اگر میں کہوں پاکستان کے غیر معمولی حالات ہیں اور ان سے مقابلہ کرنے کے لئے lifetime commitment کی ضرورت ہے تو تم میں سے کتنے اپنی personal life ترک کر کے صرف اور صرف پاکستان کے لئے مختص ہو جائیں ، تو تم میں سے کتنے عمل کریں گے ۔
اصولی طور پر تو بدعنوان لوگوں سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہئے، لیکن اگر نیازی کو اس مولوی اور اچکزئی کے ساتھ کوئی تعلق رکھتے ہوئے عار محسوس نہیں ہوئی تو بہتر تھا فوجیوں کو برداشت کر کے ان کی چالاکی کا توڑ نکالتا
ابھی تو یہ ہنس رہے ہیں کہ دونوں کو لڑا کر دونوں کو بیوقوف بنا رہے ہیں
کنجرفیملی کا ایک نوجوان اپنے دوستوں کے طعنوں سے تنگ آ کر ایک دن گھر آیا اور اپنے گھر کی دیواروں کو ٹکریں مارنا شروع کر دی۔
ٹکر مارنے کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کہتا جا رہا تھا،
"میں نے آج یہ کنجرخانہ گرا کر ہی دم لینا ہے ۔ ۔"
وہاں صحن میں اس کا بوڑھا باپ بیٹھا تھا جس نے بڑی محنت سے یہ کنجر خانہ تعمیر کیا تھا اور اپنے گھر کی خواتین کی دلالی کی تھی۔
اس نے جب اپنے نوجوان لیکن نادان بیٹے کو یہ کہتے سنا تو بھاگا بھاگا گھر کی دیوار کے سامنے آ گیا اور دونوں ہاتھ جوڑ کر اپنے بیٹے سے کہنے لگا:
"بیٹا، اگر تم نے یہ کنجر خانہ گرا دیا تو خود بھی بھوکے مرو گے اور ہمیں بھی بھوکا مارو گے۔ محنت اور حق حلال کی کمائی کی نہ ہمیں عادت ہے اور نہ ہی ہمارے نصیب میں ہے، بہتر ہوگا کہ اس کنجر خانے کو یونہی چلنے دو۔"
کچھ عرصہ قبل مشہور صحافی عارف نظامی نے اندر کی خبر دی تھی کہ پانامہ لیکس کے بعد جب نواز شریف بہت زیادہ دباؤ میں آ گیا اور اس نے لندن میں علاج کے بہانے زرداری سے ملاقات کرکے مدد مانگنی چاہی تو زرداری نے نواز شریف سے ملنے سے انکار کر دیا۔
جس ہوٹل میں زرداری ٹھہرا تھا، نواز شریف وہاں کافی پینے کے بہانے چلا گیا لیکن اس کی آمد سے چند منٹ پہلے ہی زرداری وہاں سے نکل گیا کیونکہ وہ نوازشریف سے ناراض تھا کہ وہ رینجرز کے خلاف زرداری کی مدد نہ کر سکا۔
عارف نظامی بتاتا ہے کہ پھر نواز شریف نے مدد کے لئے ایک بیچ والے شخص کو درمیان میں ڈالا۔
یہ کوئی اور نہیں بلکہ مولانا فضل الرحمان صاحب تھے جو چند مہینے پہلے ایک وی آئی پی فلائیٹ سے رات کے اندھیرے میں لندن گئے تھے،
وہاں زرداری صاحب سے ملاقات کی تھی اور اسے اس بات پر راضی کیا تھا کہ وہ نواز شریف سے ناراضگی ختم کر دے اور بدلے میں کچھ نئی مراعات حاصل کر لے۔
27 دسمبر کو زرداری صاح�� نے جلسے میں حکومت کے خلاف اہم فیصلہ کرنا تھا اور اس دن بھی مولانا فضل الرحمان صبح صبح زرداری کے در پر حاضر ہوئے اور اسے سمجھا دیا۔ پھر زرداری صاحب صرف اپنی اور بلاول کی قومی اسمبلی میں واپسی کے اعلان پر اکتفا کر گیا۔
دیکھا جائے تو اب زرداری اور شریف ��یملی کی سیاسی پارٹیاں بھی ایک لحاظ سے کنجروں کا ٹولہ بن چکی ہیں جو صرف دکھانے کے لیئے آپس میں لڑتے ہیں اور اپنے کوٹھے کی دیواروں کو مصنوعی ٹکریں مار کر کہتے ہیں۔
کہ وہ اس کنجر خانے کو گرا دیں گے لیکن بات جب سنجیدہ ہونے لگتی ہے تو کوئی بڑا کنجر اپنی مشہور دلالی کے دلائل لے کر صلح کے لئے آ جاتا ہے
اور ہاتھ جوڑ کر دونوں سے کہتا ہے کہ اگر تمہاری لڑائی کی وجہ سے اس کنجر خانے ( یعنی نام نہاد جمہوریت) کو کوئی نقصان ہہنچا تو ہم سب بھوکے مر جائیں گے ۔ ۔ ۔
اور وجہ اس کی بھی وہی ہے جو پوسٹ کے شروع میں اس بوڑھے کنجر نے کہی تھی کہ حق حلال اور محنت کی کمائی ان کنجروں کے ن��یب میں نہیں۔ ۔ ۔
ان کے پیٹ دلالی سے ہی بھرتے ہیں!!!"
