اس انٹرویو میں امریکی عہدیدار پاکستان سے منرلز نکالنے کی بات کر رہی ہے۔ انکی پوری سٹڈی اور تیاری ہے۔
اب یہ کونسے منرلز نکالنا چاہتے ہیں یہ سمجھنے کے لیے آپ اس انٹرویو کا 40 سیکنڈ بعد والا حصہ سنیے۔
یہاں یہ خاتون ایک نیا ایکو سسٹم ڈویلپ اور تربیت یافتہ ورکرز اور ٹریننگ کی بات کر رہی ہیں۔ یہ چیزیں صاف بتاتی ہیں کہ اب امریکی کمپنیاں پاکستان سے ریئر ارتھ منرلز نکالنا چاہتی ہیں جن کو نکالنے سے بدترین تابکاری پیدا ہوتی ہے اور پورا ایکو سسٹم حتیٰ کہ پورا ماحول اور نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ امریکہ نے دنیا کے کئی ملکوں سے یہ منرلز نکالنے کو کوشش کی مگر وہاں کی عوام اور عالمی تنظیمیں راستے میں آگئیں۔ اب انکی نظر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود منرلز پر ہے۔ ایک بات یاد رہے کہ امریکہ کو سپر پاور برقرار رہنے کے لیے یہ منرلز ہر حال میں چاہئیں اور یہی منرلز امریکہ میں وافر مقدار میں موجود ہونے کے باوجود وہاں سے تابکاری خطرات کی وجہ سے نہیں نکالے جا رہے۔ امریکی عوام اسکی شدید مخالف ہے۔ مگر پاکستان میں اب یہ بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے باقی تفصیلات وی لاگ میں۔۔۔
گن پوائنٹ پر ایک کمرے میں لے جا کر اسکا ریپ کر ڈالتا ہے.
جسٹس بابر ستار کا دبنگ فیصلہ
رات کے نو بجے اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ایک گھر پر بیس سالہ عینی ابھی جاگ رہی ہے کیونکہ اسکے والدین اسکے چھوٹے بیمار بھائی کو ہسپتال لیکر گئے ہوئے ہیں، باقی چھوٹے بہن بھائی گھر کے ایک کمرے میں سو رہے ہیں۔ اچانک دروازے پر دستک ہوتی ہے، عینی کے پوچھنے پر آواز آتی ہے کہ میں آپکا ہمسایہ شہزاد ہوں پانی چاہیے۔
عینی نے دروازہ کھولا تو شہزاد اسے گن پوائنٹ پر ایک کمرے میں لے جا کر اسکا ریپ کر ڈالتا ہے۔ جاتے ہوئے شہزاد کہتا ہے کہ اگر اس وقوعے بارے تم نے کسی کو بتایا تو تم اس کے سخت نتائج بھگتو گی عینی کسی کو نہیں بتاتی لیکن وہ حاملہ ہوجاتی ہے۔
آٹھ ماہ گزرنے کے بعد عینی کے والدین کو بھی پتہ چل جاتا ہے۔ عینی ساری حقیقت انہیں بتا دیتی ہے۔ اسکے والدین ایک جرگہ شہزاد کے گھر بھجواتے ہیں کہ اس سے شادی کرلو تاکہ خاندان کی کچھ عزت باقی رہ جائے، شہزاد انکار کردیتا ہے کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔
مجبوراً عینی کے والدین شہزاد کیخلاف ریپ کی ایف آئی آر درج کروا دیتے ہیں۔ اسکے کچھ ہی دن بعد عینی ایک بچی کو جنم دیتی ہے۔ پولیس عینی کا میڈیکل کرواتی ہے، شہزاد کو گرفتار کرتی ہے اور بچی کے پیدائش کے
بعد شہزاد اور بچی کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرواتی ہے۔ میڈیکل میں خاتون کے جسم پر کسی مزاحمت و تشدد کے آثار تو نہیں ملتے البتہ ڈی این رپورٹ بتاتی ہے کہ 99.99 فیصد امکان ہے کہ شہزاد ہی بچی کا باپ ہے۔
مقامی سیشن کورٹ میں مقدمہ چلتا ہے، مدعی فریق نے عینی سمیت 8 گواہ پیش کیے ، ملزم یہ موقف اپناتا ہے کہ اس نے عینی کے ساتھ کچھ نہیں کیا، یہ بچی کسی اور شخص کی ہے مجھ پر یہ مقدمہ اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ میں بلیک میل ہوکر اس سے شادی کرلوں۔ مکمل ٹرائل کے بعد سیشن کورٹ شہزاد کو 14 سال قید با مشقت اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سناتی ہے۔ شہزاد سزا کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کر دیتا ہے۔
اپیل میں شہزاد کی طرف سے دلائل دیے جاتے ہیں کہ ایف آئی آر آٹھ ماہ کی تاخیر سے درج ہوئی، وقوعے کے حوالے سے صرف متاثرہ لڑکی کا بیان موجود ہے، کوئی دیگر گواہ نہیں۔ میڈیکل رپورٹ میں عینی کے جسم پر کسی تشدد یا مزاحمت کے نشانات نہیں ہیں، جس کا مطلب ریپ اگر ہوا ہے تو اس میں لڑکی کی رضامندی شامل تھی۔ اگر زبردستی ہوئی تو لڑکی نے شور کیوں نہیں کیا جس سے سوئے ہوئے اس کے چھوٹے بہن بھائی جاگ جاتے۔ جرگے کے ارکان یا لڑکی کے والدین بطور گواہ عدالت نہیں آئے۔
ہائیکورٹ میں اس اپیل کو ڈویژن بنچ نے سنا اور جسٹس بابر ستار نے 31 صفحات پر مبنی فیصلہ تحریر کیا۔ عدالت
نے کیس کا تفصیلی جائزہ لیا اور ملزم کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کو پاکستان کے علاوہ انڈیا اور مغربی ممالک کی جیورس پروڈنس کی روشنی میں ایڈریس کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ وقوعے کو آٹھ ماہ بعد رپورٹ کیے جانے کی وجہ معاشرتی شرم اور بدنامی ہے، 90 فیصد ریپ کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے، اس لیے تاخیر سے شک نہیں کیا جاسکتا، یہاں بھی اگر لڑکی حاملہ نہ ہوتی تو یہ کیس بھی رپورٹ نہیں ہوتا۔ متاثرہ لڑکی کے جسم پر تشدد کے نشانات کا پایا جانا ریپ کا لازمی جزو نہیں ہے، عورت کا ریپ میں خود کو سرنڈر کردینا، رضامندی نہیں بلکہ خوف یا صدمے کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے ۔ مزید یہ کہ ملزم نے نچلی عدالت میں رضامندی کا دفاع (موقف) نہیں لیا بلکہ انکار کیا لیکن ڈی این اے ٹیسٹ وقوعہ سچ ثابت ہوا۔ سب سے اہم عدالت نے یہ قرار دیا کہ ریپ کے مقدمات میں اگر اکیلی متاثرہ عورت کی گواہی کی تصدیق میڈیکل شہادت سے ہو رہی ہو تو کسی دیگر گواه کی ضرورت نہیں رہتی۔ یوں ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کی دی ہوئی سزا کو برقرار رکھتے ہوئے ملزم شہزاد کی اپیل خارج کردی
پاکستان میں بدقسمتی سے ریپ کیسز میں سزا کی شرحفقط 5 فیصد ہے، اس تناظر میں آئندہ کیلئے یہ فیصلہ مفید اور اہم عدالتی نظیر ثابت ہوگا۔