جس طرح کی طِبی دہشت گردی عمران خان کے ساتھ کی گئی، اور اس پر جیسے ان کے ذاتی معالجین اور فیملی کے بغیر جو عسکری رپورٹس میڈیا پر چلائی گئیں اس سے مزید تشویش ناک صورت حال جنم لے رہی ہے۔ عمران خان اس وقت ریاست کی تحویل میں ہیں جہاں مسل��ل اُن کی زندگی سے کھیلا جا رہا ہے۔ آخر کس چیز کو چھپایا جا رہا ہے؟
کنٹرولڈ چیک اپ، کنٹرولڈ انفارمیشن، کنٹرولڈ میڈیا ۔ جس سے زندگی کو خطرہ ہے، جن کی وجہ سے اس نہج پر پہنچے ان ہی کی بات پر یقین کیا جائے؟
اس سے قبل عمران خان پر وزیرآباد میں قاتلانہ حملہ کروایا گیا ان کو گولیاں لگیں، اللہ نے اُن کی زندگی کی حفاظت کی لیکن اس وقت بھی بیانیے بنائے گئے، لمحوں میں آئی ایس آئی نے میڈیا کو ویڈیو بیانات بھجوانا شروع کر دئیے۔
فوجی قیادت کے کہنے پر آئی ایس آئی نے ایک افغانی کو خان صاحب کو مارنے کا ٹاسک دیا، جب میں نے پریس کانفرنس میں اس سازش کا پردہ فاش کیا تو آئی ایس آئی اسلام آباد سیکٹر نے پریس کلب میں ایک افغانی کی پریس کانفرنس رکھوائی اور شام کو پرائم ٹائم ٹی وی پروگرام میں بیانیے کے لیے بھجوایا گیا۔ میں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا، مگر یہ جانتے تھے کس کا ذکر ہورہا ہے۔
صوابی میں ہیلی کاپٹر گرانے کا پلان اکسپوز ہوا جس کے لیے ڈبل ایجنٹ ہائیر کیا گیا تھا، جو بعد میں مارا گیا۔ اس کے بعد ہیلی کاپٹر میں غلط فیول بھروایا گیا اور رپورٹ آج تک سامنے نہ آسکی۔ اٹھارہ مارچ کو ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا اور جب ناکام ہوا تو پولیس افسر کو گالیاں دی گئیں کہ عمران خان کیسے بچ کر نکل گیا۔اس کے علاوہ متعدد کوششیں ہوئیں۔
گزشتہ تین سال سے عمران خان جیل میں ہیں اور مسلسل ان کی صحت کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ عسکری خبریں چلوانے والا میڈیا یہ کیوں بُھول رہا ہے کہ آپ پاکستان کے سب سے عظیم بیٹے عمران خان کی زندگی س�� کھیلنے میں حصہ دار بن رہے ہو؟ عمران خان کی صحت کے حوالے سے سوال اٹھانے کو سیاست کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟ کیوں ان کے ڈاکٹرز سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں ان کی فیملی سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں انہیں ہسپتال نہیں منتقل کیا جا رہا؟
آخر ایسا کیا گیا ہے جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
ہاں خان صاحب نے جب جیل میں عاصم لاء اور ذہنی مریض کا ذکر کیا تو عاصم منیر نے سب کے سامنے کہا کہ عاصم لاء ہے تو ہے، اب بتاتا ہوں عاصم لاء اور ذہنی مریض کیا ہوتا ہے۔
اسی غصے میں ڈی چوک میں خون ریزی کا اقبال جرم کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بتایا تھا سنگجانی سے آگے مت بڑھو، کیا اکھاڑ لیا صرف ہم سے لوگ ہی مروائے نا۔ ”پھر کوشش کریں اسلام آباد آنے کی، اس دفعہ اٹک پل پر کھڑے ہوکر ماریں گے، ویسے بھی ڈی چوک میں مروا تو دئیے“۔
تو کیا اس غصے میں ہی کچھ ایسا کیا گیا ہے، جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
بریکنگ نیوز 🚨
جین alpha کی ڈاکومنٹری جاری🔥
عمران خان کے بارے ڈاکومنٹری, آپ لوگ اسکو ضرور سنیں, بڑے بڑے دانشوروں کو پیچھے چھوڑ دیا!!
عمران خان تین نسلوں کا لیڈر, عاصم منیر!
