السَّلامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِاللّٰهِ، السَّلامُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ رَسُولِ اللّٰهِ
سلام ہو آپ پر اے ابا عبد اللہ، سلام ہو آپ پر اے رسول خدا کے فرزند
مکینو کلمہ پڑھو انحرافِ بیعت کا
بس اپنے اپنے سروں کی اماں کے مطلوبو
بڑی خموشی سے نظمِ طرب سناتا ہوا
انھیں بلاتا ہوا آسماں کو جاتا ہوا
درود پڑھتا ہوا اور سلام کرتا ہوا
دھواں،
کواڑ کے جلنے سے اٹھنے والا دھواں
یا زہرا سلام اللہ علیہ
درود پڑھتا ہوا اور سلام کرتا ہوا
سلیقے سے ادب آداب سے قرینے سے
درونِ دل سبھی اذنِ دخول پڑھتا ہوا
جدارِ بیتِ شرف سے لپٹ کے روتا ہوا
پریشاں مسجد و گنبد کی سمت بڑھتا ہوا
تمام شہر کو جور وجفا سناتا ہوا
کُھلَو اے شہرِ مقدس کے بند دروازو
"میں خود کو لکھوں گی"
اگر موقع ملا کبھی،
تو کاغذ پہ اپنی تھکان لکھوں گی،
ان مضبوط کندھوں کے پیچھے چھپا وہ چھوٹا سا انسان لکھوں گی،
وہ جو ہر مشکل میں مسکرا کہتی ہے "سب ٹھیک ہے"
اس ایک جھوٹ کے پیچھے دبے،
ہزاروں بے بس طوفان لکھوں گی، لکھوں گی وہ راتیں،
نقوش یاد کرو جن سے شکل ابھرتی ہے
حروف درج کرو جن سے نام بنتا ہے
شجر کی اوٹ سے وہ جھانکتا ہوا سورج
عجب نظارہ بچھڑنے کی شام بنتا ہے
چلوں تو عمر گزر جائے تجھ تک آنے میں
گنوں تو فاصلہ دو چار گام بنتا ہے🖤
خرم آفاق
تنہائی اِس قدر ہے کہ عادت سی ہو گئی
ہر وقت کہتے رہنا ہمارا کوئی تو ہو
۔
کچھ اِس لیے بھی مجھ کو محبت ہے تم سے دوست
میرا کوئی نہیں ہے __________ تمہارا کوئی تو ہو
۔