منقول 😳
کیا یہ محض اتفاق ہے کہ نیازی کا تقریبا ہر انتخاب الٹا پڑ جاتا ہے. یا تو اسکی فہم فراصت ناقص ہے، یا اگر اسے 14، 24 یا 30 کروڑ لوگوں میں قابل لوگ نہیں مل سکے تو ایسے لوگوں کے لئے اتنی تکلیف میں پڑنے کی ضرورت ہی نہیں تھی
عمران خان کی جیب میں کچھ کھوٹے سِکے ہیں یہ تو معلوم تھا، لیکن اتنے زیادہ ہیں یہ کبھی اندازہ نہ تھا، اب پتہ نہیں یہ عمران خان کی بدقسمتی ہے یا سِکوں کی۔۔
اصول نہیں ہیں، ذات کا غرور چل رہا ہے نیازی کا بھی اور دوسری طرف کے لوگوں کا بھی - نیازی کو بھی جب وقت یا موقع ملا وہ مغرور تھا لیکن صرف عام لوگوں کے لئے طاقتور سے دبتا تھا اور عام آدمی کے مسائل اس کی ترجیحات میں شامل نہیں تھے
لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کان��تے ہیں۔ ہم نے یہ سب کچھ کیسے ہونے دیا۔ اور انہوں نے یہ کیسے کیا۔ اور جو وہ کرنے والے ہیں وہ کیسے کریں گے۔ اس ملک سے اتنی بڑی دشمنی، اتنی بڑی غداری!
When, whoever from outside us stood upto us imperialism, was a victim of this oppression, americans never really felt concerned enough to change it. Maybe some american would be still in denial, but many of you are going to realize sooner or later.
https://t.co/NNiqVi8osZ
With ice, americans are getting a taste of what it is like living under a regime of oppression with many such regimes propped up by usa. The most likely example is Palestinians, but there are others too.
One has to wonder, ceo of the one of the largest market capitalization companies on earth, got so much time to do political commentary on twitter. Or if he has hired someone for such role.
Also it tells about his keen interest in presiding over global affairs.
When you were extended hospitality, he was not in charge. And mainly it were people who accommodated, political and military mafia allowed because they were interested in dollars. So it were people, not politics or military even in the past.