Reality Check
کیا عمران خان رہا ہونے والا ہے؟
نہیں ہرگز نہیں۔
کیا عمران خان کو کسی ہسپتال شفٹ کردیا جائےگا؟
نوےفیصد امکان ہے نہیں۔ یوں کہہ لیں کہ شاید شاید شاید ایک آدھ مرتبہ لیجایا جائے یا علاج کے لیے لیجایا اور واپس لایا جائے لیکن مستقل ہر گز نہیں۔
کیا واقعی کوئی بہت بڑا احتجاج ہورہا ہے؟
نہیں گزشتہ رات تک جو کچھ تھا وہ چند سو لوگوں کا احتجاج تھا۔ جتنے لوگ ڈی آئی خان یا صوابی موجود ہیں اس سے کہیں زیادہ مریدکے میں تھے ڈی چوک میں تھے فوج نے بے رحمی سے کچل دیے۔ اب بھی فوج آسانی کیساتھ یہ کرسکتی ہے۔فوج سے خوش فہمی یا اچھے کی توقع رکھنے والے لوگ بددماغ ہیں یا پھر فوج کے اپنے ایجنٹ۔ زرا سا دباؤ بڑھا یا تماشا طویل ہوا تو فوج ��ہی کرے گی جو فوج نے ڈی چوک میں کیا مریدکے میں کیا۔
کیا موجودہ احتجاج فوج کو دباؤ میں لاسکتا ہے؟
فوج کی ایک تاریخ ہے۔ تین سال میں عاصم منیر کی پالیسیوں سے تین ہزار اہلکار مرے انکے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ بلوچستان میں فوج کے قافلے سخت سیکیورٹی کے حصار میں چلتے ہیں ، وہاں کی بلوچ آبادی کی اکثریت فوج سے اتنی نفرت کرتی ہے جتنی بنگالی کرتے تھے۔ اگر یہ حالات فوج کو دباؤ میں نہیں لا پائے تو دو پلوں کی بندش اور چند سو لوگوں کا احتجاج فوج کو دباؤ میں لے آئے گا؟
کیا فوج کو عمران خان سے کوئی ہمدردی ہے؟
ہرگز نہیں ! فوج کے فیصلہ ساز یعنی موجودہ قیادت کو عمران خان سے کوئی ہمد��دی نہیں۔ کیونکہ وہ عمران خان کو اپنا دشمن سمجھتے بھی ہیں اور اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ ابھی چند ہفتے قبل فوج کے تھری سٹار جنرل نے اس کا میڈیا کے سامنے کھڑے ہو کر اظہار کیا۔
موجودہ احتجاج کا نتیجہ کیا نکلے گا؟
سیاست کے سوالات بہت پیچیدہ ہوتے ہیں۔ انکے جوابات ریاضی کی طرح دو جمع دو نہیں ہوتے۔ اگر یہ احتجاج طویل ہوتا ہے تو امریکہ اور دنیا کے سامنے عاصم منیر کے آپٹکس خراب ، اگر کچلتا ہے تو بھی خراب۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ یہ رسک ایک بہت بڑی بلا سے توجہ ہٹانے کے لیے لیا گیا ہے۔ غزہ فوج بھیجنا اور پاک فوج کا وہاں جا کر حماس سے لڑنا مذاق نہیں ہے۔ یہ فوج کے اٹھہتر سال بیانیے کو ان دنوں میں زمین میں گاڑ دے گا جن دنوں فوج کی مقبولیت اپنی بدترین سطح پر ہے۔
کیا ادارہ ہذا مایوسی پھیلا رہا ہے؟
نہیں ! حقیقت کا ادراک رکھنا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ غیر ضروری ، غیر حقیقی توقعات باندھے بغیر حقیقت کا سامنا کیا جائے۔ اگر اپنی پوزیشن ہی معلوم نہیں ہوگی تو دشمن کو شکست دینے کا سوچا بھی کیسے جاسکتا ہے۔
پھر کیا ہوگا؟
جو رب کو منظور ہوگا وہی ہوگا۔ دشمن بے رحم بھی ہے اور ناقابل اعتبار بھی۔ فوج کے فیصلہ سازوں کو علم ہے کہ عمران خان کی کامیابی کا مطلب انکی موت ہے۔ ہم ایک طویل جدوجہد میں اترے ہیں۔ اس کا نتیجہ چند دنوں یا چند ہفتوں میں نہیں آنے والا۔ سال بھی لگ سکتے ہیں اور دہائیاں بھی۔ یہی دنیا کی تاریخ ہے۔
کیا فوج کو کبھی ��کست نہیں ہوگی؟
اس دل توڑتی ہوئی پوسٹ میں واحد امید افزاء بات یہ ہے کہ فوج کے چار سال سے پاؤں کہیں نہیں جمے۔ فوج کو ہر جگہ ناکامی ہوئی۔ فوج نے ہر لحاظ سے یہ ملک برباد کردیا اور مستقبل قریب تو چھوڑ دور دور تک فوج کے سنبھلنے کے کوئی آثار نہیں۔ فوج عمران خان کو زندہ رکھے ، مار دے ، ہسپتال لیجائے ، نا لیجائے ، ادھر سے توجہ ادھر کروائے یا ادھر سے توجہ ادھر کروائے فوج کے مقدر میں انجام لکھ دیا گیا۔ فوج کی ہر دن نمودار ہونے والی ناکامیاں ہمارے طویل سفر کو ہر دن مختصر کریں گی۔
اللہ نے انسان کے ہاتھ میں نیت اور کوشش دی ہے کامیابی وہ دیتا ہے!
