہو گا؟
کیا نظام کے خلاف بندوق اُٹھا کر نظام ٹھیک ہو گا؟
یا
نظام کے خلاف ایک نظام بنا کر نظام ٹھیک کیا جا سکتا ہے؟
ہمارا پیغام ہے کہ قوم مل کر اپنا ایک نظام یعنی جمہوری سیاسی جماعت بنائے اور شخصیات یا خاندانوں کی بجائے اُس نظام کو مضبوط کرے۔
یاد رکھئیے ایک شخصیت سے جڑے لوگوں کی مزاحمت کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ہمیشہ ایک نظرئیے سے جڑے لوگوں کی مزاحمت کامیاب ہوتی ہے۔
اور ہم پاکستان کے نوجوانوں کو کسی شخصیت کی بجائے نظریے سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
@iqrarulhassan یہ لوگ ابھی اتنا تڑپ رہے ہیں تو سوچیں جب اپ تحریک کے نام کا اعلان کریں گے، آن لائن اور آن گراؤنڈ رجسٹریشن شروع کریں گے۔ تب ان سیاسی آمریتوں اور بادشاہتوں کا کیا حال ہو گا؟ بس چند دن اور انشاء اللہ۔۔ پھر ہماری تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گی۔