In Pakistan we trust. A neighbour, a brother and the one who always extended their hand and help in our hard times; accommodated our 4 million people for 45 years without any visa. No one can do this, I repeat no country could be that kind to Afghans and Khorasanis. Afghans are ungrateful, but Tajiks, Uzbek, Hazara, and Baloch are not.. Thank you
اچھا چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ تم لوگ اپنی کم عقلی کے باعث نتائج کی سنگینی سے ناواقف تھے ۔ کیا اب تم اپنی کم عقلی اور نا لائقی کا اعتراف کرتے ہو ؟ یہ بھی اعتراف کرتے ہو کہ نیازی کا وہ اقدام غلط تھا ؟
جب لندن والے گنجے کو چھوڑنے کی کوشش ہو رہی تھی اور نیازی کو احت��اب سے زیادہ کرسی سے دلچسپی تھی ، کوئی شخص ایسا بھی تھا جس نے مجھ سے زیادہ گنجے کی رہائی کی مخالفت کی ہو ؟ یا پھر کسی نے گنجے کو چھوڑنے کے انجام پر اس طرح سے خبردار کیا ہو جیسے میں نے کیا تھا ؟
عمران احمد نیازی نے جتنا بھی غلط یا غیر قانونی کیا ہو وہ اس سے زیادہ نہیں جو دوسری طرف کے مجرم لوگ اس پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں ۔ اس تعصب ، جانبداری اور نا انصافی کی نشاندہی یا اس کو زیر بحث لانے کی بجائے یا نیازی کی رہائی کی ڈیمانڈ کی بجائے جب بات نیازی سے ملاقات تک محدود ہو جائے
یہ اپنے بیٹے کو بچا کر اپنے لئے بھی جہنم خرید رہا ہے ۔ اچھا ہے کہ اس کا بیٹا اس کے دردناک انجام کا سبب بنے اور یہ اس کی اپنے بیٹے کی تربیت کرنے کا صلہ ہو گا ۔
لیکن کسی مسلمان کہلانے والے کے لئے شرم کا مقام ہے کہ خلیفہ عمر نے موقع پر ہی ��یٹے کو سزا دی اور وہ وفات پا گیا ۔ی
بچیاں چل بسیں.....!
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد آصف ریکی کے بیٹے نے رات کے 1:30 بجے سیکرٹریٹ میٹرو اسٹیشن، اسلام آباد کے قریب 2 بچیوں بلتستان کی معصوم بیٹی تابندہ بتول اور اس کی سہیلی کو کچلا، پولیس پہنچ گئی مگر بگڑے نواب کو گرفتار نہیں کیا گیا، پھر تھوڑی دیر بعد جسٹس محمد آصف ریکی بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور اطلاعات کے مطابق بچے کو گھر بھیج دیا گیا حیران کن طور پر 15 سے 20 منٹ گزر گئے ایمبولینس نہیں پہنچ سکی، ہسپتال لیکر جایا گیا تو دوسری بچی بھی دم توڑ گئی یوں بگڑے نواب کی گرفتاری رات کے 4 بجے کے بعد عمل میں لائی گئی اوروہ بھی فرمائشی گرفتاری۔
جسٹس محمد آصف ریکی کے بیٹے سے جس وقت ایکسیڈنٹ ہوا تو وہ تنہا نہیں تھا بلکہ دو دوست بھی ہمراہ تھے، پولیس نے جج صاحب کے بیٹے کو گرفتار نہیں کیا کیونکہ اس نے پہلے ہی بتا دیا کہ وہ "جج کا بیٹا" ہے اور جسٹس آصف موقع پر خود پہنچے بیٹے کو گھر بھیجا، اس کے دوستوں کو بھگایا اور کمزور ایف آئی آر کے بعد صبح بیٹے کو پولیس کے حوالے کیا، باقی دونوں دوستوں کا ایف آئی آر میں تذکرہ ہے نا پولیس نے کیا۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ جس وقت جج صاحب موقع پر پہنچے ایک لڑکی دم توڑ چکی تھی جبکہ دوسری کی سانسیں چل رہی تھیں، لیکن ایمبولینس تاخیر سے آنے کی وجہ سے دونوں وفات پا گئیں لیکن جج صاحب نے اپنے بیٹے کو فرار کرا کر معاملہ سنبھالنا بہتر جانا۔
#پاکستان_کی_کہانی
ملک میں جو حالات چل رہے ہیں اس کا ایک سبب لوگوں کا بغض اور جانبدرانہ سوچ بھی ہے اور یہ میں ان لوگوں کی بات کر رہا ہوں جو سمجھتے ہیں کہ وہ صحیح سوچتے سمجھتے ہیں اور بھلائی کی نیت رکھتے ہیں ۔ سب سے زیادہ ایک کمنٹ جو پاکستان میں ہونے والے معمولات پر کرتے ہیں کہ ایک بندہ نے کہا تھا
کو درست کرنے میں نہ اس کی دلچسپی ہو گی اور نہ ہی اس کے اندر اس کام کے لئے جگرا ہے ۔
اور تم منافقت کرنے والے اس وقت بھی پولیس گردی عدالت گردی پر ایسے ہی بات کرتے تو شاید کوئی credibility ہوتی ، تم منافق ہو ۔ جبکہ تم لوگوں کو یاد ہو گا کہ میں انہی وجوہات کی بنا پر اس وقت بھی