وما علینا
انصاف سٹوڈنٹس فیڈرشن نے لاہور کے سینٹر سے لاھور کی مرکزی شاہراہ کینال روڈ کو ٹائیرز کو آگ لگا کر مکمل جام کر کے ایک بار پھر دفعہ 804 نافذ کر دیا۔
#ComeToStreetsForKhan
بختاور بی بی نے ٹویٹ کی ، برا کیا، کرکے ڈیلیٹ کردی مزید برا کردیا۔ ہمیں کسی کے نجی معاملات میں ہر گز ٹانگ نہیں اڑانی چاہیے۔ کسی کی شادی ، افئیر کچھ بھی گفتگو کا موضوع نہیں ہونا چاہیے۔ گند کے جواب میں گند کی بھی کوئی دلیل کوئی وضاحت نہیں کہ جیسا منہ ویسی چپیڑ۔ منہ اگلے کا ہا��ھ تو اپنے۔
شریف خاندان نے یا بھٹو خاندان نے جو جیلیں کاٹیں وہ عمران خان کی جیل سے بہت مختلف ہیں۔ عمران خان کو ذہنی و جسمانی ہر طرح کی اذیت دی جارہی ہے اور اسی سطح کے دیگر رہنماؤں کو ہر طرح کی ذہنی و جسمانی راحت میسر۔ پھر جب کوئی اس قدر تضاد کے باوجود ڈی��گیں مارے تو اسے صرف وہ تاریخی یاددہانی کروائی گئی جو اسکی بیٹی نے بھی تسلیم کی۔
بلاشبہ عمران خان پر اس قدر ستم اس لیے ہیں کہ عمران خان نے سسٹم کے اندر ہاتھ ڈالا کر ہلایا ہے۔ دو سو ارب ڈالرز کی بزنس ایمپائر کے وجود کو چیلنج کیا ہے۔ اٹھہتر سال کی حکمرانی کا رستہ روکا ہے اور یہ سب اینٹ سے اینٹ بجانے کے خیالی دعوے نہیں تھے۔ دوسری طرف یہ دو خاندان ہر وقت مفاہمت ، فرار اور ڈیل کے لیے تیار بیٹھے رہے۔
بھٹو اور شریف خاندان کی پہلی سیاسی رونمائی ہی براہ راست حکومت میں ہوئی اور آمروں کی بدولت ہوئی۔ عمران خان نے بائیس سال محنت کی۔ ان دو نے ہر فوجی جرنیل سے کچھ نا کچھ مفاہمت ک��۔ عمران خان کی حکومت اور اسکے بعد دو ہی آئے دونوں عمران خان کی جان کے دشمن۔ اور ویسے جعلی نشستوں پر صدر ، وزیراعظم اور وزیراعلی بننے کے بعد تو ان کا عمران خان سے کوئی موازنہ بنتا ہی نہیں۔
وجاہت خان کا قوم کے نام پیغام 🛑
آپ ایک آنکھ پر ہاتھ رکھ کر بتائیں, آپکی ایک آنکھ سے نظر چلی جاتی ہے, غفور انجم کو ہٹایا جاتا ہے, اسکے بعد دوسرا آتا ہے، وہ 10 دن لیتا ہے, پھر اپکو ہاسپٹل لیں جایا جاتا ہے!!
یہ میڈیکل سٹوری نہیں, اخلاقیات کی سٹوری ہے، عاصم منیر نے اخلاقیات تباہ کردئیے
Pakistan’s Supreme Court has ordered an urgent medical review for former PM Imran Khan after reports emerged that he has lost 85% of the vision in his right eye due to medical neglect in prison https://t.co/PqVAfObLb5
لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران جرمن سفیر سے مباحثے میں ایک طالب علم نے پاکستان میں معذور بچوں کے علاج سے متعلق ان کے بیان کی اخلاقیات پر سوال اٹھایا اور ساتھ ہی غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی حمایت کا الزام بھی جرمنی پر لگایا۔ بعد میں طالب علم نعرے لگاتے ہوئے ہال سے نکل گئے۔
Dr. Asim Yousaf confirms Imran Khan has central retinal vein occlusion, a serious eye condition that can cause permanent vision loss. Although an eye injection was administered, test results are missing, there is no evidence of review by a retinal specialist, no clear follow-up plan, and no assessment of underlying medical causes.
Dr. Yousaf warns that Khan is not out of danger and urgently calls for access for himself and qualified retinal specialists to ensure proper treatment.
#FreeImranKhan
#AsimLaw